تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

منگل، 14 اپریل، 2015

فیصلہ

فیصلہ
کوئی مجھے سمجھائے کہ اکتوبر 2005ء کے دوسرے ہفتے میں سعودی ٹیلیویژن ریاض کے احاطے میں ٹاور کے سائے میں بے چین اور اداس شہریوں کا ہجوم کیا کرتا رہا تھا۔
مرد کیوں سامنے بیٹھے ٹی وی اناؤنسر کے سامنے اپنی جیبیں خالی کر رہے تھے، اس کے سامنے میز پر نقدی کے ڈھیر لگا رہے تھے۔ کیوں ننھی ننھی سعودی بچیاں ہاتھوں میں کھلونے اٹھائے وہاں تھیں اور کیوں وہ کھلونے سامنے بنے  سامان کے ڈھیر پر رکھ رہی تھیں۔
کوئی مجھے سمجھائے کہ کیوں  عبایہ پوش  بوڑھی خواتین اپنےزیوارت کی پوٹلیاں اناؤنسر کے سامنے  پھینک رہی تھیں، کیوں ان میں سے بعض کی آنکھوں سے آنسوں رواں تھے۔
سامنے رکھے ٹیلیویژن  سیٹ  کی اسکرین پر کشمیر میں ایک ہفتے قبل آئے بھیانک زلزلے کے مناظر چل رہے تھے ۔ شکشتہ دیواروں کا ایک خرابہ تھا۔ تباہ شدہ مدارس، کٹی پھٹی سڑکیں، ملبے تلے دبی لاشیں، مردہ جانوروں کے پھولے بدن، زمیں کے اندر کے حرارت کی لہر سب کچھ تاراج کرتے گذر گئی تھی ۔ ٹی وی اسکرین پر نظر نہیں ڈالی جاتی تھی۔
خادم حرمین شریفین شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز کے شاہی فرمان پر سعودی شہری ان زلزلہ زدگان کی مدد کیلئے اٹھ کر آئے تھے۔ چینل ون اور ٹو پر عطیات جمع کرنے کیلئے ٹیلی تھون منعقد ہو رہا تھا اور بچیاں اپنے کھلونے ان کشمیری بچوں کو بھجوانا چاہتی تھیں جن کی نعشیں ابھی تک دریافت ہونے کی منتظر تھیں۔ نقدی اور زیوارت تعمیرِ نو کیلئے تھے۔
کوئی مجھے سمجھائے کہ خود سعودی حکومت نے 13 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا عطیہ کیوں دیا تھا؟ کیوں وہاں ایک اسپتال قائم کیا گیا تھا؟ کیوں شاہ عبداللہ یونیورسٹی کا فیصلہ کیا گیا تھا؟ کیوں زلزلہ زدگان کیلئے ایک خصوصی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا؟  جس نے مظفرآباد، مانسہرہ اور بالاکوٹ میں امدادی سامان کے ڈھیر لگا دئے تھے ہزاروں گاڑیوں میں مملکت کی طرف سے دئے گئے عطیات وہاں پہنچائے تھے۔
                پھر مجھے کوئی یہ بھی تو سمجھائے کہ جب جولائی 2010ء میں ایک سیلاب بلا خیز ہمالیہ کی اترائیوں سے چلتا  پنجاب اور سندھ کے میدانوں میں زندگی کی علامات کو خاموش کرتا بحرہء عرب میں جاگرا تھا تو ان 2 کروڑ متاثرین کی سب سے زیادہ  دستگیری کس ملک نے کی تھی؟ 4 ارب ڈالر مالیت کے مکانات پانی میں پانی ہوگئے تھے۔ 50 کروڑ ڈالر کی گندم یوں برباد ہوئی کی چارہ بھی نہیں بن پائی۔ 43 ارب ڈالر کا نقصان کر کے وہ دریا اترا تو  کوئی مجھے یہ تو سمجھائے کہ سعودی عرب نے  36 کروڑ  20 لاکھ ڈالر کی مالی مدد کرکے ہم سے کیا حاصل کیا تھا؟  مملکت نے متاثرین سیلاب کیلئے کیوں دو اسپتال قائم کئے تھے؟ اور پھر کیوں خادم حرمین شریفین شاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز آل سعود نے ریاض  سے پاکستان کے متاثرہ  شہروں تک ہوائی پل کے  قیام کا شاہی فرمان جاری کیا تھا۔  اس پل میں 30 ہوائی جہازوں نے لگاتار پروازیں کر کے پنجاب، سندھ،بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے متاثرین کیلئے اشیائے صرف پہنچائی تھی۔
مملکت کی طرف سے دئے گئے عطیات میں خود خادم حرمین شریفین کی طرف سے 53 لاکھ 30 ہزار ڈالر بھی شامل تھے جبکی شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز  آل سعود نے  26 لاکھ 70 ہزار اور شہزادہ نائف بن عبدالعزیز نے 13 لاکھ 30 ہزار ڈالر دئے تھے۔
کوئی مجھے سمجھائے  کی سعودی حکومت اور عوام کی طرف سے  اسلامی جمہوریہ پاکستان کو  اسکے مشکل حالات میں دی گئی امداد کس مقصد کیلئے تھی؟
                اور پھر مجھے کوئی یہ بھی تو سمجھائے کہ جب چند برس قبل جدہ ایک تباہ کن سیلاب کا شکار ہو ا تھا تو کریانے کی دکان پر بیٹھے سوات کے ایک نوجوان فرمان علی خان کو کیا پڑی تھی  کہ وہ پانی میں چھلانگ لگا بیٹھا اور 14 ڈوبتے افراد کی جانیں بچانے کے بعد  15 آدمی کو بچاتے وقت اپنی زندگی ہار گیا۔  فرمان علی خان تو سعودی بھی نہیں تھا۔ وہ عرب بھی نہیں تھا۔ وہ تو پاکستان کے دور دراز پہاڑی علاقے سے آیا تھا۔
کوئی مجھے یہ تو بتائے کہ جدہ کے سیلاب میں چھلانگ لگاتے وقت اسے اپنی چار بچیوں کا خیال کیوں نہیں آیا  اور وہ مصلحت پسندی کا شکا کیوں نہیں ہوا؟  کوئی مجھے یہ بھی تو بتائے کہ خادم حرمین شریفین شاہ عبد اللہ بن عبدالعزیز نے ایک بار پاکستانی سفارت خانے کی درخواست پر  نطاقات پروگرام کے تحت غیر قانونی ہوجانے والے پاکستانی متاثرین کیلئے اصلاح احوال کی مہلت میں چھ ماہ کی توسیع کردی تھی۔
                مجھے یہ بھی تو کوئی نہیں سمجھا پا رہا ہے کہ جب 28 مئی 1998ء کو اسلامی جمہوریہ پاکستان نے 6 جوہری دھماکہ کر کے دنیا بھر میں کہرام مچا دیا تھا اور اس پر مغرب نے اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں تو کیوں مملکت سعودی عرب ہمارے ملک کو 50 ہزار بیرل تیل یومیہ فراہم کرتی رہی تھی۔
                مجھے ان حقائق پر روشنی ڈالنے کیلئے کسی مردِ دانا کی ضرورت ہے کیونکہ یہ کام وہ طوطے اور طوطیاں ہر گز نہیں کر سکیں گے جو آجکل ہمارے ذرائع ابلاغ کی شاخوں پر بیٹھے با ر بار وہ سبق دہرا رہے ہیں جو قومی مفاد سے بے نیاز  قوتوں نے  انہیں رٹا رکھا ہے۔ یہ طوطے اور طوطیاں اکثر مغربی ممالک کے قومی دنوں پر  انکے سفارتخانوں میں حاضری لگوانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ انہیں یہ اندازہ ہو ہی نہیں سکتا  کہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ جہاں ایک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں دوسرے کے اپنے وجود کی نفی ہوجائے گی۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کے حکمرانوں کو عقل سلیم دے ۔ آمین  ثم آمین
تحریر:۔ جاوید اقبال
ماخوذ ز اردو نیوز سعودی عربیہ

Post Top Ad

loading...