تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

منگل، 20 جنوری، 2015

سیرۃ النبیﷺ│قسط نمبر 7

ہاتھیوں والوں کاحشر۔۔۔
آنحضرتﷺ کی پیدائش سے پچاس یاپچپن دن پہلے ایک عجیب وغریب تاریخی واقعہ پیش آگیا۔ شاہ حبشہ نجاشی کے حکم سےیمن کے گورنر ابرہہہ بن الصباح نےایک خوبصورت شاندار اور پروقار گرجا تعمیرکیاتاکہ لوگ مکہ کےکعبۃاللہ کوچھوڑکراس طرف آئیں۔
تاریخ میں دو روایتیں ہیں۔ ایک یہ کہ عرب میں جب یہ خبرمشہورہوئی توقبیلہ کنانہ کاکوئی آدمی اس گرجہ میں جاکرپائخانہ کرآیا۔
دوسری روایت کے مطابق عرب کےجوانوں نےآگ جلائی جو اڑکرگرجاکو لگ گئی جس سے وہ گرجاجل کرراکھ ہوگیا۔
ابرہہ نےسناتوآگ بگولہ ہوگیااور اس نے قسم کھائی کہ جب تک کعبۃاللہ کومسمار اورمنہدم نہ کرلوں گاچین سے نہیں بیٹھوں گا۔
چنانچہ ابرہہ ساٹھ ہزارلشکریوں اورسدھائے ہوئے ہاتھیوں کی فوج کے ساتھ مکہ پہنچ گیا۔ اہل عرب نےہاتھی پہلی مرتبہ دیکھے تھے۔
عرب خوفزدہ ہوگئے۔
ابرہہ کی فوج نےمکہ کےقریب ڈیرےڈال دیئے۔ ابرہہ کےلشکری قریش کےاونٹ پکڑلائےحضرت عبدالمطلب کویہ اطلاع ملی توآپ ایک وفدلیکرابرہہ کوملنےگئے۔
حضرت عبدالمطلب بڑےحلیم، معاملہ فہم اورصاحب بصیرت انسان تھے وہ صحیح معنوں میں ایک سردار تھے۔ اس قدرحسین وجمیل تھےکہ ابرہہ نےآپ کودیکھاتوتخت پربیٹھنابھول گیا۔ نتیجتاً فرش پرگاؤتکیے لگاکردونو راہنمابیٹھ گئے۔ مذاکرات شروع ہوئے۔ ابرہہ نےان کےآنےکامقصدپوچھا۔ عبدالمطلب نے کہاکہ تمہارےلشکری میرےقبیلہ کےاونٹ پکڑ لائے ہیں میں ان کی شکایت لیکرآیاہوں۔ ابرہہ نےحکم دیاکہ قریشی سردارکی آمدکےاعزاز میں وہ اونٹ چھوڑدیئےجائیں۔ آپ نےشکریہ اداکیا اور جانےکے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابرہہ بڑاحیران ہوا اورکہنےلگاکہ میں توآپ کوبڑاسمجھدار اوردانا سردار سمجھتاتھا۔ لیکن یہ کیااونٹوں کی بات آپ نےکردی آپ نےاصل بات توکی نہیں میں توآپ کاکعبہ مسمارکرنےآیاہوں۔ حضرت عبدالمطلب بڑےحلیم الطبع تھے بڑےاطمینان سےجواب دیاکہ
"اونٹ ہمارےتھےان کی بات ہم نے کی کعبہ خدا کاگھر ہےاسکی بات وہ خود تمہارےساتھ کرے گا"
وہاں سےواپس آکرسردارمکہ نےبیت اللہ میں کھڑےہوکردعاکی۔ اےپروردگارعالم ہم کمزوروناتواں ہیں توخودہی اپنےگھرکی حفاظت فرما۔ سردارمکہ سارےاہل مکہ کولیکرپہاڑپرچلےگئے۔
ہاتھیوں کی فوج کوتیارکیاگیا۔ ایک سدھائےہوئے ہاتھی کوشراب پلاکرآگےلگایاگیا جس نےکعبۃاللہ کوٹکرمارکرگراناتھا۔ وہ تیزی سےآگےبڑھا جوں ہی بیت اللہ کےرُخ پڑا ہاتھی فوراًسجدہ ریزہوگیا۔
خداتعالٰی نےاپنےگھرکوبچانےکےلیے چھوٹےپرندوں ابابیلوں سےکام لیا۔ ابرہہ کےحملےکےوقت ابابیل سبزرنگ کے پرندوں کےغول فضامیں نمودارہوئے۔ انکی چونچوں میں اور پنجوں میں معمولی دانوں کےبرابرکنکرتھے۔ انہوں نےاللہ کےحکم سے چھوٹے چھوٹےکنکروں کودشمن کی فوج اورہاتھیوں کےاوپرگرایا۔ یہ کنکرجس ہاتھی پرپڑتاوہ دوٹکڑے ہوجاتا جس انسان پرپڑتا اس کے ٹکڑے ہوجاتے۔ جولوگ بھاگےوہ بری طرح مرے یہ کنکریاں مسور یاچنےکےبرابرتھیں۔
اللہ تعالٰی نےبیت اللہ پرحملہ کرنےوالوں کی تباہی وبربادی کامنظرقرآن مجیدمیں بیان فرمایاہے۔
ارشادفرمایا کہ ہم نےہاتھیوں والوں کو "كٓعٓصْفٍ مٓأكُوْل" یعنی کھائےہوئےبھوسےکی مانندکردیاجس طرح ایک نخیراگھوڑاچارے کوتباہ وبربادکردیتاہے اسی طرح پروردگارعالم نےاپنےگھرکےدشمنوں کوتہس نہس کردیا۔
ابرہہ کےجسم میں پیپ پڑگئی اس کاگوشت گلناشروع ہوگیا وہ صفاء تک بمشکل پہنچاتھاکہ اس کاسینہ پھٹ گیااوردل باہرنکل آیا۔ پھرمولٰی کریم نےایساسیلاب بھیجا جوسارے لشکرکو بہاکر لےگیا۔
اس واقعہ کےبعدکعبۃاللہ کی عظمت اورتقدس میں اضافہ ہوا۔ قریش کی شہرت اورتوقیر کوچارچاندلگ گئے۔ قبائل عرب قریش کےگرویدہ ہوگئے۔
گویااللہ رب العزت نےاپنے محبوب پاکﷺ کی آمدسے قبل بیت اللہ اوراسکےخادموں کابول بالا کردیا۔
اب بھی جولوگ اللہ اوراس کےگھروں سےجڑےرہیں گےاللہ تعالٰی انہیں سربلندرکھے گا۔ دنیاکی کوئی طاقت نہ اللہ کےگھروں کومٹاسکتی ہے اور نہ ان کےخادموں کومٹا سکتی ہے۔
پروردگار عالم ہم سب کواپنی اور اپنے گھرکی محبت عطافرمائے(آمین)
(جاری ہے)

مضمون نگار:۔ محمدابوبکرصدیق
پتہ:۔ کراچی│پاکستان
رابطہ:۔ مضمون نگار کی اجازت کے بغیر برقی پتہ یا موبائل نمبر شائع نہیں کیا جاتا۔

Post Top Ad

loading...