Header Ads

سیرۃ النبیﷺ│قسط نمبر14

اونٹنی کی تیزرفتاری
تین دن قیام کے بعد اماں حلیمہ رحمت للعالمینﷺ کولیکر گھرروانہ ہوئیں۔ ایک روایت ہے کہ اونٹنی پرمائی حلیمہ اورانکا شوہر سوارہوئےدرمیان میں آنحضرتﷺ کوبٹھایا گیا۔ لیکن اونٹنی باوجودبہت کوشش کے نہیں اٹھی۔ حلیمہ نے کہا حارث ہماری گودمیں جوبچہ ہے یہ اس قدرجلیل القدراور شان والا ہے خدا تعالی کوہمارا یہ فعل پسند نہیں آیا جوہم نے اس کودرمیان میں بٹھایا ہے کیوں کہ ان کی طرف ہماری پیٹھ ہورہی ہے۔ چنانچہ آپﷺ کوحارث کے آگے بٹھایاگیا۔ اب جواونٹنی کواٹھایا توفورا اٹھ کھڑی ہوئی۔
ایک روایت کےمطابق اونٹنی نے مکہ  کی گلیوں کاایک چکرلگایا جوں ہی کعبۃ اللہ کےسامنے پہنچی اس نے تین سجدے کیے پھر آسمان کی طرف سراٹھاکردیکھا پھر اپنی راہ پر چل پڑی۔ حلیمہ کی ہمجولیاں بچےلیکر بہت پہلے روانہ ہوچکی تھیں۔ اپنے پیچھے تیزرفتار اونٹنی کی گرد اڑتی ہوئی دیکھی توحیران وپریشان ہوگئیں۔ جب حلیمہ ان کےقریب پہنچیں توہمجولیوں نے پوچھاکہ سواری بدل لی ہے؟ اماں نے فرمایا سواری نہیں سوار بدلاہے۔ یہ کونین کاایسا شہسوارتھا جس سواری پربیٹھا وہ سواری فضیلت پاگئی۔ جس انسان پربیٹھا قیامت تک کے لئے آنے والے انسانوں پروہ انسان فضیلت پاگیا۔ حلیمہ کی سواری پہلے چلنے والی سواریوں کوپیچھے چھوڑتی ہوئی سب سے پہلے منزل مقصودپر پہنچ گئی۔

نصیبوں کی بات۔۔۔
قحط اورخشک سالی کی بناء پرحلیمہ کاساراعلاقہ بنجرہوگیاتھا۔ جانورلاغر اورکمزور ہوگئےتھے۔ ان میں دودھ ختم ہوگیاتھا۔ نبی آخرالزماںﷺ کے وجودمسعودکی برکت سےحلیمہ کی زمینیں شاداپ ہوگئیں۔ بغیربارش اورپانی کےگھاس اگنے لگی، سبزہ رنگ دکھائی دینےلگے۔ حلیمہ کی بکریاں شام کوواپس آتیں توانکےپیٹ بھرے ہوتےتھے اورتھنوں سےدودھ ٹپک رہاہوتاتھا۔ لوگ یہ سبھی کچھ دیکھ کرحلیمہ کی قسمت پررشک کرنے لگے اوراپنی بکریوں کے ریوڑ وہیں بھیجتےجہاں حلیمہ کی بکریاں جاتیں۔ لیکن خداکی قدرت وہ تمام ویسی ہی واپس آجاتیں جبکہ حلیمہ کی بکریاں سیرہوکر آتیں اور ان کے دودھ سے گھرکےسارے برتن بھرجاتے۔

حلیمہ سعدیہ کی گواہی۔۔۔
مائی حلیمہ فرماتی ہیں کہ رحمت عالم کی جسمانی نشوونما اس قدرتیزی سے ہوئی کہ جب آپ ایک برس کے ہوئے توجسمانی طورپر دوبرس کے لگتے تھے اورجب دوبرس کے ہوئے توچاربرس کےلگتےتھے۔ 
نبی کریمﷺ کی پرورش عام بچوں کےبرعکس ہوئی۔ نبی کریم تین ماہ میں بیٹھے۔ نو ماہ میں چلے۔ دس ماہ میں بکریاں چرانے کی خواہش کااظہار فرمایا۔ سوا برس کی عمرمیں تیراندازی کےمقابلہ میں حصہ لیا۔ دوبرس کی عمر میں کشتی کےمقابلےمیں شریک ہوئے۔
آپﷺ کی پاکیزگی اورطہارت کے مسئلےپر مائی حلیمہ فرماتی ہیں کہ جب تک دوجہاں کاسردار یہ بچہ میرے پاس رہا کبھی کوئی نجاست جسم پریا کپڑوں پرلگی نہیں دیکھی۔ رفع حاجت کےلیےآپ کے اوقات متعین تھے۔ دوسرے بچوں کی طرح نہ روتے تھےنہ تنگ کرتےتھے۔ اگرسرکاردوعالمﷺ کاسترکھل جاتاتوفرشتے اسےڈھانپ دیتے ورنہ جب تک سترکھلا رہتا آپ کوچین وسکون نہیں ملتاتھا۔
اماں حلیمہ کاکہناتھا کہ آنحضرتﷺ ایک انوکھے بچےکی حیثیت سےمیرے پاس رہے۔ میں آپ کےکمالات دیکھ کرحیران رہ جایاکرتی تھی۔ اتنی خوبیوں اورمحاسن والا بچہ اس سےقبل میں نےنہیں دیکھاتھا۔ جب کبھی پیکر حسن وجمال کاچہرہ دھونےکےلئےمیں پانی لاتی تو یہ دیکھ کرحیران ہوجاتی کہ آپﷺ کاچہرہ اس طرح ہوتا گویا ابھی کوئی دھو کرگیاہے۔ رحمت عالمﷺ کاچہرہ انورپھول جیساشگفتہ اور شبنم جیسا صاف وشفاف ہوتاتھا۔۔۔
(جاری ہے)


مضمون نگار:۔ محمدابوبکرصدیق
پتہ:۔ کراچی│پاکستان
رابطہ:۔ مضمون نگار کی اجازت کے بغیر برقی پتہ یا موبائل نمبر شائع نہیں کیا جاتا۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.