Header Ads

سیرۃ النبیﷺ│قسط نمبر 10

سرکار دوعالمﷺ کانام گرامی بظاہر دادا عبدالمطلب نےرکھا۔ جب آپ نےسیدہ آمنہ سےپوچھااوران سےنام کےبارے میں رائے لی توانہوں نےفرمایاکہ میرےآکاشِ ذہن پرتوایک ہی نام چھایاہواہے اور وہ ہےاسم محمدﷺ۔ حضوراکرمﷺ کےدادا عبدالمطلب نےاپنےپوتےکاعقیقہ کیااورخاندان والوں کی دعوت کی سب کےپوچھنےپرپوتے کانام بتایاتوسب حیران رہ گئےاورپوچھاکہ آپ نےخاندانی اور روایتی ناموں سےہٹ کرایسانام کیوں رکھا عبدالمطلب نےجواب دیا۔
"آرٓدْتُ آنْ یٓحْمدہٗ الله تعالٰى في السماء وخلقهٗ في الارض"
میں امیدکرتاہوں کہ اللہ تعالٰی آسمانوں میں اور مخلوق زمین میں میرے نومولود پوتےکی تعریف کریں گے۔
اسم محمد واحدمعجزہ۔۔۔
اللہ تعالٰی نےتمام انبیاء کومعجزات عطافرمائےلیکن اپنےمحبوبﷺ کومجسم معجزہ بنایا۔ انہی معجزوں میں ایک معجزہ سرکاردوعالمﷺ کےدونو اسماء گرامی نام نامی "احمد" اور "محمد" ہیں۔ سرکاردوعالمﷺ کے دونو اسماء ذاتی احمد اورمحمدﷺ کواعجازلفظی، تاثیرمعنوی، فضائل وبرکات، معرفت حق، اسرارو رموز اورعظمت ورفعت کےلحاظ سےرہتی دنیاتک بقائےدوام حاصل رہےگا۔

صفاتی نام۔۔۔

جناب رسالت ماٰب کےذاتی نام احمد اورمحمدﷺ ہیں۔ صفاتی نام بےشمار ہیں۔ ایک روایت ہےکہ صفاتی نام ننانوے ہیں۔ دوسری روایت ہے کہ آپﷺ کےصفاتی نام تین سو ہیں۔ علامہ سخاوی نےچارسو صفاتی نام بیان کیےہیں۔ علامہ جلال الدین سیوطی نےپانچ سوصفاتی نام بیان کیے ہیں۔ صاحب تفسیرروح البیان اور قاضی ابوبکرابن عربی نےآپﷺ صفاتی نام ایک ہزار بیان کیے ہیں۔

قرآن میں اسم محمد واحمدﷺ

قرآن مجیدمیں اسم احمد ایک مرتبہ اوراسم محمد چارمرتبہ آیاہے

اسم احمد

وٓمُبٓشّراً بِرٓسُوْلٍ يّأتِيْ مِنْ بٓعْدِى اسْمُه آحْمٓدْ(سورۃالصف پارہ ٢٨آیۃ نمبر٦)
اسم محمد

وٓمٓامُحٓمّدٌاِلاّ رٓسُوْلٌ(آل عمران پارہ٤ آيۃ١٤٤)
مٓاكٓانٓ مُحٓـمّدٌآبٓاآحٓدٍ(الاحزاب پارہ٢٢ آيۃ٤٠)
وَالّذِيْنٓ اٰمٓنُوْوٓعٓمِلُوْاالصّٰلِحٰتِ وٓاٰمٓنُوْا بِمٓانُـّزِلٓ علی مُحٓـّمٓد(سوره محمد پارہ٢٦آيۃ٢)
مُحٓـّمٓدالّرٓسُوْلُ اللہ (الفتح پارہ ٢٦آیۃ٢٩)
انبیاء کرام کےناموں پرغورکیجیے۔ ہرنبی کانام نبی کی شکل وصورت، جسمانی ساخت، ظاہری سیرۃ اور خصائل کاآئینہ دار ہے۔ کوئی نام باطنی صفت کی ترجمانی نہیں کرتا اورنہ عظمت روحانی نہ باطنی محاسن کی ترجمانی کرتاہے۔
فقط اسم محمدﷺ واسم احمدﷺ ہی وہ نام ہیں جوظاہری حسن وجمال کےساتھ ساتھ صفات نبوت ورسالت کی عظمت کتاب وامت کی رفعت، روحانیت، نورانیت، درجات، کمالات معجزات، عطایا اورنوازشات کی غمازی کرتے ہیں۔

مادہ مشترک۔۔۔

محمد اور احمد دونوں ناموں کامادہ ایک ہے۔ احمدکاپہلاحرف اورمحمد کاپہلاحرف ہٹائیں توباقی "حمد" رہ جاتاہے اور حمدکے معنٰی اللہ تعالٰی کی تعریف وتوصیف اور صفت وثنابیان کرناہے۔
گرامرکی رو سے
احمد حمدکا اسم فاعل ہے اور محمد حمدکا اسم مفعول ہے۔
سرکاردوعالمﷺ کی پوری زندگی ذکرالٰہی سےعبارت ہے۔
ولادت کےبعدزبان مصطفٰیﷺ سےجاری ہونے والا پہلاکلمہ "لاالٰه الاالله اني رسول الله"
اورزندگی کاآخری کلمہ "اهلهم بل رفيق الاعلٰى"
گویاجناب رسالت ماٰبﷺ کی زندگی کاکوئی لمحہ کوئی ساعت کوئی گھڑی اللہ کی یادسے غافل نظرنہیں آتی۔ محبوب خداﷺ نےامت کوبھی اللہ تعالٰی کی حمد، صفت وثناء، تعریف وتوصیف پرلگایا اسی لیے اس امت کالقب "حٓـّمَادُوْنْ" ہے
رب تعالٰی کی سب سےزیادہ جس نےتعریف کی وہ احمدﷺ ہیں۔
رب تعالٰی نےسب سےزیادہ جس کی تعریف کی وہ محمدﷺ ہیں۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.