تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 14 فروری، 2015

سیرۃ النبیﷺ│قسط نمبر13

عرب کادستورتھا کہ شرفائے عرب اپنےنومولودبچوں کودیہات میں بھیج دیتے تھے۔ تاکہ وہ کھلی فضاء میں جسمانی نشو نماکے علاوہ عرب کی فطری خصوصیات سے مالامال ہوسکیں۔ خاص طورپر ان میں فصاحت وبلاغت اورشجاعت کے جوہرنکھر سکیں۔ چنانچہ سال میں دومرتبہ قبائل عرب کی عورتیں مکہ آتیں اورکھاتے پیتے گھرانوں کے بچوں کولے جاتیں۔ اس مرتبہ بھی شیرخوار بچوں کےحصول کے لیے عورتوں کاایک قافلہ مکہ روانہ ہوا۔ ان میں ایک خوش نصیب مائی حلیمہ بھی اپنے شوہر حارث کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ ان کی اونٹنی کمزور اور مریل تھی۔ ایک لاغرگدھی بھی ساتھ تھی۔ اونٹنی ایک قطرہ تک دودھ نہ دیتی تھی۔ اماں حلیمہ فرماتی ہیں کہ ہم بھوک کی وجہ سےرات بھر نہیں سوسکتے تھے۔ اماں حلیمہ کی چھاتیوں میں اتنا دودھ نہ ہوتاتھاکہ بچہ سیر ہوسکے اوربچہ ساری رات بلبلاتا رہتا۔
سرکار دوعالمﷺ کوساری عورتوں نے دیکھا مگریتیم ہونے کی بناپرچھوڑدیا کہ اس سے کیا ملےگا۔ تمام عورتوں نے کھاتےپیتے گھرانوں کے بچے لے لئےتھے۔ اب ایک ہی بچہ باقی رہ گیاتھا جوکہ آمنہ کےدریتیمﷺ تھے۔ مائی حلیمہ نے اپنےشوہر سے مشورہ کیا کہ خالی ہاتھ جانا مناسب نہیں ہے کیوں نہ اس یتیم کوہی لے چلیں شاید اللہ اسی کی بدولت خیروبرکت دیدیں۔ یہ فیصلہ کرکے حلیمہ اماں آمنہ کے پاس گئیں اور پوچھا کہ بچہ ہے؟ اماں آمنہ نےکہاکہ بچہ توہے مگر تم نے لینا نہیں ہے کیوں کہ وہ یتیم ہے۔ اماں حلیمہ نے کہا کہ میں اسی یتیم کوہی لینے آئی ہوں۔ ذرابچہ تودکھائیں۔ مائی حلیمہ فرماتی ہیں کہ جس کمرے میں آپﷺ تھےجب میں اس میں داخل ہوئی تو خوشبوکا ایسا جھونکا آیاکہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جنت کےدر کھل گئے ہوں۔ حلیمہ نےفرمایا کہ میں نے اتنا حسین وجمیل بچہ آج تک نہیں دیکھا۔ پھر اماں حلیمہ نے آپﷺ کے سینہ پرہاتھ پھیرا تو آپ نےتبسم کے ساتھ بندآنکھیں کھول دیں اورحلیمہ کی قسمت  کےدریچے کھل گئے۔ اماں حلیمہ فرماتی ہیں کہ جوں ہی میں نےآپﷺ کو اپنی چھاتی سے لگایامیری سوکھی چھاتیوں میں دودھ اتر آیا۔ آپﷺ نے میری دائیں چھاتی سے دودھ پیا جب میں نے آقائے رحمتﷺ کوبائیں طرف کیا تو آپﷺ نےمیری کوشش کے باوجود دودھ نہیں پیا۔
سرکاردوعالمﷺ جب تک اماں حلیمہ کے پاس رہےایک طرف سے ہی دودھ پیا کرتے تھے۔ حلیمہ کہتی ہیں کہ میں بہت حیران تھی کہ یہ بچہ آخرایک طرف سےہی دودھ کیوں پیتا ہے؟ بعدازاں آپﷺ کی برکات دیکھ کرمحسوس ہواکہ یہ غیرمعمولی بچہ ہے جس کو اللہ نے سمجھ دے رکھی ہے کہ دودھ پینے ولا ایک اور اس کارضاعی بھائی بھِی ہے۔ آمنہ کے لال عبداللہ کے دریتیم نےپہلےدن سے ہی عدل کی روایت قائم کردی تاکہ قیامت تک آپﷺ کے عدل وانصاف کےڈنکے بجتے رہیں۔

پہلی رات
مائی حلیمہ آمنہ کےلخت جگر کولیکر اپنےخیمہ میں آگئیں۔ شام کوان کے شوہرحارث اپنی اونٹنی کادودھ دوہنے کےلیے اٹھے تاکہ جوتھوڑا بہت دودھ حاصل ہو اسے غنیمت سمجھاجائے مگریہ دیکھ کران کی حیرت کی انتہانہ رہی کہ اونٹنی کے تھن دودھ سےبھرے ہوئے تھے۔ انہوں نےپکارکرحلیمہ کوآواز دی کہ حلیمہ ہماری قسمت جاگ اٹھِی ہے ہمارے دن پھرگئے ہیں۔ یہ بچہ تو واقعی برکتوں سعادتوں والانکلا۔
مائی حلیمہ کہتی ہیں کہ ہم نے سیرہوکردودھ پیا۔ آج ہماری زندگی کی پہلی رات تھی جوہم نے سکون سےسوکر گزاری۔ ہمارابچہ جوساری رات ہمیں جگائے رکھتاتھا آج وہ بھی پرسکون تھا۔ 
خوشی سے حلیمہ سعدیہ اورانکے شوہر کےقدم زمین پرنہ لگتےتھے۔ کتنی خوش نصیبی اور خوش بختی تھی کہ حلیمہ کی جھولی میں سارے جہانوں کی دولت آگئی تھی۔ سیدہ حلیمہ کی زندگی میں انقلاب آگیاتھا۔ ویران زندگی میں بہار آگئی تھی کیونکہ حلیمہ کی جھولی میں جان بہار آگئی تھی۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے)

مضمون نگار:۔ محمدابوبکرصدیق
پتہ:۔ کراچی│پاکستان
رابطہ:۔ مضمون نگار کی اجازت کے بغیر برقی پتہ یا موبائل نمبر شائع نہیں کیا جاتا۔

Post Top Ad

loading...