تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

اتوار، 6 جولائی، 2014

Jin Cheezon Se Rozah Nahi TootTa aur jin Cheezon Se Toot Jata Hai aur Qaza Kaffara Lazim AAta Hai

مسئلہ(1):۔ اگر روزہ دار بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے یا بیوی سے ہمبستر ہوجائے تو اسکا روزہ نہیں ٹوٹتا۔
اگر بھول کر پیٹ بھر بھی کھا لے تب بھی روزہ نہیں ٹوٹتا اور اگر بھول کر کئی دفعہ کھا پی لیا تب بھی روزہ نہیں گیا۔‬
مسئلہ(2):۔ ایک شخص کو بھول کر کچھ کھاتے پیتے دیکھا تو اگر وہ اس قدر طاقت ور ہے کہ روزہ سے زیادہ تکلیف نہیں ہوتی تو روزہ یاد دلانا واجب ہے۔
اور اگر کوئی اس قدر ضعیف ہوکہ روزہ سے تکلیف ہوتی ہے تو اسکو یاد نہ دلائے کھانے دے۔
مسئلہ (3):۔ دن کو سو گئے  اور ایسا خواب دیکھا  جس سے نہانے کی ضرورت ہوگئی تو روزہ نہیں ٹوٹا۔
مسئلہ(4):۔ دن کو سرمہ لگانا، تیل لگانا، خوشبو سونگھنا درست ہے، اس سے روزہ میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں آتا چاہے جس وقت ہو۔
بلکہ اگر سرمہ لگانے کے بعد تھوک میں یا رینٹھ میں سرمہ کا رنگ دکھائی دے تو بھی روزہ نہیں گیا نہ مکروہ ہوا۔
مسئلہ(5):۔ مرد اور عورت کا ساتھ لیٹنا ہاتھ لگانا پیار کرنا یہ سب درست ہے۔ لیکن اگر جوانی کا اتنا جوش ہوکہ  ان باتوں  سے صحبت کرنے کا ڈر ہو تو ایسا نہ کرنا چاہیئے، مکروہ ہے۔
مسئلہ(6):۔ حلق کے اندر مکھی چلی گئی یا آپ ہی آپ دھواں چلا گیایا گردوغبار چلا گیا تو روزہ نہیں گیا۔ البتہ اگر جان بوجھ کر ایسا کیا تو روزہ جاتا رہا۔

مسئلہ(7):۔ لوبان وغیرہ کوئی دھونی سلگائی پھر اس کو اپنے پاس رکھ کر سونگھا کیا تو روزہ جاتا رہا(ٹوٹ گیا)۔
اسی طرح حقہ پینے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ البتہ اس دھوئیں کے سوا عطر، کیوڑا، گلاب، پھول وغیرہ اور خوشبو سونگھنا جس میں دھواں نہ ہو درست ہے۔
مسئلہ(8):۔ دانتوں میں گوشت کا ریشہ اٹکا ہوتھا یا ڈلی کا دھورا(چھالی) وغیرہ کوئی اور چیز تھی اس کو خلال سے نکال کر کھاگئے لیکن منہ سے باہر نہیں نکالا آپ ہی آپ حلق میں چلی گئی تو دیکھو اگر چنے سے کم ہے تب تو روزہ نہیں گیا ۔ اور اگر چنے کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو روزہ ٹوٹ گیا۔
البتہ اگر منہ سے باہر نکال لیا تھا پھر اسکے بعد نگل گئے تو ہر حال میں روزہ ٹوٹ جائے گا چاہے وہ چیز چنے کے برابر ہو یا اس سے بھی کم ہو دونو کا ایک حکم ہے ۔(روزہ ٹوٹ جائے گا)
مسئلہ(9):۔ تھوک نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا چاہے جتنا بھی ہو۔
مسئلہ(10):۔ اگر پان کھا کر کلی غرغرہ کر کے منہ صاف کرلیا لیکن تھوک کی سرخی نہیں گئی تو اس کا کچھ حرج نہیں روزہ ہوگیا۔
مسئلہ(11):۔ رات کو نہانے کی ضرورت ہوئی  مگر غسل نہیں کیا  دن کو نہائے تب بھی روزہ ہوگیا، بلکہ اگر دن بھر نہ نہائے  تب بھی روزہ نہیں جاتا البتہ اس کا گناہ الگ ہوگا۔
مسئلہ(12):۔ ناک کو اتنے زور سے سڑک لیا کہ حلق میں چلی گئی تو روزہ نہیں ٹوٹا۔ اسی طرح منہ کی رال سڑک کر کے نگل جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔


مسئلہ(13):۔ منہ میں پان دبا کر سوگئے اور صبح ہوجانے کے بعد آنکھ کھلی تو روزہ نہیں ہوا، قضا رکھے کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ(14):۔ کلی کرتے وقت حلق میں پانی چلا گیا اور روزہ یاد تھا تو روزہ ٹوٹ گیا۔ قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ(15):۔ آپ ہی آپ قے ہوگئی تو روزہ نہیں گیا چاہے تھوڑی سی قے ہو یا زیادہ۔
ہاں اگر خود سے قے کی اور بھر منہ قے ہوئی تو روزہ جاتا رہا اور اگر اس سے تھوڑی ہو تو خود سے کرنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹا۔
مسئلہ(16):۔ تھوڑی سی قے آئی اور آپ ہی آپ حلق میں لوٹ گئی تب بھی روزہ نہیں ٹوٹا۔ البتہ اگر جان بوجھ کر لوٹا لیا تو روزہ ٹوٹ گیا۔
مسئلہ(17):۔ کسی نے کنکری يا لوہے کا ٹکڑا وغيرہ کوئی ایسی چيز کھالی جس کو نہيں کھايا کرتے اور نہ اس کو بطور دوا کھاتے ہيں تو اس کا روزہ جاتا رہا، ليکن اس پر کفارہ واجب نہيں۔
اور اگر ایسی چيز کھائی يا پی جس کو لوگ کھايا کرتے ہيں يا کوئی ایسی چيز ہے کہ يوں تو نہيں کھاتے ليکن بطور دوا کے ضرورت کے وقت کھاتے ہيں تو بھی روزہ جاتا رہا اور قضا و کفارہ دونوں واجب ہے۔
مسئلہ(18):۔ اگر ہمبستری کی تب بھی روزہ جاتا رہا   ، اس کی قضا بھی رکھے اور کفارہ بھی دے۔
جب مرد  کے پیشاب کے مقام کی سپاری اندر چلی گئی  تو روزہ ٹوٹ گیا اور قضا و کفارہ  واجب ہوگئے، چاہے منی نکلے یا نکلے۔
مسئلہ(19):۔ اگر مرد نے پاخانے کی جگہ اپنا عضو کردیا اور سپاری اندر چلی گئی، تب بھی  عورت مرد دوونوں کا روزہ ٹوٹ گیا، قضا و کفارہ دونوں واجب ہے۔
مسئلہ(20):۔ روزے کے توڑنے سے کفارہ جب ہی لازم آتا ہے جب کی رمضان شريف ميں روزہ توڑ ڈالے اور رمضان اور رمضان شريف کے سوا اور کسی روزے کے توڑنے سے کفارہ واجب نہيں ہوتا ، چاہے جس طرح توڑے اگرچہ وہ رمضان کے روزے کی قضا ہی کيوں نہ ہو۔
البتہ اگر اس روزہ کی نيت رات سے نہ کی ہو يا روزہ توڑنے کے بعد اسی دن حيض آگيا ہو تو اس کے توڑنے سے کفارہ واجب نہيں۔
مسئلہ(21):۔ کسی نے روزہ ميں ناس لیا یا کان میں تیل ڈلا یا جلاب میں عمل لیا اور پینے کی دوا نہیں پی تب بھی روزہ جاتا رہا ۔ لیکن صرف قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔ اور اگر کان میں پانی ڈالا تو روزہ نہیں گیا۔
مسئلہ(22):۔ روزہ میں پیشاب کی جگہ کوئی دوا رکھنا یا تیل وغیرہ کوئی چیز ڈالنا  درست نہیں ، اگر کسی نے دوا رکھ لی تو روزہ جاتا رہا  قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ(23):۔ کسی ضرورت سے  دائی  نے پیشاب کی جگہ انگلی ڈالی یا خود اس نے اپنی انگلی ڈالی، پھر ساری انگلی یا تھوڑی سی انگلی نکالنے کے بعد پھر اندر کردی  تو روزہ جاتا رہا ۔ لیکن کفارہ واجب نہیں۔
اور اگر نکالنے کے بعد پھر نہیں کی تو روزہ نہیں گیا ، ہاں اگر پہلے ہی سے  پانی وغیرہ کسی چیز میں انگلی ہوئی ہو تو پہلی ہی دفعہ کرنے سے روزہ جاتا رہےگا۔
مسئلہ(24):۔ منہ سے خون نکلتا ہے اس کو تھوک کے ساتھ نگل گئے تو روزہ ٹوٹ گیا۔ البتہ اگر خون تھوک سے کم ہو اور خون کا مزہ حلق میں معلوم نہ ہو تو روزہ نہیں ٹوٹا۔
مسئلہ(25):۔ اگر زبان سے کوئی چیز چکھ کر تھوک دی تو روزہ نہیں ٹوٹا۔ لیکن بے ضرورت ایسا کرنا مکروہ ہے۔
ہاں اگر کسی کا شوہر بڑا بد مزاج ہو اور یہ ڈر ہو کہ اگر سالن میں نمک پانی درست نہ ہوا تو ناک میں دم کر دے گا تو ایسی صورت میں نمک چکھ لینا درست ہے مکروہ نہیں۔
مسئلہ(26):۔ اپنے منہ سے چھوٹے بچے کو کوئی چیز چبا کر کھلانا مکروہ ہے۔
البتہ اگر اس کی ضرورت پڑے اور مجبوری و ناچاری ہو جائے تو مکروہ نہیں۔
مسئلہ(27):۔ کوئلہ چبا کر دانت ماجھنا اور منجن سے دانت مانجھنا مکروہ ہے۔ اور اگر اس میں سے کچھ حلق میں اتر جائے گا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اور مسواک سے دانت صاف کرنا درست ہے چاہے سوکھی مسواک ہو یا تازی اسی وقت کی توڑی ہوئی اگر نیم کی مسواک ہے اور اسکا کڑوا پن منہ میں معلوم ہوتا ہے تب بھی مکروہ نہیں۔
مسئلہ(28):۔ کوئی عورت غافل سو رہی تھی  یا بے ہوش پڑی تھی اس سے کسی نے صحبت کی تو روزہ جاتا رہا ، فقط قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔ اور مرد پر کفارہ بھی واجب ہے۔
مسئلہ(29):۔ کسی نے بھولے سے کچھ کھا لیا اور یوں سمجھا کی میرا روزہ ٹوٹ گیا اس وجہ سے پھر قصداََ ( جان بوجھ کر) کھا لیا تو اب روزہ ٹوٹ گیا فقط قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ(30):۔ اگر کسی کو قے ہوئی اور وہ سمجھا کی میرا روزہ ٹوٹ گیا اس گمان پر پھر جان بوجھ کر کھا لیا اور روزہ توڑ دیا تو بھی قضا واجب ہے کفارہ واجب نہیں۔
مسئلہ(31):۔ اگر سرمہ لگایا یا فصد لی یا تیل ڈالا پھر سمجھا کی میرا روزہ ٹوٹ گیا اور پھر قصداََ کھا لیا تو قضا اور کفارہ دونوں واجب ہے۔
مسئلہ(32):۔ رمضان کے مہینے میں اگر کسی کا روزہ اتفاقاََ ٹوٹ گیا تو روزہ ٹوٹنے کے بعد بھی دن میں کچھ کھانا پینا درست نہیں سارے دن روزہ داروں کی طرح رہنا واجب ہے۔
مسئلہ(33):۔ کسی نے رمضان میں روزے کی نیت ہی نہیں کی اسلئے کھاتا پیتا رہا اس پر کفارہ واجب نہیں۔
کفارہ جب واجب ہوتا ہے کہ نیت کر کے توڑ دیا جائے۔

Post Top Ad

loading...