Header Ads

سیرۃ النبیﷺ│قسط نمبر8

خدائی نرسنگ اسٹاف۔۔۔
مفسرین اورمحققین نےسرورکائناتﷺ کی تاریخ ولادت میں اختلاف کیاہے۔ بعض نےآٹھ بعض نےنُو اور بعض نے بارہ ربیع الاول بیان کی ہے۔ نُو اوربارہ ربیع الاول پراکثرکااتفاق ہے۔
آپﷺ کی ولادت صبح صادق نورکےتڑکے پیرکےروز ہوئی۔
اماں آمنہ فرماتی ہیں کہ ولادت کاوقت جب قریب آیا تومیرےپاس صرف دوعورتیں حضرت عبدالرحمٰن ابن عوف کی والدہ اورحضرت عثمان بن ابی العاص کی والدہ موجودتھیں۔
میں کیادیکھتی ہوں کہ چند دراز قد عورتیں میرے کمرےمیں داخل ہوئیں۔ میرےپوچھنےپرایک نے اپنانام آسیہ دوسری نےاپنانام مریم بتایا۔ ان کےساتھ باقی جنت کی حوریں تھیں۔ یہ درحقیقت محسن انسانیتﷺ کے لئےخدائی نرسنگ اسٹاف تھا کہ اللہ نےاپنےحبیب کی ولادت کےلئےاوراماں آمنہ کی خدمت کےلیےاعلٰی اور پاکیزہ عملہ منتخب فرمایا جس کی سربراہ حضرت مریم اورحضرت آسیہ کومقررکیا ایک نبی کوجنم دینےوالیں دوسری نبی کی پرورش کرنےوالیں۔
اماں آمنہ فرماتی ہیں کہ اُس روز کمرےکےچراغ میں تیل ختم ہوگیااور وہ بجھ گیاولادت کامرحلہ شروع ہواتوحضرت ابن عوف کی والدہ کوچراغ کی روشنی کاانتظام کرنےکی فکر لاحق ہوئی مگر اسی دوران ہی سرکاردوعالمﷺ کی ولادت باسعادت ہوگئی اورکمرہ اتنامنورہوگیاکہ پھرکسی روشنی کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔

تاریخی اورعظیم الشان دن۔۔۔
سرکاردوعالمﷺ کی ولادت کادن بڑاتاریخی اورعظیم الشان دن تھا۔ ایوان کسرٰی میں زلزلہ آگیاجس سےاس کےمحل کےچودہ کنگرے گرگئے، فارس کاآتش کدہ جوہزاروں سال سےروشن تھا اچانک بجھ گیا، باطل کاغرورخاک میں مل گیا، صنم خانوں کےبت سرنگوں ہوگئے، کفروشرک کےدوزخ کدے سردہوگئے، ظلم وستم ماندپڑگئے، جہالت وبربریت کاشیرازہ بکھرگیا، فسق وفجورسرچھپانےلگے، شیطان کی ہوائیاں اڑنےلگیں، مکروفریب گھبرانےلگے، ضیاءنبوت سےاندھیرابھاگنےلگا، آفتاب نبوت کی درخشندہ کرنوں سےکائنات منورہوگئی، دنیامیں مسرت وشادمانی کاایسادن پہلے کبھی نہ آیاتھا۔ حضوراکرمﷺ کی آمدسےکائنات کاذرہ ذرہ دمک اٹھا، سوکھے درختوں میں بہارآگئی، پرندے تہنیت کےگیت گانےلگے، ستارےسلامی دینےلگے، قدسیوں نےترانہ مسرت پڑھا، فردوسی مہ وشوں نےدرود و سلام کےپھول پیش کیے، سیدہ آمنہ کاکاشانہ نورسے منورہوگیا۔
اماں آمنہ فرماتی ہیں کہ اپنےلال بلنداقبال دوجہاںﷺ کی ولادت کےوقت
میں نےایک نوردیکھا جس سے بصرہ اورشام کےمحل روشن ہوگئے۔

دادا کی گود میں۔۔۔
حضرت عبدالمطلب حطیم کعبہ میں تشریف فرماتھے جب آپﷺ کےدنیامیں آنےکی خوشخبری انہیں ملی، آپ فوراً اٹھے اورگھرتشریف لائے اپنےمرحوم بیٹےعبداللہ کی نشانی کوپیارکیا اور دوجہانوں کے شہنشاہ نومولودپوتے کوہاتھوں میں اٹھاکرکعبۃاللہ لےآئےاور اس عطائےنعمت پرخداکاشکر اداکیا۔

یہودی عالم کی گواہی۔۔۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہےکہ مکہ میں ایک یہودی عالم تجارت کی غرض سے ٹھہرا ہواتھا جس شب سرتاج انبیاﷺ پیداہوئے اس نےقریش سےدریافت کیاکہ کیاآج کی رات تم میں کوئی بچہ پیدا ہواہے؟۔ اس نےبتایا کہ اس کےشانوں پرمہرنبوت ہوگی اور وہ دو روز تک اپنی والدہ کادودھ نہیں پئےگا۔ ہماری تحقیق اورعلم کےمطابق وہ نبی آخرالزماںﷺ ہوگا۔
اسے لوگوں نےبتایاکہ سردار مکہ کی بہو کےہاں ایک بچہ پیداہواہے۔ چنانچہ وہ یہودی عالم آپﷺ کودیکھنے گیا۔ اس یہودی عالم نےآپﷺ کےدونو شانوں کےدرمیان مہرنبوت کودیکھاتو بیہوش ہوکرگرپڑا۔ جب ہوش میں آیاتو اس نےکہا افسوس بنی اسرائیل سےنبوت بھی گئی اورکتاب بھی گئی۔
پھراس نےقریش سےمخاطب ہوکرکہاکہ یہ بچہ تم پرایساحملہ کرے گاجس کی خبرمشرق سےمغرب تک پھیل جائےگی۔۔۔۔
( جاری ہے)

مضمون نگار:۔ محمدابوبکرصدیق
پتہ:۔ کراچی│پاکستان
رابطہ:۔ مضمون نگار کی اجازت کے بغیر برقی پتہ یا موبائل نمبر شائع نہیں کیا جاتا۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.