Header Ads

سیرۃالنبیﷺ│قسط نمبر12

اسم محمدﷺ کاہرحرف بامعنٰی
قاعدہ کلیہ یہ ہےکہ کسی نام سے کوئی ایک حرف نکال دیاجائے توباقی حروف اپنامعنی کھودیتے ہیں۔ مگر پروردگار عالم کااسم ذاتی "الله" اور رحمت عالمﷺ کےدونو اسمائےگرامی "محمد" اور "احمد" کویہ خاص انفرادیت اور فضیلت حاصل ہےکہ ان تینوں ناموں کےایک ایک حرف کونکالنےسےباقی حروف کےمعنی ختم نہیں ہوتے۔
جیسے کہ اسم "الله" کےچارحروف ہیں۔
ا، ل، ل، ہ۔
•اسم الله۔ آللہ خٓالِقُ كُـّلِ شٓيْءٍ ـ
•الف ہٹادیں۔ للہ مٓافِي الّسٓمٰوٰاتِ وٓمٓافِي الآرْض ـ
•پہلالام ہٹادیں۔لٓلہ الْمُلْكُ وٓلٓهُ الْحٓمْدُ ـ
•دوسرالام ہٹادیں۔ اللہ لآاِلٰہ اِلّاھوْ
اسی طرح اسم محمدﷺ کامشاھدہ کیجئے
•محمد کامعنی ہےسب سےزیادہ جسکی تعریف کی جائے۔
•پہلا حرف "م" ہٹادیں تو"حمد" رہ گیا حمدکامعنی بےپایاں تعریف۔
•دوسراحرف "ح" حذف کریں توباقی "ممد" رہ جاتاہے اس کامعنی ہے مددکرنے والا معاونت کرنے والا۔
•ابتدائی "م" اور "ح" حذف کئےجائیں توباقی "مد" رہ جاتاہے اس کامعنی ہے بلند ہونا دراز ہونا۔ یہ درحقیقت حضورسرورکائناتﷺ کی رفعت وعظمت درجات وکمالات ومعجزات کی طرف اشارہ ہے۔
•دوسری "م" کوبھی حذف کردیاجائےتو باقی "د" رہ جاتاہے اس کامعنی ہے دلیل دینے والا۔

اسم محمدﷺ کی انفرادیت۔۔۔
آپﷺ سےپہلےعرب وعجم میں کسی کانام "محمد" نہیں رکھاگیا۔ البتہ جوں جوں آپﷺ کی ولادت کازمانہ قریب آتاگیااور اس وقت کےاہل کتاب لوگوں نے جناب رسالت ماٰبﷺ کی آمدکی خوشخبریاں سنائیں کہ عنقریب پیدائونے والےنبی آخرالزماں کانام "محمد" ہوگا تولوگوں نےیہ سن کر حصول شرف کےلیے اپنےبچوں کےنام محمدرکھی۔
البتہ "احمد" نام کسی نے نہیں رکھا اور خداتعالی کی قدرت کہ جن کےنام "محمد" رکھےگئے ان میں سےکسی نے نبوت کادعوٰی نہیں کیا۔
حافظ ابن کثیرنے چھ ایسے افرادکے نام لکھےہیں جواس مبارک نام "محمد" سےموسوم ہوئے۔
•محمد بن اصیحہ •محمدبن سفیان •محمدبن مسلم •محمدبن عمران •محمدبن براہ کیندی •محمدبن خزاعی

اسم محمدﷺ کی برکات
•فتاوٰی امام شمس الدین سخاوی میں ہے کہ ابوشعیب حیرانی نےامام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ سےروایت کی ہےکہ جوشخص حاملہ بیوی کےپیٹ پرہاتھ رکھ کرکہے
"اِنْ کَانَ ذَکَراً فَقَدْ سٓـّمَیْتُهٗ مُحَـّمَد" اگر لڑکاہے تو اس کانام محمد ہوگا۔انشاءاللہ العزیز لڑکاپیداہوگا۔
(احکام شریعت حصہ اول صفحہ 83)
•ایک مرتبہ حضرت جلیلہ بنت عبدالجلیل رضی اللہ عنہانے سرکار دوعالمﷺ سےعرض کی کہ میرےبچے زندہ نہیں رہتے۔ آپﷺ نےفرمایا کہ نذرکروکہ جولڑکا اللہ رب العزت نے عطاکیاتو میں اس کانام "محمد" رکھوں گی۔ آقاﷺ نےفرمایا کہ میں امیدکرتاہوں کہ اللہ تیرے بیٹے کولمبی عمردےگا اور اسکی نسل میں برکت ہوگی انہوں نےنذر مانی۔
چنانچہ حضرت جلیلہ کےہاں بیٹاپیداہوا ان کانام محمد رکھاگیا انہیں عمر دراز ملی اور نسل میں اللہ نےایسی برکت عطافرمائی کہ بحرین میں ان کاقبیلہ سب سےبڑاتھا۔
(نزھتُ البأس جلد دوم صفحہ 217)
•حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روزسرکار دوعالمﷺ نےفرمایاکہ قیامت کےروز دواشخاص کوپیش کیاجائےگا۔ حکم ہوگا کہ انہیں جنت میں داخل کردیاجائے۔ انہیں تعجب ہوگاکہ مولائے کریم ہمارے اعمال نامے میں توکوئی نیکی نہیں ہے توپھر اس فضل وکرم کامعاملہ کیوں کیاجارہاہے؟ حکم ہوگا کہ جاؤ میرے بندو جنت میں جاؤ مجھے اپنی کبریائی کی قسم ہےمیرے جس بندے کانام "محمد" اور "احمد" ہوگا اسےجہنم کی آگ میں نہ ڈالوں گا۔
(مدارج النبوہ جلد1 صفحہ 246)
•حضرت عبداللہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ جناب رسالت ماٰبﷺ نےارشادفرمایا کہ جس شخص نےاپنے بیٹےکانام میری محبت، میری دوستی اور میرے تعلق کی بناء پر "محمد" رکھا وہ شخص اور اس کالخت جگر میرے ہمراہ جنت میں جائیں گے۔
(احکام شریعت جلد1 صفحہ 80)
(جاری ہے)

پتہ:۔ کراچی│پاکستان
رابطہ:۔ مضمون نگار کی اجازت کے بغیر برقی پتہ یا موبائل نمبر شائع نہیں کیا جاتا۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.