تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

سوموار، 6 اپریل، 2015

کسی دُوسرے کی طرف سے قربانی کرنا

          ۱:… قربانی میں نیابت جائز ہے، یعنی جس شخص کے ذمہ قربانی واجب ہے اگر اس کی اجازت سے یا حکم سے دُوسرے شخص نے اس کی طرف سے قربانی کردی تو جائز ہے، لیکن اگر کسی شخص کے حکم کے بغیر اس کی طرف سے قربانی کی تو قربانی نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو اس کے حکم کے بغیر شریک کیا گیا تو کسی کی بھی قربانی جائز نہیں ہوگی۔
          ۲:… آدمی کے ذمہ اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرنا ضروری نہیں، اگر اولاد بالغ اور مال دار ہو تو خود کرے۔
          ۳:… اسی طرح مرد کے ذمہ بیوی کی جانب سے قربانی کرنا لازم نہیں، اگر بیوی صاحبِ نصاب ہو تو اس کے لئے الگ قربانی کا انتظام کیا جائے۔
          ۴:… جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہو وہ اپنی واجب قربانی کے علاوہ اپنے مرحوم والدین اور دیگر بزرگوں کی طرف سے بھی قربانی کرے، اس کا بڑا اَجر و ثواب ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے بھی ہم پر بڑے احسانات اور حقوق ہیں، اللہ تعالیٰ نے گنجائش دی ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی قربانی کی جائے، مگر اپنی واجب قربانی لازم ہے، اس کو چھوڑنا جائز نہیں۔

Post Top Ad

loading...