تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعرات، 17 جولائی، 2014

زکوٰۃ کا بیان۔

جس کے پاس مال ہو اور اسکی زکوٰۃ نہ نکالتا ہو وہ اللہ کے نزدیک بڑا گنہ گار ہے قیامت کے دن اس پر بڑا سخت عذاب ہوگا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ جس کے پاس سونا چاندی ہو اور وہ اسکی زکوٰۃ نہ دیتا ہو قیامت کے دن اس کے لئے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی پھر انکو دوزخ کی آگ میں گرم کرکے اس کی دونوں کروٹیں ، پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی۔ اور جب ٹھنڈی ہوجائے گی پھر گرم کرلی جائیں گی۔
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:۔ جس کو اللہ نے مال دیا اور اس نے زکوٰۃ نہ ادا کی تو قیامت کے دن اس کا مال بڑا زہریلا گنجا سانپ بنایا جائے گا اور اسکی گردن میں لپٹ جائےگا پھر اسکے دونوں جبڑے نوچے گا اور کہے گا : میں ہی تیرا مال اور میں ہی تیرا خزانہ ہوں۔
خدا کی پناہ!! بھلا کون اتنے عذاب کو برداشت کر سکتا ہے؟؟ تھوڑے سے لالچ کے بدلے یہ مصیبت بھگتنا بڑی بے وقوفی کی بات ہے اللہ ہی کی دی ہوئی دولت کو اللہ کی راہ میں نہ دینا کتنی بیجا بات ہے۔

مسئلہ(1):۔ جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا ہو ، یا ساڑھے باون تولہ کی قیمت کے برابر روپیہ ہو اور ایک سال تک باقی رہے تو سال گذرنے پر اسکی زکوٰۃ دینا
واجب ہے۔
اور اگر اس سے کم ہو تو اس پر زکوۃ واجب نہیں، اور اگر اس سے زیادہ ہو تو بھی زکوٰۃ واجب ہے۔
مسئلہ(2):۔کسی کے پاس آٹھ تولہ سونا چار مہینے چھ مہینے تک رہا، پھر وہ کم ہوگیا، اور دو تین مہینے کے بعد پھر مال مل گیا تب بھی زکوٰۃ دینا واجب ہے، غرض کی جب سال کے اول و آخر میں
مالدار ہوجائے اور سال کے بیچ میں کچھ دن اس مقدار سے کم رہ جائے تو ہی زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ بیچ میں تھوڑے دن کم ہوجانے سے زکوٰۃ معاف نہیں ہوتی، البتہ اگر سب مال جاتا رہا ،
اس کے بعد پھر مال ملے تو جب سے پھر ملا ہے تب سے سال کا حساب کیا جائے گا۔
مسئلہ(3):۔ کسی کے پاس آٹھ نو تولہ سونا تھا،لیکن سال گذرنے سے پہلے پہلے جاتا رہا پورا سال نہیں گذر نےپایا تو زکوٰۃ واجب نہیں۔
مسئلہ(4):۔ کسی کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہےاور اتنے ہی روپیوں کا وہ قرض دار ہے تو بھی زکوٰۃ واجب نہیں۔
مسئلہ(5):۔ اگر اتنے کا قرض دار ہے کہ قرضہ ادا ہوکر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت بچتی ہے تو زکوٰۃ واجب ۔
مسئلہ(6):۔ سونے چاندی کے زیور اور برتن اور سچا گوٹہ ٹھپہ سب پر زکوٰۃ واجب ہے۔ چاہے وہ استعمال میں آتا ہو یا نہ آتا ہو۔
غرض کہ چاندی اور سونے کی ہر چیز پر زکوٰۃ واجب ہے، البتہ اتنی مقدار سے کم ہو جو مسئلہ(1) میں بیان کیا گیا تو زکوٰۃ واجب نہیں۔
مسئلہ(7):۔ سونا چاندی اگر کھرا نہ ہو بلکہ اس میں اگر کچھ میل ہو ، جیسے: مثلاََ چاندی میں رانگا ملا ہوا ہو تو دیکھو چاندی زیادہ ہے یا رانگا ، اگر چاندی زیادہ ہو تو اسکا وہی حکم ہے جو چاندی کا حکم ہے، یعنی اگر اتنی مقدار ہو جو مسئلہ(1)بیان کی گئی ہے تو زکوٰۃ واجب ہے، اور اگر رانگا زیادہ ہے تو اسکو چاندی نہ سمجھیں گےپس جو حکم پیتل ، تانبے، لوہے اور رانگے وغیرہ اسباب کا ہے وہی اسکا بھی حکم ہے۔
نوٹ:۔ پیتل ، تانبے، لوہے اور رانگے وغیرہ اسباب کی زکوٰۃ کیا ہوتی ہے ہم آپ کو آگے بتائیں گے۔ ان شاء اللہ
مسئلہ(8):۔ کسی کے پاس نہ تو پوری مقدار سونے کی ہے، نہ پوری مقدار چاندی کی، بلکہ تھوڑا سونا ہے اور تھوڑی چاندی، تو اگر دونوں کی قیمت ملا کر ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہوجائےیا ساڑھے سات تولہ سونے کے برابر ہوجائے تو زکوٰۃ واجب ہے۔
اور اگر دونوں چیزیں اتنی تھوڑی تھوڑی ہیں کہ دونوں کی قیمت نہ اتنی چاندی کے برابر ہے نہ اتنے سونے کے برابر ہےتوزکوٰۃ واجب نہیں۔ اور اگر سونے اور چاندی دونوں کی مقدار پوری پوری ہے تو قیمت لگانے کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ(9):۔ فرض کرو کی کسی زمانے میں پچیس روپئے کا ایک تولہ سونا ملتا تھا اور ایک روپئے کی ڈیڑھ تولہ چاندی ہے اور کسی کے پاس دو تولہ سونا اور پانچ روپئے ضرورت سے زائد ہیں اور سال بھر تک وہ رہ گئے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے۔ کیونکہ دو تولہ سونا پچاس روپئے کا ہوا اور پانچ روپئے کی چاندی پچھتر تولہ ہوئی ، تو اس دو تولہ سونے کی چاندی اگرخریدو گے تو پچھتر تولہ ملے گی اور پانچ روپئے تمہارے پاس ہیں، اس حساب سے اتنی مقدار سے بہت زیادہ مال ہوگیا جتنے پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ البتہ اگر صرف دو تولہ سونا ہو اس کے ساتھ روپئے یا چاندی کچھ نہ ہو تو زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔
نوٹ:۔ سونا اور چاندی کی جو قیمت آپ کو بتائی گئی ہے وہ خیالی ہے آپ کو سمجھانے کیلئے ایسا کیا گیا ہے آپ آج کے حساب سے حساب کرسکتے ہیں۔
مسئلہ(10):۔ ایک روپئے کی چاندی مثلاََ دو تولہ ملتی ہے اور کسی کے پاس فقط تیس روپئے چاندی کے ہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں اور یہ حساب نہ لگائیں کہ تیس روپئے کہ چاندی ساٹھ تولہ ہوئی، کیونکہ روپیہ تو چاندی کا ہوتا ہے اور جب فقط چاندی یا فقط سونا پاس ہو تو وزن کا اعتبار ہوگا قیمت کا اعتبار نہیں(یہ حکم اس وقت کا ہے جب روپیہ چاندی کا ہوتا تھا، آج کل عام طور پر روپیہ گلٹ کا مستعمل ہے اور نوٹ کے عوض میں بھی وہی ملتا ہے اس لئے اب یہ حکم ہے کہ جس شخص کے پاس اتنے روپئے یا نوٹ موجود ہوں جن کی ساڑھے باون تولہ چاندی بازار کے بھاؤ کے مطابق آسکے اس پر زکوٰۃ واجب ہے)
مسئلہ(11):۔ کسی کے پاس سو روپئے ضرورت سے زائد رکھے تھے پھر سال پورا ہونے سے پہلے پچاس روپئے اور مل گئے تو ان پچاس روپئے کا حساب الگ نہ کریں گے، بلکہ اسی سو روپئے کے ساتھ اس کو ملا دیں گے اور جب ان سو روپئے کا سال پورا ہوگا تو پورے ڈیڑھ سو کی زکٰوۃ واجب ہوگی اور ایسا سمجھیں گے کہ پورے ڈیڑھ سو پر سال گذر گیا۔
نوٹ:۔ یہ سو اور ڈیڑھ سو جو بیان کیا گیا ہے وہ صرف سمجھانے کیلئے ہے۔
مسئلہ(12):۔ کسی کے پاس سوتولہ چاندی رکھی تھی پھر سال گذرنے سے پہلے دوچار تولہ سوناآگیا یا نو دس تولہ سونا مل گیا تب بھی اس کا حساب الگ نہ کیا جائےگا بلکہ اس چاندی کے ساتھ ملا کر کے زکٰوۃ کا حساب ہوگا۔
پس جب اس چاندی کا سال پورا ہوجائے گا تو اس سب مال کی زکٰوۃ واجب ہوگی۔
مسئلہ(13):۔ سونے چاندی کے علاوہ اور جتنی چیزیں ہیں جیسے: لوہا، تانبا، پیتل اور رانگا وغیرہ اور ان چیزوں کے بنے ہوئے برتن وغیرہ اور کپڑے جوتے اور اس کے سوا جو کچھ اسباب ہو اسکا حکم یہ ہے کہ اگر اسکو بیچتے اور تجارت کرتے ہوں تو دیکھو وہ اسباب کتنا ہے اگر اتنا ہے کہ اس قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا کے برابر ہے تو جب سال گذر جائے تو اس تجارت کے اسباب میں زکٰوۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو اس میں زکٰوۃ واجب نہیں۔
اور اگر وہ مال تجارت کیلئے نہیں ہے تو اس میں زکٰوۃ واجب نہیں چاہے جتنا مال ہو۔ اگر ہزاروں روپئے کا مال ہو تب بھی زکٰوۃ واجب نہیں۔
مسئلہ(14):۔ گھر کا اسباب جیسے پتیلی، دیگچہ، بڑی دیگ، سینی، لگن اور کھانے پینے کے برتن اور رہنے سہنے کا مکان اور پہننے کے کپڑے سچے موتیوں کا ہار وغیرہ ان چیزوں میں زکٰوۃ واجب نہیں، چاہے جتنا ہو، روز مرہ کے کام میں آتا ہو یا نہ آتا ہو کسی طرح زکٰوۃ واجب نہیں۔ ہاں اگر یہ تجارت کا اسباب ہو تو پھر اس میں زکٰوۃ واجب ہے۔
خلاصہ یہ کہ سونے چاندی کے سوا اور جتنا مال اسباب ہو اگر وہ تجارت کا مال و اسباب ہے تو زکٰوۃ واجب ہے نہیں تو پھر اس میں زکٰوۃ واجب نہیں۔
مسئلہ(15):۔ کسی کے پاس دس پانچ گھر ہیں انکو کرایہ پر چلاتا ہے تو ان مکانوں پر بھی زکٰوۃ واجب نہیں چاہے جتنی قیمت کے ہوں۔ ایسے ہی اگر کسی نے دو چار سو روپئے کے برتن خرید لئے اور ان کو کرایہ پر چلاتا ہے تو اب اس پر بھی زکٰوۃ واجب نہیں، غرضیکہ کرایہ پر چلانے سے مال میں زکٰوۃ واجب نہیں ہوتی۔
مسئلہ(16):۔ پہننے کے دھراؤ جوڑے چاہے جتنے زیادہ قیمتی ہوں اس میں زکٰوۃ واجب نہیں لیکن اگر اس میں سچا کام ہے اور اتنا کام ہے کہ اگر چاندی چھوڑائی جائے تو ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ نکلے گی تو اس چاندی پر زکٰوۃ واجب ہے۔
مسئلہ(17):۔ کسی کے پاس کچھ چاندی یا سونا ہے اور کچھ سوداگری کا مال ہے تو سب کو ملا کر دیکھو اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونے کے برابر ہوجائے تو زکٰوۃ واجب ہے اور اگر اتنا نہ ہو تو زکٰوۃ واجب نہیں۔
مسئلہ(18):۔ تجارت کا مال وہ کہلائے گا جس کو اسی ارادے سے خریدا گیا ہو کہ اس کی تجارت کریں گے، تو اگر کسی نے اپنے گھر کے خرچ کےلئے یا شادی وغیرہ کے خرچ کے لئے چاول خریدا پھر ارادہ ہوگیا ہو کہ لاؤ اسکی تجارت کرلیں تو یہ مال تجارت کا نہیں ہے اور اس پر زکٰوۃ واجب نہیں ہے۔
مسئلہ(19):۔ اگر کسی پر تمہارا قرض آتا ہے تو اس قرض پر بھی زکٰوۃ واجب ہے، لیکن قرض کی تین قسمیں ہیں:۔
(1) ایک یہ کہ نقد روپیہ یا سونا چاندی کسی کو قرض دیا یا تجارت کا سامان بیچا اسکی قیمت باقی ہے اور ایک سال کے بعد یا دو تین سال کے بعد وصول ہوا تو اگر اتنی مقدار ہو جتنے پر زکٰوۃ واجب ہوتی ہے تو ان سب سالوں کی زکٰوۃ دینا واجب ہے۔ اور اگر ایک ساتھ نہ وصول ہوں تو جب اس میں سے گیارہ تولہ چاندی کی قیمت وصول ہو تب اتنے کی زکٰوۃ ادا کرنا واجب ہے۔
نوٹ:۔ حساب سے گیارہ تولہ سے کچھ زائد ہوتا ہے، بوجہ کسر خفیف پورے گیارہ تولہ لکھے گئے، مگر احتیاط اس میں ہے کہ آٹھ تولہ چاندی کی قیمت کی وصولیابی پر دیدے۔
اور اگر گیارہ تولہ چاندی کی قیمت بھی متفرق ہی ہوکر ملے تو جب بھی یہ مقدار پوری ہوجائے اتنی مقدار کی زکٰوۃ ادا کرتا رہے۔ اور جب دے تو سب سالوں کی دے۔
اور اگر قرضہ اس سے کم ہو تو زکٰوۃ واجب نہ ہوگی،البتہ اگر اس کے پاس کچھ اور مال بھی ہو اور دونوں ملا کر مقدار پوری ہوجائے تو زکٰوۃ واجب ہوگی۔
مسئلہ(20):۔
(2) اور اگر نقد نہیں دیا ، نہ تجارت کا مال بیچا بلکہ کوئی چیز بیچی تھی جو تجارت کی نہ تھی جیسے پہننے کے کپڑے بیچ ڈالے یا گھر ہستی کا سامان بیچ ڈالا اسکی قیمت باقی ہے اور اتنی ہے جتنے میں زکٰوۃ واجب ہوتی ہے، پھر وہ قیمت کئی برس کے بعد وصول ہو تو سب برسوں کی زکٰوۃ دینا واجب ہے اور اگر سب ایک دفعہ کر کے نہ وصول ہو بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے ملے تو جب تک اتنی رقم نہ وصول ہوجائے جو نرخ بازار سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت ہو تب تک زکٰوۃ واجب نہیں ہے۔ جب مذکورہ رقم وصول ہو تو سب برسوں کی زکٰوۃ دینا واجب ہے۔
مسئلہ(21):۔
(3) تیسری قسم یہ ہے کہ شوہر کے ذمہ مہر ہو وہ کئی برس کے بعد ملا تو اسکی زکٰوۃ کا حساب ملنے کے دن سے ہے پچھلے برسوں کی زکوٰۃ واجب نہیں، بلکہ اگر اب اس کے پاس رکھا رہے اور اس پر سال گذر جائے تو زکوٰۃ واجب ہوگی۔ نہیں تو واجب نہیں۔
نوٹ:۔ یہ مسئلہ خاص عورتوں کے لئے ہے۔
مسئلہ(22):۔ اگر کوئی مالدار آدمی جس پر زکوٰۃ واجب ہے سال گذرنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دیدے اور سال پورے ہونے کا انتظار نہ کرے تو یہ بھی جائز ہے اور زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے۔ اور اگر مالدار نہیں ہے بلکہ کہیں سے مال ملنے کی امید تھی ، اس امید پر مال ملنے سے پہلے ہی زکوٰۃ دیدی تو یہ زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، جب مال مل جائے اور اس پر سال گذر جائے تو پھر زکوٰۃ دینا چاہیے۔
مسئلہ(23):۔ مالدار آدمی اگر کئی سال کی زکوٰۃ پیشگی دیدے یہ بھی جائز ہے، لیکن اگر کسی سال مال بڑھ گیا تو بڑھتی کی زکوٰۃ پھر دینا ہوگی۔
مسئلہ(24):۔ کسی کے پاس سو روپئے ضرورت سے زیادہ رکھے ہوئے ہیں اور سو روپئے کہیں اور سے ملنے کی امید ہے اس نے پورے دو سو روپئے کی زکوٰۃ سال پورا ہونے سے پہلے ہی دیدی یہ بھی درست ہے۔
لیکن اگر ختم سال پر روپیہ نصاب سے کم ہوگیا تو زکوٰۃ معاف ہوگئی اور وہ دیا ہوا صدقہ نافلہ ہوگیا۔
مسئلہ(25):۔ کسی کے مال پر پورا سال گذر گیا لیکن ابھی زکوٰۃ نہیں نکالی تھی کہ سارا مال چوری ہوگیا یا اور کسی طرح سے جاتا رہا تو زکوٰۃ بھی معاف ہوگئی۔ اگر خود اپنا مال کسی کو دے دیا یا اور کسی طرح اپنے اختیار سے ہلاک کر ڈلا تو جتنی زکوٰۃ واجب ہوئی تھی وہ معاف نہیں ہوئی بلکہ دینا پڑے گی۔
مسئلہ(26):۔ سال پورا ہونے کے بعد کسی نے اپنا سارا مال خیرات کردیا تب بھی زکوٰۃ معاف ہوگئی ۔
مسئلہ(27):۔ کسی کے پاس دو سو روپئے تھے ایک سال کے بعد اس میں سے ایک سو چوری ہوگئے یا ایک سو روپئے خیرات کردئے تو ایک سو کی زکوٰۃ معاف ہوگئی فقط ایک سو کی زکوٰۃ دینا پڑے گی۔

Post Top Ad

loading...