Header Ads

زکوٰۃ ادا کرنے کا بیان۔

مسئلہ(1):۔ جب مال پر پورا سال گذر جائے تو فوراََ زکوٰۃ ادا کردے، نیک کام میں دیر لگانا اچھا نہیں کہ شاید اچانک موت آجائے اور یہ مواخذہ اپنی گردن پر رہ جائے۔ اگر سال گذرنے پر زکوٰۃ ادا نہیں کی یہاں تک کی دوسرا سال بھی گذر گیا تو گنہ گار ہوا، اب بھی توبہ کر کے دونوں سال کی زکوٰۃ دے دے غرض عمر بھر میں کبھی نہ کبھی ضرور دےدے، باقی نہ رکھے۔
مسئلہ(2):۔ جتنا مال ہے اسکا ڈھائی فیصد زکوٰۃ میں دینا واجب ہے، یعنی سو روپئے میں ڈھائی روپئے۔
مسئلہ(3):۔ جس وقت زکوٰۃ کا روپیہ کسی غریب کو دےاس وقت اپنے دل میں اتنا ضرور خیال کرلے کہ میں زکوٰۃ میں دیتا ہوں۔ اگر یہ نیت نہیں کی یوں ہی دیدیا تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی ، پھر سے دینا چاہیے اور جتنا دیا ہے اسکا ثواب الگ ملے گا۔
مسئلہ(4):۔ اگر فقیر کو دیتے وقت یہ نیت نہیں کی تو جب تک وہ مال فقیر کے پاس رہے اس وقت تک یہ نیت کر لینا درست ہے، اب نیت کرلینے سے بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔البتہ جب فقیر نے خرچ کر ڈالا اس وقت نیت کرنے کا اعتبار نہیں، اب پھر سے زکوٰۃ دے۔
مسئلہ(5):۔ کسی نے زکوٰۃ کی نیت سے سو روپئے نکال کر الگ رکھ لئے کہ جب کوئی مستحق ملے گا اس کو دے دوں گا پھر جب فقیر کو دیدیا اس وقت زکوٰۃ کی نیت کرنا بھول گیا تو بھی زکوٰۃ ادا ہوگئی۔ البتہ اگر زکوٰۃ کی نیت سے نکال کر الگ نہ رکھتے تو زکوٰہ ادا نہ ہوتی۔
مسئلہ(6):۔ کسی نے زکوٰۃ کے روپئے نکالے تو اختیار ہے ، چاہے ایک ہی کو سب دے دے یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی غریبوں کو دے۔ چاہے اسی دن سب دے دے یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی مہینے میں دے۔
مسئلہ(7):۔ بہتر یہ ہے کہ ایک غریب کو کم سے کم اتنا دےدے کہ اس دن کے لئے کافی ہوجائے کسی اور سے مانگنا نہ پڑے۔
مسئلہ(8):۔ ایک ہی فقیر کو اتنا مال دیدینا جتنے مال سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے مکروہ ہے۔ لیکن اگر دیدیا تو زکوٰۃ ادا ہوگئی اور اس سے کم دینا جائز ہے مکروہ بھی نہیں۔
مسئلہ(9):۔ کوئی آپ سے قرض مانگنے آیا اور یہ معلوم ہے کہ وہ اتنا تنگدست اور مفلس ہے کہ کبھی ادا نہ کر سکے گا یا ایسا نا دہندہ ہے کہ قرض لیکر کبھی ادا نہیں کرتا ، اس کو قرض کے نام پر زکوٰۃ کا روپیہ دیدیا اور اپنے دل میں سوچ لیا کہ میں زکوٰۃ دیتا ہوں تو زکوٰۃ ادا ہوگئی ، اگرچہ وہ اپنے دل میں یہی سمجھے کہ مجھے قرض دیا ہے۔
مسئلہ(10):۔ اگر کسی کو انعام کے نام سے کچھ دیا ، مگر دل میں یہی نیت ہے کہ میں زکوٰۃ دیتا ہوں تب بھی زکوٰۃ ادا ہوگئی ۔
مسئلہ(11):۔ کسی غریب آدمی پر تمہارے دس روپئے قرض ہیں اور تمہارے مال کی زکوٰۃ بھی دس روپئے یا اس سے زیادہ ہے اس کو اپنا قرض زکوٰۃ کی نیت سے معاف کر دیا تو اکوٰۃ ادا نہیں ہوئی ۔ البتہ اس کو دس روپئے زکوٰۃ کی نیت سے دیدو تو ادا ہوگئی، اب یہی روپئے اپنے قرض میں اس سے لینا درست ہے۔
مسئلہ(12):۔ کسی کے پاس چاندی کا اتنا زیور ہے کہ حساب سے تین تولہ چاندی زکوٰۃ ہوتی ہے اور بازا میں تین تولہ چاندی دو روپئے میں بکتی ہے تو زکوٰۃ میں دو روپئے چاندی کے دیدینا درست نہیں کیونکہ دو روپئے چاندی کا وزن تین تولہ نہیں ہوتا اور چاندی کی زکوٰۃ میں جب چاندی دی جائے تو وزن کا اعتبار ہوتا ہے قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا۔ ہاں اس صورت میں اگر دو رپئے کا سونا خرید کر دیدیا یا دو روپئےگلٹ کے یا دو روپئے کے پیسے یا دو روپئے کی گلٹ کی ریزگاری یا دو روپئے کا کپڑا یا کوئی چیز دے دی، یا خود تین تولہ چاندی دے دی تو درست ہے، زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
مسئلہ(13):۔ زکوٰہ کا روپیہ خود نہیں دیا بلکہ کسی اور کو دے دیا کہ تم کسی کو دیدینا، یہ بھی جائز ہے اور اب وہ شخص دیتے وقت اگر زکوٰۃ کی نیت نہ بھی کرے تب بھی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی۔
مسئلہ(14):۔ کسی غریب کو دینے کیلئے تم نے سو روپئے کسی کو دئے لیکن اس نے بعینہٖ وہی سو روپئے فقیر کو نہیں دئے جو تم نے دئے تھے بلکہ اپنے پاس سے سو روپئے تمہاری طرف سے دیدیا اور یہ خیال کیا کہ وہ روپئے میں لے لونگا ، تب بھی زکوٰۃ ادا ہوگئی بشرطیکہ تمہارے روپئے اس کے پاس موجود ہوں اور اب وہ شخص اپنے سو روپئے کے بدلے میں تمہارے وہ سو روپئے لے لیوے، البتہ اگر تمہارے دئے ہوئے روپئے اس نے پہلے خرچ کر ڈالے ، اس کے بعد اپنے روپئے غریب کو دیے تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی یا تمہارے روپئے اس کے پا س رکھے تو ہیں لیکن اپنے روپئے دیتے وقت یہ نیت نہ تھی کہ میں وہ روپئے لے لوں گا تب بھی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، اب وہ سو روپئے پھر زکوٰۃ میں دے۔
مسئلہ(15):۔ اگر تم نے روپئے نہیں دئے لیکن اتنا کہہ دیا کہ تم ہماری طرف سے زکوٰۃ دیدینا اس لئے اس نے تمہاری طرف سے زکوٰۃ دے دی تو ادا ہوگئی اور جتنا اس نے تمہاری طرف سے دیا ہے اب تم سے وہ لے لیوے۔
مسئلہ(16):۔ اگر تم نے کسی سے کچھ نہیں کہا اس نے بلا تمہاری اجازت کے تمہاری طرف سے زکوٰۃ دے دی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی ، اب اگر تم منظور بھی کرلو تب بھی درست نہیں، اور جتنا تمہاری طرف سے دیا ہے تم سے وصول کر نے کا اس کو حق نہیں۔
مسئلہ(17):۔ تم نے ایک شخص کو اپنی زکوٰۃ دینے کیلئے سو روپئے دیے تو اس کو اختیار ہے، چاہے خود کسی غریب کو دے دے یا کسی اور کے سپرد کردے کہ تم یہ روپیہ زکوٰۃ میں دیدینا اور نام کا بتلانا ضروری نہیں ہے کہ فلاں کی طرف سے یہ زکوٰۃ ددیدینا ۔ اور وہ شخص وہ روپیہ اگر اپنے کسی رشتہ دار یا ماں باپ کو غریب دیکھ کر دیدے تو بھی درست ہے۔ لیکن اگر وہ خود غریب ہو تو آپ ہی لے لینا درست نہیں۔ البتہ اگر تم نے یہ کہہ دیا ہو کہ جو چاہے کرو اور جسے چاہے دے دو تو آپ بھی لے لینا درست ہے۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.