تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

سوموار، 6 اپریل، 2015

قربانی کا گوشت

          ۱:… قربانی کا گوشت اگر کئی آدمیوں کے درمیان مشترک ہو تو اس کو اَٹکل سے تقسیم کرنا جائز نہیں، بلکہ خوب احتیاط سے تول کر برابر حصہ کرنا دُرست ہے۔ ہاں! اگر کسی کے حصے میں سر اور پاوٴں لگادئیے جائیں تو اس کے وزن کے حصے میں کمی جائز ہے۔
          ۲:… قربانی کا گوشت خود کھائے، دوست احباب میں تقسیم کرے، غریب مسکینوں کو دے، اور بہتر یہ ہے کہ اس کے تین حصے کرے، ایک اپنے لئے، ایک دوست احباب، عزیز و اقارب کو ہدیہ دینے کے لئے اور ایک ضرورت مند ناداروں میں تقسیم کرنے کے لئے۔ الغرض کم از کم تہائی حصہ خیرات کردے، لیکن اگر کسی نے تہائی سے کم گوشت خیرات کیا، باقی سب کھالیا یا عزیز و اقارب کو دے دے تب بھی گناہ نہیں۔
          ۳:… قربانی کی کھال اپنے استعمال کے لئے رکھ سکتا ہے، کسی کو ہدیہ بھی کرسکتا ہے، لیکن اگر اس کو فروخت کردیا تو اس کے پیسے نہ خود استعمال کرسکتا ہے، نہ کسی غنی کو دینا جائز ہے، بلکہ کسی غریب پر صدقہ کردینا واجب ہے۔
          ۴:… قربانی کی کھال کے پیسے مسجد کی مرمت میں یا کسی اور نیک کام میں لگانا جائز نہیں، بلکہ کسی غریب کو ان کا مالک بنادینا ضروری ہے۔
          ۵:… قربانی کی کھال یا اس کی رقم کسی ایسی جماعت یا انجمن کو دینا دُرست نہیں جس کے بارے میں اندیشہ ہو کہ وہ مستحقین کو نہیں دیں گے، بلکہ جماعتی پروگراموں مثلاً کتابوں اور رسالوں کی طباعت و اشاعت، شفاخانوں کی تعمیر، کارکنوں کی تنخواہ وغیرہ میں خرچ کریں گے، کیونکہ اس رقم کا کسی فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے، البتہ ایسے ادارے کو دینا دُرست ہے جو واقعی مستحقین میں تقسیم کرے۔
          ۶:… قربانی کے جانور کا دُودھ نکال کر استعمال کرنا، یا اس کی پشم اُتارنا دُرست نہیں، اگر اس کی ضرورت ہو تو وہ رقم صدقہ کردینی چاہئے۔
          ۷:… قربانی کے جانور کی جھول اور رَسّی بھی صدقہ کردینی چاہئے۔
          ۸:… قربانی کی کھال یا گوشت قصاب کو اُجرت میں دینا جائز نہیں۔
          ۹:… اسی طرح امام یا موٴذّن کو بطورِ اُجرت دینا بھی دُرست نہیں۔

Post Top Ad

loading...