تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

سوموار، 2 مارچ، 2015

سیرۃالنبیﷺ | قسط نمبر17


گھناسایہ۔۔۔۔
حضوراقدسﷺ پیدا ہوئے توباپ کاسایہ نہ تھا۔ چھ برس کی عمرمیں وطن سےدور پردیس میں سرکاردوعالمﷺ کوزندگی کاپہلا سانحہ پیش آیا۔ مکہ سے چلےتوماں کی انمول محبت وشفقت سےمالامال تھے۔ ایک ماہ بعد واپس آئےتواس عظیم دولت سے محروم تھےاورآپﷺ کےننھےمنھے دل پر اپنی عظیم المرتبت ماں کی جدائی کاداغ نمایاں تھا۔ حضرت آمنہ کےسانحہ ارتحال کےبعد رہبرکائناتﷺ اپنےدادا عبدالمطلب کی کفالت میں آئے۔
حضرت عبدالمطلب نےاپنےپوتے کی پرورش کمال شفقت ومحبت سےکی۔ دادا آپﷺ سے بےپناہ محبت فرماتےتھے۔ اس کااندازہ اس بات سےلگایاجاسکتاہے کہ بیت اللہ کے سایہ میں ایک مخصوص تخت حضرت عبدالمطلب کےلئےلگایا جاتاتھا۔ اس تخت پرسردار مکہ عبدالمطلب کی اولادکوبھی آنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس تخت پرآقائے نامدارﷺ بلاتکلف جابیٹھتے تھے۔ ابوطالب نے آپﷺ کوروکنے کی کوشش کی مگرعبدالمطلب نےفرمایا کہ میرے اس ذیشان خوش بخت پوتے کوآنےدو۔ رب کائنات کی قسم ایک تخت توکیا ہزاروں تخت اس کی ایک اداپر قربان کئےجاسکتےہیں۔
عبدالمطلب کی بینائی کمزورتھی آںحضرتﷺ کوتخت پراپنے قریب بٹھاتے آپﷺ کی پیشانی چومتے اور باربار پشت مبارک پر محبت سےہاتھ پھیرتے رہتے۔
دوسراسانحہ۔۔۔۔
آقائے نامدارﷺ کی عمرمبارک آٹھ برس ہوئی تو وہ دادا جنہوں نےآپﷺ کونازونعم سےپالاتھا، اولاد سےبڑھ کرچاہاتھا، ان کی حیثیت آپﷺ کےلئے گھنے سایہ کی سی تھی وہ دادا آپﷺ کوداغ مفارقت دے گئے۔ ام ایمن سےروایت ہے کہ جب سردار مکہ کاجنازہ اٹھاتو آپﷺ جنازہ کے پیچھے روتے جاتےتھے۔ وفات کے وقت حضرت عبدالمطلب کی عمر مختلف روایات کےمطابق 120، 110، 95، 86، 85 برس بیان کی گئی ہے۔
قدرت کویہی منظورتھا کہ اپنے محبوبﷺ کودنیوی سہاروں اورآسروں سےبےنیاز کردیاجائے تاکہ خالق حقیقی کی دائمی رحمت آپﷺ پرسایہ فگن رہے۔
(ع) پیدا ہوئے تو باپ کا سایہ اٹھا دیا
گھٹنوں چلے تو دادا عدم کو روانہ تھا
چلنے لگے تو مادر و عم ہوگئے جدا
ہرایک سایہ سرسے یوں اٹھتاچلاگیا
سا ئے پسند آ ئے نہ پرور دگار کو
بے سایہ کر دیا اس سایہ دار کو
چچاکی آغوش میں۔۔۔
حضرت عبدالمطلب کی وفات کےبعدآنحضرتﷺ اپنے چچاابوطالب کی کفالت میں آئے۔ حضرت عبدالمطلب کےبعد کفالت کےحوالےسے کئی روایات ہیں۔ ایک روایت ہےکہ حضرت عبدالمطلب نے وفات سےقبل اپنےبیٹے ابوطالب کوبلاکر وصیت کی کہ میرے بعد میرے بچے محمدﷺ کی کفالت آپ کےذمہ ہے۔ دوسری روایت ہے کہ ابولہب، حضرت عباس، حضرت حمزہ نے حضرت عبدالمطلب سےحضورﷺ کواپنی کفالت میں لینےکی درخواست کی تھی۔ تیسری روایت یہ ہےکہ آپﷺ کی کفالت کےسلسلہ میں قرعہ اندازی کی گئی قرعہ فال ابوطالب کےنام نکلا۔ چوتھی روایت یہ ہےکہ سرکاردوجہاںﷺ کواختیار دیدیاگیا کہ جس کی کفالت میں رہنا چاہیں رہ سکتے ہیں تو آپﷺ نےابوطالب کی کفالت کواختیارفرمایا۔
حضرت ابوطالب کثیرالاولاد تھے۔ جب کھانےکاوقت ہوتاتو ان کےبچوں میں کھانے کےمعاملے میں چھیناجھپٹی ہوتی لیکن رحمت دوعالمﷺ کبھی اس میں حصہ نہیں لیتےتھے بلکہ کھانے کےوقت دسترخوان سےدورہوجاتےتھے۔ آپﷺ کازیادہ تر گزر اوقات آب زمزم پرہوتا۔ کھانا مل جاتا توٹھیک ورنہ صبرشکرکرتے کبھی طمع ظاہر نہ فرماتے۔
ابوطالب نےآپﷺ کی یہ عادات وخصائص دیکھیں تواس قدر متاثر ہوئے کہ اپنے ساتھ بٹھاکر کھانا کھلاتے۔ ابوطالب کھانےپرآپﷺ کو جب تک نہ بٹھاتے چین نہ آتاتھا۔ سرکاردوجہاںﷺ کےوجودمسعود کےصدقےکھانے میں اسقدربرکت ہوتی کہ جب آپﷺ دسترخوان پربیٹھتے سارے گھروالے پیٹ بھرکرکھانا کھاتے اور کھانا بچ بھی جاتا۔۔۔
(جاری ہے)

Post Top Ad

loading...