تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 17 جنوری، 2015

سیرۃ النبیﷺ│قسط نمبر 5

آنحضرتﷺ کے دادحضرت عبدالمطلب
    حضرت عبدالمطلب جب پیداہوئے توان کے سرمیں ایک سفیدبال تھا اس لیے ان کانام شیبہ رکھاگیا۔
ہاشم کے انتقال کے بعد ایک عرصہ تک عبدالمطلب اور انکی والدہ ایک عرصہ تک مدینہ میں مقیم رہے۔ عبدالمطلب جب کچھ بڑے ہوئےتوآپ کے چچاآپ کو لینے مکہ سے مدینہ آگئے۔
     جب انہیں لے کر مکہ میں داخل ہوئےتو عبدالمطلب اونٹنی پرسوار اپنے چچاکے پیچھے بیٹھے تھے۔ سفرکی صعوبت، چہرے پرگردوغباراوریتیمی کے تاثرات دونو ں نمایاں تھے۔ لوگو ں نے ان سے پوچھا کہ تمہارے پیچھے کون سوار ہیں؟ تو آپ نے حیاکی وجہ سے کہہ دیاکہ یہ میراغلام ہے۔ چنانچہ عبدالمطلب کوگھر لے گئےاور نہلادھلاکر صاف ستھرے کپڑے پہنائے تو لوگوں کومعلوم ہواکہ یہ ھاشم کے بیٹے ہیں۔ اسی بنا پر آپ کا نام عبدالمطلب (مطلب کاغلام) پڑگیا اصل نام "شیبہ" تھا۔
    عبدالمطلب بڑے ہوئے توقریشی سردار بنے۔ آپ حسن و جمال کاپیکر تھے۔ آپ کی سخاوت اور مہمان نوازی اپنے والد سے بھی بڑھ گئی تھی۔ آپ کا دسترخوان اتناوسیع تھاکہ آپ کی مہمان نوازی انسانوں سے گزرکر چرندپرند تک پہنچ گئی تھی ان کے لنگر کایہ عالم تھاکہ جوکوئی بھی آتابھوکا واپس نہ جاتا۔

چاہ زمزم کی تلاش۔۔۔
    قبیلہ جرھم جوکہ مکہ آکرآباد ہوگئے تھے یہ یمن کے رہنے والے تھے ان کوجب عربوں نے یعنی حضرت اسماعیل کی اولاد نے متفق ہوکر مکہ سے نکالا تو یہ جاتے جاتے زمزم کاکنواں بند کرگئے یہاں تک کہ اس کا نام ونشان مٹادیا۔
     اللہ تعالٰی نے رؤیائے صالحہ کے ذریعےحضرت عبدالمطلب کو وہ جگہ کھودنے کا حکم دیا۔ چارمرتبہ آپ کو اشارہ ملا یہاں تک کہ آپ کومتعلقہ جگہ کی نشانی بھی بتائی گئی آپ نے وہ جگہ کھودی توکامیابی سے ہمکنار ہوئےتو اللہ اکبر کانعرہ لگایا۔

حضرت عبداللہ کے بدلے سواونٹ۔۔
    زمزم کاکنواں کھودتے وقت حضرت عبدالمطلب کا ایک بیٹا حارث ان کامعاون اور مددگارتھا۔ آپ نے دعا مانگی کہ اگر اللہ مجھے دس بیٹے عنایت کرے تو میں ایک بیٹا اللہ کی راہ قربان کردونگا اللہ نے ان کی آرزو پوری کردی تو انہوں نے اپنے سب بیٹوں کوجمع کیا اور اپنی نذرکی حقیقت بیان کی۔ سب نے یک آواز ہوکر کہاکہ ہم تیار ہیں آپ نذرپوری کریں چنانچہ قرعہ ڈالا گیا توقرعہ فال حضرت عبداللہ کےنام نکلا۔
       حضرت عبداللہ اپنے بھائیوں میں سب سے زیادہ حسین وجمیل اور حضرت عبدالمطلب کوسب سے زیادہ عزیز تھے۔
       حضرت عبدالمطلب اپنے عزیزترین بیٹے کو قربان گاہ کی طرف لے کر چلے۔ تاریخ میں دو روایتیں ہیں ایک یہ ان کی بہنوں نے واویلہ کیا دوسری یہ کہ ان کے کنبہ قبیلہ نے سوچاکہ اگر یہ رسم چل نکلی توہرکسی کو اپناعزیز بیٹاقربان کرنا پڑے گا۔ چنانچہ ان تمام کے پرزور اصرار پرآپ اپنے انتہائی قدم سے باز آئے فیصلہ یہ ہواکہ دیت یعنی خون بہاپر قرعہ ڈالا جائے۔اس زمانے میں ایک شخص کی دیت دس اونٹ ہواکرتی تھی۔ قرعہ ڈالا گیا توحضرت عبداللہ کانام نکلا۔ عبدالمطلب دس دس اونٹ زیادہ کرکے قرعہ نکالتے اتفاق سے ہرمرتبہ حضرت عبداللہ کانام نکلتا بالاٰخر جب سو اونٹ ہوگئے تو قرعہ اونٹوں کے نام نکلا اس طرح سو اونٹ ذبح کیے گئے اور حضرت عبداللہ سلامت رہے۔۔۔
(جاری ہے)


مضمون نگار:۔ محمدابوبکرصدیق
پتہ:۔ کراچی│پاکستان
رابطہ:۔ مضمون نگار کی اجازت کے بغیر برقی پتہ یا موبائل نمبر شائع نہیں کیا جاتا۔

Post Top Ad

loading...