Header Ads

سیرۃ النبیﷺ | قسط نمبر18


جادہ شوق۔۔۔
آنحضرتﷺ کی عمر مبارک جب بارہ برس کی ہوئی توچچا ابوطالب قریش کے کاروان تجارت کےساتھ شام جانےکی تیاری کرنے لگے۔ عین کوچ کے وقت جب ابوطالب نے اپنے بھتیجے کو غمگین اوراداس پایا توساتھ لےجانے کافیصلہ کیا۔ یہ تجارتی قافلہ شام کےشہربصرہ میں اترا جواس زمانہ کےلحاظ سے بہت بڑی تجارتی منڈی تھا۔
قافلہ بحیرا نامی راہب کی خانقاہ کےقریب خیمہ زن ہوا۔ یہ راہب ایک درویش صفت انسان تھا جودنیا ومافیہا سےبےخبر رہتا تھا۔ تجارتی قافلے آتے یہاں ٹھہرتے اورچلےجاتے۔ لیکن یہ راہب دنیوی سرگرمیوں سے بےنیاز رہتاتھا۔ اس نےایک روزاس قریشی قافلے کوکھانے کی دعوت کےلئے پیغام بھیجالوگ سخت حیران ہوئےکہ یہ راہب تو کسی کوخاطر میں نہیں لاتاتھا۔ اورقریشی پہلےبھی کئی دفعہ اس جگہ ٹھہرے تھےمگر اس بابا کی طرف سےکبھی انہیں پذیرائی نہیں ملی تھی۔ جب قریشی اس راہب کی خانقاہ پرپہنچے تواس نے پوچھاکہ کوئی فرد رہ تو نہیں گیا؟ اسےبتایاگیا کہ ایک بچہ قافلےکےسامان کی حفاظت کےلئے پیچھے رہ گیاہے۔ راہب نےاصرارکیاکہ اس بچےکودعوت میں ضرورشریک کیاجائےکیوں کہ یہ دعوت تواسی کےاکرام میں کی جارہی ہے۔
آنحضرتﷺ تشریف لائےتو راہب آپﷺ کابغورمشاہدہ کرنےلگا۔ پھراس نےابوطالب سےپوچھاکہ اس بچے کاآپ سےکیارشتہ ہے؟ ابوطالب نےفرمایا یہ میرابیٹاہے۔ راہب نےکہاکہ میرےعلم اوربصیرت کےمطابق یہ بچہ آپ کابیٹا نہیں ہوسکتا۔ کھاناختم ہوا تو بحیرا راہب نےآپﷺ کولات وعزٰی کی قسم دیکر پوچھناچاہا توآپﷺ نےفرمایاکہ مجھےلات وعزٰی کی قسم نہ دیں مجھےان سےسخت نفرت ہے۔
ابر کاسایہ۔۔۔
بحیرا (راہب) نےابوطالب کوبتایاکہ جب قریشی قافلہ اس شہرمیں داخل ہورہاتھا تو میں اپنی خانقاہ میں سےاس قافلےکےآنےکا نظارہ کررہاتھا۔ میں نےدیکھاکہ اس لڑکے پربادل کاایک ٹکڑا سایہ کئےساتھ ساتھ آرہاتھا۔ بعدازاں یہ کارواں سامنے درخت کےنیچے خیمہ زن ہوکر خیمہ میں ہی بیٹھ گیا تومیں کیادیکھتاہوں کہ اس درخت کی شاخیں جھک کراس لڑکےپرسایہ کرنے لگیں۔
راہب نے آنحضرتﷺ کےشانوں کی درمیان مہرنبوت کوبھی دیکھا اور ابوطالب سےکہا کہ مبارک ہو اےرئیس قافلہ یہ بچہ نبی آخرالزماں ہوگا۔ جس کادنیاکوشدت سےانتظار ہے۔ یہ بڑی شان اور آن بان والا ہوگا۔ راہب نےابوطالب کومشورہ دیاکہ اس بچے کوفورا واپس بھیج دوکہیں ایسا نہ ہوکہ رومی یہودی اس بچے کودیکھ کرقتل کردیں۔ ابوطالب نےآپﷺ کوفورا مکہ بھیج دیا۔
بتوں سےنفرت۔۔۔۔
آپﷺ کوبتوں سےبچپن ہی سےنفرت تھی۔ آپﷺ ان کےقریب بھی نہیں جایا کرتے تھے۔ سیرۃ کی کتب میں بعض روایات سےیہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک سرسبزمقام پرکھجورکےدو درخت تھے۔ جنہیں لوگ مقدس تصور کرتےتھے ان درختوں پرپھل اورمیوہ کی بہتات تھی اس جگہ بوانہ نامی بت نصب تھا۔ لوگ وہاں جاتے اورمشرکانہ رسوم ادا کرتےتھے۔ آنحضرتﷺ ہرسال یہاں منعقدہونے والی تقریب میں شرکت سےانکارکرتے آخر ایک مرتبہ آپﷺ رشتہ داروں کےاصرار پروہاں تشریف لےگئے۔
وہاں پہنچ کرسرکاردوعالمﷺ اپنےعزیزواقارب کی نظروں سےکافی دیرتک اوجھل رہے۔ جب ظاہرہوئے توآپﷺ کےچہرہ اقدس پر خوف اورپریشانی کےآثارنمایاں تھے۔ رشتہ دارعورتوں نےاس حالت کی وجہ پوچھی تو آپﷺ نے فرمایاکہ جب بھی میں اس بت کےقریب جاناچاہتا تو ایک نورانی سفیدرنگ درازقد شخص مجھے اس بت کےپاس جانے سےمنع کرتااور کہتا اے محمدﷺ ہٹ جائیے بت کوہاتھ مت لگائیے۔ اس واقعہ کاراوی بزرگوں نے ام ایمن کوقرار دیاہے وہ فرماتی ہیں کہ اس واقعہ کےبعد آپﷺ کبھی بھی ایسی کسی تقریب میں نہیں گئے جہاں بتوں کی پرستش کی جاتی۔
تحفظ۔۔۔
نبیوں کی تربیت میں خداتعالٰی کی غیبی مددکارفرماہوتی ہے اس لئے کوئی ایساکام نبیوں سےسرزدنہیں ہونے دیاجاتا جوانبیاکے علوشان کےخلاف ہو۔۔۔۔
(جاری ہے)

A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.