تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 28 فروری، 2015

سیرۃالنیﷺ | قسط نمبر15

اداس اوربوجھل قدم۔
دوسالہ معاہدہ کےبعدمائی حلیمہ اداس دل پریشان ذھن اور بوجھل قدموں کے ساتھ کونین کی دولت کولےکرامانت واپس کرنے مکہ چلیں مگر دل چاہتاتھا کہ سرورکونینﷺ کچھ عرصہ اورہمارے پاس رہیں۔ اماں حلیمہ حضرت کولیکرمکہ پہنچیں تووہاں پرکوئی وبا پھیلی ہوئی تھی۔ اماں آمنہ نے کہا بہن یہاں مکہ میں وبا پھوٹی ہوئی ہے تم کچھ عرصہ کےلئےواپس لےجاؤ۔ مائی حلیمہ مسرور دل کے ساتھ شاہ کونینﷺ کوایک بارپھر اپنے دامن میں سمیٹے واپس اپنےگھر لےآئیں۔

واقعہ شق صدر۔۔۔
واپس آنےکےکچھ عرصے بعد واقعہ شق صدرہوا۔ اس وقت آپﷺ کی عمر ایک روایت کے مطابق دوبرس اوردوسری روایت کےمطابق چاربرس تھی۔
ایک روز اپنے رضاعی بھائی کےساتھ بکریاں چرارہےتھے کہ انسانی شکل میں چندفرشتے جنکےہاتھوں میں سونے کےتھال تھے اوران میں برف تھی۔ انہوں نےآپﷺ کوپکڑکرلٹادیا اورسینہ چاک کردیا۔ آپﷺ کاقلب نکالا اس میں سے سیاہ نقطہ نکال کرباہرپھینک دیا پھر آپﷺ کےقلب اطہر کو برف کےساتھ دھویا ان میں سے ایک نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیااس کے ہاتھ میں اچانک ایک نورانی مہر آگئی۔ وہ مہر آپﷺ کے قلب اطہر پرلگا دی گئی جس سے آپﷺ کاقلب منورہوگیا۔جس سےآپﷺ نے ایک عجیب وغریب لذت،ٹھنڈک وراحت محسوس کی اوراس کااثرآپﷺ کےدل پرعرصہ دراز تک رہا۔ اس کےبعد انہوں نےآپﷺ کےشکم مبارک کوبرف سےدھویاقلب وشکم دونوں کومطہر کیاگیا۔ گناہ کامزاج گرم ہوتاہے اورقلب اس کی آماجگاہ ہوتاہے۔ مادہ معصیت کوبجھانےکےلئے برف کااستعمال کیاگیا یہ سارا منظرآپﷺ خود دیکھ رہےتھے۔
آپﷺ کےرضاعی بھائی نےیہ منظردیکھاتو بھاگتاہوا گھرپہنچا مائی حلیمہ کوبتایاکہ میرے قریشی بھائی کوچندآدمیوں نے زمین پرلٹاکر ان کا سینہ چاک کردیا ہے۔ اماں حلیمہ نےسنا تو بھاگتی ہوئی اس جگہ پہنچیں آپﷺ وہاں سہمےکھڑے تھے۔ بی بی حلیمہ نےفوراچھاتی سےلگاکرپوچھا کیا ہوا میرے لعل؟ آپﷺ نےسارا واقعہ کہہ سنایا۔
شق صدر کےواقعہ نےحلیمہ کوپریشان کردیاتھا اماں نےاپنےشوہرحارث سےمشورہ کیا توانہوں نےکہاکہ امانت واپس کرآؤ۔

واپسی اورگمشدگی۔۔۔
حلیمہ سعدیہ ایک بار پھربادل نخواستہ سرکاردوجہاںﷺ کولیکر مکہ چلیں تاکہ آمنہ کےدریتیم کوان کے حوالے کرآئیں۔ جب آپ مکہ کےکسی بالائی حصے میں پہنچیں توایک جگہ ٹھہرگئیں وہیں حضورسرورکائناتﷺ کوبٹھایا اورخودحاجات سےفراغت میں مصروف ہوگئیں۔ واپس آئیں توآنحضرتﷺ کووہاں نہ پایا۔ لوگوں سےپوچھا لیکن کوئی کچھ نہ بتاسکا۔ حلیمہ سخت پریشان ہوئیں اور سخت واویلا کیا اور قسم کھا کرکہا کہ اگرمیراسرمایہ افتخارمجھےنہ ملا تومیں پہاڑکی چوٹی سےگرکر مرجاؤں گی۔
سرکاردوجہاںﷺ کی تلاش بسیار کےبعدمایوس ہوکر آپ نےاس قدرگریہ وزاری کی کہ اہل مکہ کےدل دھل گئے۔ بعدازاں آپ سردار مکہ عبدالمطلب کےحضورپیش ہوئیں اورسارا ماجرا کہہ سنایا۔ حضرت عبدالمطلب نےبھی قریش کےہمراہ آپﷺ کوبہت تلاش کیا ناکام ہوکر بالاخرآپ بیت اللہ کی طرف متوجہ ہوئے۔
طواف کیا بارگاہ رب العزت میں دعاکی۔ روایت ہے کہ ندائے غیب آئی۔ آہ وزاری کی ضرورت نہیں محمدﷺ کارب انہیں ضائع نہیں کرے گا۔ وہ وادی تہامہ میں شجرہ یمن کےپاس ہیں۔ عبدالمطلب وہاں پہنچےتو رحمت عالمﷺ وہاں موجود تھے۔ ایک روایت میں ہےکہ حضورﷺ کی گمشدگی کےبعد ورقہ بن نوفل (عیسائی راہب وعالم) اپنے ایک ساتھی کےساتھ سرکاردوعالمﷺ کولیکر عبدالمطلب کےپاس حاضرہوئے۔۔۔۔
(جاری ہے)

Post Top Ad

loading...