تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

اتوار، 29 مارچ، 2015

زندگی ایک سفر ہے

زندگی ایک سفر ہے اور انسان عالم بقا کی طرف رواں دواں ہے ۔ ہر سانس عمر کو کم اور ہر قدم انسان کی منزل کو قریب تر کر رہا ہے ۔ عقل مند مسافر اپنے کام سے فراغت کے بعد اپنے گھر کی طرف واپسی کی فکر کرتے ہیں ، وہ نہ پردیس میں دل لگاتے اور نہ ہی اپنے فرائض سے بے خبر شہر کی رنگینیوں اور بھول بھلیوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ہماری اصل منزل اور ہمارا اپنا گھر جنت ہے ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک ذمہ داری سونپ کر ایک محدود وقت کیلئے اس سفر پر روانہ کیا ہے ۔ عقل مندی کا تقاضا تو یہی ہے کہ ہم اپنے ہی گھر واپس جائیں کیونکہ دوسروں کے گھروں میں جانے والوں کو کوئی بھی دانا نہیں کہتا ۔
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

بھائیو اور بہنو کبھی آپ نے سوچا کہ آخر ہم دنیا میں کس لئے آئے ہیں ؟ ہماری تخلیق کا مقصد کیا ہے ؟
کبھی سمجھا بھی مقصد زندگی کا ؟
کبھی سوچا بھی کیوں دنیا میں آئے ہیں ؟
کیا ہمیں اس لئے پیدا کیا گیا کہ
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ؟

کیا ہمیں خوردونوش ، ہنسی مذاق ، کھیل کود ، دولت دنیا سمیٹنے ، کوٹھیاں اور بنگلے بنانے ، فخر و مباہات ، جاہ و منصب کے حصول اور اپنی من مانیاں کرنے کیلئے پیدا کیا گیا ؟ ہز گز ، ہر گز نہیں.... اللہ کی قسم نہیں.... ہمیں ان کاموں کیلئے نہیں بلکہ اس عظیم مقصد کیلئے پیدا کیا گیا ہے

جسے خود ہمارے خالق نے بیان فرمایا ہے :
( الذاریات : 58-56 )
148 اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ، نہ تو میں ان سے روزی مانگتا ہوں اور نہ ہی چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں ۔ یقینا اللہ تعالیٰ تو خود سب کو روزی دینے والا ، صاحب قوت اور زبردست ہے ۔ 147

جب ہم اپنی تخلیق کا مقصد جان چکے تو آئیے ! اب ذرا اپنے دل کو ٹٹو لیے اور من سے پوچھئے کہ آپ نے اس مقصد کو کہاں تک پورا کیا ؟ کیا محنت کی ؟ کیا کوشش کی ؟ اور لوگ کیا کر رہے ہیں اور کدھر جا رہے ہیں ؟ یقینا ہمارا دل گواہی دے گا کہ ہم نے تو کچھ بھی نہیں لیا ۔ ہماری کوشش تو بالکل معمولی اور نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اگر آج ہی موت آجائے تو اللہ کے دربار میں پیش کرنے کیلئے
ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں
درپیش سفر دراز ہے اور سامان کچھ بھی نہیں

کیا ہم شب و روز مشاہدہ نہیں کرتے کہ موت کس طرح دوست و احباب آل و اولاد اور عزیز و اقارب کو چھین کر لے جاتی ہے ۔ جب مقررہ وقت آ جاتا ہے تو پھر موت نہ بچوں کی کم عمری ، نہ والدین کا بڑھاپا ، نہ بیوی کی جوانی اور نہ ہی کسی کی خانہ ویرانی دیکھتی ہے ۔

کیا ہم نہیں جانتے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں ؟ نہ اس سے شاہ بچے نہ گدا ، نہ صالحین اور نہ انبیاء ( علیہ السلام ) حتیٰ کہ
نہ موت بچے گی نہ ملک الموت
موت ہو ، قبر ہو ، محشر ہو کہ غم ہو
یہ ہیں وہ مرحلے جن سے کہیں فرار نہیں

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

( آل عمران : 185 )
148 ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور تم لوگ قیامت کے دن اپنے کئے کا پورا پورا اجر پاؤ گے ۔ پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہی کامیاب ہوا اور دنیا کی چند روزہ زندگی تو دھوکے کا سامان ہے ۔ 147

کیا ہم نے نہیں سنا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ ہر بات وحی الٰہی کے مطابق فرماتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : میری امت کے لوگوں کی اوسط عمریں ساٹھ سے ستر برس ہونگی ۔ بہت کم لوگ اس سے آگے بڑھیں گے ۔ ( ترمذی )

کیا ہم اس حقیقت سے نا آشنا ہیں کہ دنیا فانی ہے اور یہ جہاں عارضی ہے ؟ اور یہاں کا سارا سامان عارضی ہے ؟ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں کے کرنے سے پہلے پہلے غنیمت سمجھو اور ان سے فائدہ اٹھاؤ ۔

1 جوان کو بڑھاپے ،

2 صحت کو بیماری،

3 امیری کو فقیری ،

4 فراغت کو مصروفیت ،

5 زندگی کو موت سے پہلے پہلے ۔

حالی مرحوم نے اس کا کیا خوب ترجمہ کیا
غنیمت ہے صحت علالت سے پہلے
فراغت مشاغل کی کثرت سے پہلے
جوانی بڑھاپے کی زحمت سے پہلے
فقیری سے پہلے غنیمت ہے دولت
جو کرنا ہے کر لو کہ تھوڑی ہے مہلت

ذرا غور فرمائیے ! ہم لمحہ بہ لمحہ موت کی جانب بڑھ رہے ہیں ، گردش لیل و نہار عمر عزیز کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے ۔ جو چیز ہر روز کم ہوتی رہتی ہے وہ بالآخر ختم ہی ہو جاتی ہے جو لمحہ گزر جاتا ہے کبھی واپس نہیں آتا ۔

اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو بتائیے آپ کا لڑکپن کدھر گیا ؟ جوانی کدھر گئی ؟ عمر رفتہ کتنی تیزی سے بیت گئی ۔ کچھ پتہ بھی چلا ؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بچپن اور لڑکپن ابھی کل کی بات ہے
گیا بچپن ہوئی رخصت جوانی
اب اس کے بعد کیا ہو گا عیاں ہے

خالق کائنات نے سچ فرمایا ہے :
( الروم : 55 )
148 قیامت کے روز مجرم قسمیں اٹھا اٹھا کر کہیں گے کہ ہم تو بس ایک پَل کیلئے دنیا میں گئے تھے ۔ 147

اگر ہم اپنے اقرباءمیں سے بزرگوں کی شکل و شباہت کا ذرا ان کی جوانی سے تقابل کریں تو ہماری زبان حال بے اختیار پکار اٹھے گی ۔
148 پاک ہے وہ ذات جو حالات کو بدلتی رہتی ہے ۔ 147

ایک فکر انگیز واقعہ :
نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ اپنے احباب کے ہمراہ بکری کے ایک مردہ بچے کے پاس سے گزرے اور آپ اس کا کان پکڑ کر فرمانے لگے : تم میں سے کون اسے ایک درہم کے بدلے خریدنا پسند کرےگا ؟ تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم عرض کرنے لگے : آقا صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو اسے مفت میں بھی نہیں لینا چاہتے ، یہ ہمارے کس کام کا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ اللہ کی قسم اگر یہ زندہ بھی ہوتا تو پھر بھی عیب دار تھا ، اس کے کان چھوٹے ہیں ، تو پھر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : اللہ کی قسم ! اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے ۔ اور فرمایا آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی سمندر میں اپنی انگلی ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کے ساتھ کس قدر پانی آتا ہے ۔ دنیا کی حیثیت آخرت کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسا کہ انگلی کے ساتھ لگے ہوئے پانی کے قطرے کی سمندر کے مقابلے میں ۔

یہ ہے دنیا کی حقیقت ۔ کیا ہمیں بھی دنیا کی حقیقت کا کچھ پتہ چلا ؟ یا یہ کہ ابھی تک شیطان ہمیں ورغلا رہا ، وسوسے ڈال رہا اور دنیائے فانی کی خواہشات کو سجا سجا کر آپ کے سامنے پیش کر رہا ہے اور آپ سے ابھی تک کہے جا رہا ہے کہ چھوڑو ! واعظ لوگ ایسی باتیں کرتے ہی رہتے ہیں ، جوانی مستانی ہوتی ہے ، اپنے حسن و جمال اور صحت و جوانی میں مزے لوٹئیے ، دنیا کی لذتیں اڑائیے ، جب بوڑھے ہو جاؤ گے ، تمام قوتیں جواب دے جائینگی پھر حج کر لینا اور توبہ و استغفار کر لینا ، سب کچھ معاف ہو جائے گا ۔

یہی ابلیس ملعون کی چالیں اور اس کے گمراہ کن جال ہیں کہ وہ خود تو ڈوبا ہوا ہے ہی ، دوسروں کو بھی ساتھ ملانا چاہتا ہے ۔

قرآن کہتا ہے :
( فاطر : 6 )
148 وہ تو اپنے ہمنواؤں کو بلاتا ہے تا کہ اس کے ساتھ جہنم کا ایندھن بنیں ۔ 147

اللہ نے عقل دی ہے ذرا اتنا ہی سوچئے کہ شیطان کیسے یہ گارنٹی دے سکتا ہے کہ ہم بڑھاپے تک جئیں گے ؟ اس کے پاس کیا ضمانت ہے کہ ہمیں تب تک مہلت ضرور ملے گی ؟ اور اگر ہمیں مہلت مل بھی گئی تو کیا وہ دوبارہ ہم پر حملہ نہیں کرےگا ؟

سوچئے ! غوروفکر کیجئے ! اور اپنے رب کا فرمان سامنے رکھےے ارشاد باری تعالیٰ ہے :
( ابراھیم : 22 )
کہ قیامت کے روز جب دربار الٰہی سے فیصلہ صادر ہو جائے گا اور حسرت و ندامت اور آہ و بکا بے سود ہو گی تب شیطان اپنے پیروکاروں سے کہے گا :

( ابراھیم : 22 )
148 بے شک اللہ تعالیٰ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا ، لیکن میں نے تم پر کوئی زبردستی تو نہیں کی تھی ، بس تم کو بلایا اور تم بھاگے چلے آئے ۔ لہٰذا مجھے برا بھلا کہنے کی بجائے اپنے آپ کو ملامت کرو ، نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری داد رسی کر سکتے ہو ۔ تم نے جس طرح مجھے اللہ کا شریک بنایا ، میں اس کا انکاری ہوں یقینا ظالموں کیلئے دردناک عذاب ہے ۔ 147

میرے بھائیو ! ذرا اس مشکل وقت کو یاد کیجئے جو ایک نہ ایک دن ضرور آنے والا ہے ۔ جب دوست و احباب ، اولاد و احفاد اور بہن بھائی آپ کے گرد جمع ہونگے اور آپ اشکوں سے بھیگی ہوئی ، حسرت بھری نگاہوں سے انہیں ہمیشہ کیلئے الوداع کہہ رہے ہونگے اور یہ دولت دنیا ، رشتے ناطے اور امنگیں آرزوئیں دھری کی دھری رہ جائیں گی ۔
موت آئی اور انسان کو اچک کر لے گئی
لمحہ بھر کے بعد وہ اک ساز بے آواز تھا

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
( ق : 19 )
148 اور موت کی بیہوشی برحق خبر لے کر آئی ، یہی وہ حقیقت ہے جس کے اعتراف سے تو راہ فرار اختیار کرتا تھا ۔ 147

پھر کیا ہوگا.... ؟ کاش ! معاملہ یہیں ختم ہو جاتا ۔

لیکن درحقیقت مرنے سے آنکھیں بند نہیں ہوتیں بلکہ آنکھیں تو اب کھلی ہیں ۔ موت کے بعد کے مراحل تو اس سے زیادہ سخت اور آنے والے مناظر تو اس سے زیادہ ہولناک ہیں ۔ دعا ہے کہ رب تعالیٰ ہمارا خاتمہ بالخیر کرے اور فردوس اعلیٰ نصیب کرے ۔ ( آمین )

Post Top Ad

loading...