Header Ads

سیرۃ النبیﷺ│قسط نمبر 6

نور نبوتﷺ
سرکار دوعالمﷺ کے دادا نے اپنے عزیز بیٹے عبداللہ کی شادی کے لیےبنی زہرہ سے بی بی آمنہ کاانتخاب فرمایا۔
اُم قتال جوکہ عالمہ تھی اور عیسائی عالم ومبلغ ورقہ بن نوفل کی بہن تھی اس نےحضرت عبداللہ کی پیشانی سے نورنبوت دیکھ کرآپ کوگناہ کی دعوت دی تاکہ نورنبوت اسے منتقل ہوجائے لیکن حضرت عبداللہ نے نیک فطرت ہونے کی بناپرصاف جواب دیدیا۔
جب حضرت عبداللہ نکاح کے لیے جارہے تھے توایک یہودی عورت جس کانام فاطمہ تھا یہ تورات وانجیل کی بڑی عالمہ تھی اس نے بھی آپ کی پیشانی پر نور نبوت دیکھ کر آپ کوبلایا تاکہ نورنبوت اپنی طرف منتقل کرسکے اور سو اونٹوں کی پیشکش بھی کی مگرحضرت عبداللہ نے اسے کہاکہ جس کام کی تو طلبگار ہے وہ مجھ سےنہ ہوسکے گا۔
حضرت آمنہ سے نکاح کے بعد دوبارہ اس عورت سے آپ کی ملاقات ہوئی تواس نے کہا واللہ میں کوئی بدکار عورت نہیں تمہارے چہرے پہ نورنبوت دیکھ کر میں نے چاہاتھا کہ یہ نبوت کی نعمت مجھے مل جائے۔

اماں آمنہ کی شہادتیں۔
فخردوعالمﷺ کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ میں جب امید سے ہوئی اور شہنشاہ دوجہاں میرے بطن میں مہمان بن کرآئے۔ میں نےاپنےاندرعجیب سی تبدیلیاں محسوس کیں۔
زچگی کےایام میں عورتیں جوبوجھ اورتکلیف محسوس کرتی ہیں مجھےاس کاقطعاً احساس نہیں ہوا۔ مکہ کی گلیاں اوربازار اُس زمانےمیں آج جیسے نہ تھےکبھی ان راہوں میں سخت اورنوکیلےپتھراور روڑے ہواکرتےتھے۔ اماں فرماتی ہیں کہ کوئی پتھراور روڑامیرے پاؤں کےنیچے آجاتاتوروئی کے گالے کی طرح نرم ہوجاتا۔ اماں فرماتی ہیں میں جب کوئیں پرپانی لینے جاتی میرے ڈول ڈالتےہی پانی کنویں کی منڈیرپرآجایاکرتا۔
اماں فرماتی ہیں کہ ولادت سےقبل مجھےعجیب وغریب خواب نظرآتے تھے۔ اکثرمجھے نوردکھائی دیتاتھا۔ ایک روزاپنی سہیلیوں سے ذکرکیاکہ جب سےیہ بچہ میرے بطن میں آیاہےعجیب وغریب خواب دیکھتی ہوں۔ اُن عورتوں نےکہا بہن! ان ایام میں سایہ کااثرہوجاتاہے ہم ان ایام میں لوہےکاکڑا بنواکر پہن لیتی ہیں تم بھی پہن لو یہی تمہاراعلاج ہے اس سے خواب نظرنہیں آئیں گے۔ اماں فرماتی ہیں کہ ان کے کہنےپرمیں نے لوہے کاکڑابنواکرپہن لیا۔ پہلی ہی رات میں ایک بزرگ ہستی، نورانی چہرہ، سفیدداڑھی اوروجیہہ شکل وصورت خواب میں نظرآئے۔ میرےقریب آکرانہوں نےاپنی شہادت کی کی انگلی سےاشارہ کیاگلے میں موجود کڑاان کےاشارےسے ٹوٹ کرگرگیا۔ میں نےپریشانی کےعالم میں پوچھا آپ کون ہیں؟ اوریہ کیاظلم کیاکہ میراکڑا کیوں توڑدیا؟ یہی تومیراعلاج تھا۔ ان بزرگ نےفرمایا بیٹی میں ابراھیم خلیل اللہ ہوں میں تمہیں بشارت دینےآیاہوں کہ تیرےبطن میں کوئی معمولی بچہ نہیں ہےبلکہ نبیوں کاسردار، امت کادلدار، آقائےنامدار اورختم نبوت کاتاجدارہے۔ ہماری غیرت نےگوارہ نہ کیاکہ ہماری بیٹی بھی توھم پرستی کاشکارہوجائے۔ بیٹی تیرے بطن میں وہ مقدس ہستی ہےجوشرک کے، بدعت کے، توھم پرستی کے، فسق وفجور کے، جہالت کے، ظلم وستم کے اورغلامی کے کڑےتوڑڈالے گی۔ یہ ہستی جب آئے گی توحق کابول بالا ہوگا، سچ کااجالاہوگا، کفرکامنہ کالاہوگا، یہ پیغمبرسب سے اعلٰی ہوگا۔

خوشبوکامعاملہ۔۔۔
اماں آمنہ جن دنوں امانت نبوت کی امین ہوئیں آپ سے خوشبوآیاکرتی تھی۔ مکہ کی عورتوں میں یہ بات چل نکلی کہ سردارمکہ کی بہونہایت قیمتی عطراستعمال کرتی ہے۔ یہ بات حضرت عبدالمطلب تک پہونچی توآپ نےاپنی اہلیہ یعنی آنحضرتﷺ کی دادی کوبلاکر فرمایا آمنہ سےتم ہی پوچھو اور اسے سمجھاؤکہ ایام بیوگی عطریات اورخوشبواستعمال نہ کریں۔ آنحضرتﷺ کی دادی نے فرمایاکہ میں نے کئی بارسوچاکہ آمنہ کوبلاکرپوچھوں لیکن آجکل اس کی شخصیت میں ایساجلال ہےکہ کچھ پوچھنے کی مجھے ہمت نہیں پڑتی۔
ایک روزحضرت عبدالمطلب نےاپنی بہوکوبڑےپیار سےاپنےپاس بلایااورپوچھابیٹی تمہیں اتنی مسحورکن خوشبوکون لاکردیتاہے؟ اماں آمنہ کی آنکھوں میں آنسوں آگئے اورفرمایااباحضورمیں نےتوآج تک بازار نہیں دیکھا۔ میں بھلابیوہ ہوتے ہوئےعطراورخوشبوکیونکراستعمال کرسکتی ہوں۔ آپ خوشبوکی بات کرتے ہیں ان دنوں میں جوکچھ دیکھتی ہوں اگرآپ کےسامنے بیان کردوں توآپ مجھےپاگل اوردیوانی کہیں گے۔
•میں دھوپ میں چلتی ہوں توبادل مجھ پرسایہ کرتے ہیں۔
•پہاڑوں کےپاس جاتی ہوں تووہ ہمکلام ہوتے ہیں۔
•درختوں کےپاس سےگزرتی ہوں توشاخیں جھک کرتعظیم کرتی ہیں۔
•چاندپرنظرڈالتی ہوں تووہ آداب بجالاتاہے۔
•ستاروں کودیکھتی ہوں تووہ مجھےسلامی دیتے ہیں۔
•بیت اللہ کےپاس جاتی ہوں تووہ مجھے خوشخبری سناتاہے۔
•انتہاءیہ ہےکہ جوںجوںمیرےسہاگ کی نشانی کےولادت
 کےدن قریب آتےجارہےہیں اب تومیں جہاں تھوکتی ہوں وہاں سےخوشبوکی لپیٹیں آتی ہیں۔
(جاری ہے)

مضمون نگار:۔ محمدابوبکرصدیق
پتہ:۔ کراچی│پاکستان
رابطہ:۔ مضمون نگار کی اجازت کے بغیر برقی پتہ یا موبائل نمبر شائع نہیں کیا جاتا۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.