Header Ads

سیرۃ النبیﷺ | قسط 16


پہلاسانحہ۔۔
جب آنحضرتﷺ کی عمر چھ سال ہوئی تو اماں آمنہ کومرحوم شوہر کی قبرکی زیارت کاخیال آیا۔ آپﷺ کے اکثررشتےدار یثربی تھے ان سےملنا بھی مقصودتھا۔ چنانچہ تین افراد حضرت آمنہ، ام ایمن اورشاہ دوعالمﷺ پرمشتمل ایک مختصرقافلہ مدینہ روانہ ہوا اوردارالنابغہ میں اترا جہاں حضرت عبداللہ کا مدفن تھا۔ 
ایک ماہ بعد یثرب سےواپسی ہوئی۔ راستے میں ابواء کےمقام پراماں آمنہ بیمارہوئیں۔ اماں آمنہ کوااندازہ ہوگیاکہ یہ میرا آخری وقت ہے۔ مواہب لدنیہ کی روایت ہےکہ آخری وقت تاجدارختم رسالتﷺ کی والدہ ماجدہ نے چنداشعار پڑھے یہ عربی اشعارایسے ہیں کہ انسان پڑھے تودل پھٹنے کوآتاہے۔ اماں نے اپنےبیٹے کومخاطب کرکے فرمایا۔
بارک اللہ فیک من غلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان اصبح ماالصورۃ فی المنام
فانت مبعوث الی الانامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من عندذی الجلال والاکرام
(ترجمہ) میرے لخت جگر گھبرانانہ۔ حوصلہ رکھنا۔ تم عظیم باپ کےبیٹے ہو۔ تم اس شخص کے فرزند ہوجس کافدیہ سواونٹ تھے۔میرے نورنظر میں نے تیری نبوت کا جوخواب دیکھا ہےوہ ضرور پورا ہوگا۔ میرے بچے ہرزندہ ایک دن مرجائےگا۔میں مرجاؤں گی مگرمیرانام  رہتی دنیا تک باقی رہےگا کیوں کہ میں نے ایک طیب وطاہرکوجنم دیاہے۔
یہاں ابواء کےمقام پراماں آمنہ کاانتقال ہوگیا۔ ذرا غورفرمائیں کہ رنج والم کے اس سانحہ کی بدولت پردیس میں ایک چھ سالہ معصوم بچےکےدل پرکیا گزری ہوگی جس نےاپنےننھے منھے ہاتھوں سےماں کی قبرپرمٹی ڈالی ہوگی۔

ام ایمن کی سعادتمندی۔۔۔
ام ایمن کے ہمراہ حضورسرورکائناتﷺ کےساتھ مکہ پہنچے۔ ام ایمن حبشی کنیزتھیں۔ انہوں نےآپﷺ کی سب سےزیادہ خدمت کی۔ یہاں تک کہ آپﷺ انہیں اماں کہہ کر پکاراکرتے تھے۔ یہ ایسی خوش نصیب خاتون تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا توآپﷺ نے انہیں آزاد کردیا مگر آزاد ہوکر بھی ام ایمن آپﷺ کی خدمت کرتی رہیں۔ یہاں یہ امربھی قابل ذکرہے کہ کتنے غلاموں کوآپﷺ نے آزاد کیاوہ سب آزاد ہوکربھی آپﷺ کے غلام رہے۔ اس غلامی پرہزاروں آزادیاں قربان۔
آپﷺ نے ام ایمن کاپہلا نکاح حضرت حارث رضی اللہ عنہ سے کیا جن سے ایمن پیدا ہوئے انہی سے ہی آپ کی کنیت ام ایمن تھی۔ دوسرا نکاح سرکاردوعالمﷺ نےاپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید سےکیا۔

(جاری ہے)

A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.