Header Ads

صدقۃ الفطر کا بیان

مسئلہ(1):۔ جو مسلمان اتنا مالدار ہو کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو یا اس پر زکوٰۃ تو واجب نہیں لیکن ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال و اسباب ہے جتنی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اس پر عید کے دن صدقہ دینا واجب ہے چاہے وہ تجارت کا مال ہو یا تجارت کا نہ ہو، اور چاہے سال پورا گذر چکا ہو یا نہ گذرا ہو اور اس صدقہ کو شرع میں صدقۃ الفطر کہتے ہیں۔
مسئلہ(2):۔ کسی کے پاس رہنے کا بڑا بھاری گھر ہے کہ اگر بیچا جائے تو  لاکھ دو لاکھ کا بکے اور پہننے کے بڑے قیمتی قیمتی کپڑے ہیں  مگر انکو گوٹہ لچکا نہیں اور خدمت کے لئے دو چار خدمت گار ہیں،  گھر میں لاکھ دو لاکھ  کا ضروری اسباب بھی ہے مگر زیور نہیں اور وہ سب کام میں آیا کرتا ہے یا کچھ اسباب ضرورت سے زائد بھی ہیں اور کچھ گوٹہ لچکا اور زیور بھی ہے لیکن وہ اتنا نہیں جتنے پر زکوٰۃ واجب  ہوتی ہے تو ایسے پر صدقۃ الفطر واجب نہیں۔
مسئلہ(3):۔کسی کے دو گھر ہیں ایک میں خود رہتا ہے اور ایک خالی پڑا ہے  یا کرایہ پر دے دیا ہے تو یہ دوسرا مکان ضرورت سے زائد ہے اگر اس کی قیمت اتنی ہو جتنی پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اس پر صدقۃ الفطر واجب  ہے۔
 اور ایسے کو زکوٰۃ کا پیسہ بھی دینا جائز نہیں۔
 البتہ اگر اسی پر اسکا گذارہ ہو تو یہ مکان بھی  ضروری اسباب میں داخل ہوجائے گا اور اس پر صدقۃ الفطر واجب نہ ہوگا اور زکوۃ کا پیسہ لینا اور دینا بھی درست ہوگا۔
خلاصہ یہ ہوا کہ  جس کو زکوٰۃ اور صدقہء واجبہ کا پیسہ لینا درست ہے اس پر صدقۃ الفطر واجب نہیں اور جس  کو صدقہ اور  زکوٰۃ کا لینا درست نہیں اس  پر صدقۃ الفطر واجب ہے۔
مسئلہ(4):۔ کسی کے پاس ضروری اسباب سے زائد مال اسباب ہے، لیکن وہ قرض دار بھی  ہے تو قرضہ کا  حساب کر کے دیکھو  کیا بچتا ہے  اگر اتنی قیمت کا اسباب بچ جائے جتنے میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو صدقۃ الفطر واجب ہے اور اگر اس سے کم بچے تو واجب نہیں۔
مسئلہ(5):۔  عید کے دن جس وقت فجر کا وقت آتا ہے اسی وقت صدقہ واجب ہوتا ہے، تو اگر کوئی فجر کا وقت آنے سے پہلے مرگیا اس پر صدقۃ الفطر واجب نہیں، اس کے مال میں سے نہ دیا جائے۔
مسئلہ(6):۔ بہتر یہ ہے کہ جس  وقت نماز کے لئے عید گاہ جاتے ہیں اس سے پہلے صدقہ دے دی جائے۔ اگر پہلے نہ دیا تو نماز کے بعد بھی دے سکتے ہیں۔
مسئلہ(7):۔ کسی نے صدقۃالفطر عید کے دن سے پہلے ہی رمضان میں دے دیا تب  بھی ادا ہوگیا اب دوبارہ دینا واجب نہیں۔
مسئلہ(8):۔ اگر کسی نے عید کے دن صدقۃالفطر نہ دیا تو معاف نہیں ہوا اب کسی دن دے دینا چاہیے۔

مسئلہ(9):۔صدقۃالفطر صرف اپنی طرف سے واجب ہے، کسی اور کی طرف سے ادا کرنا واجب نہیں نہ بچوں کی طرف سے اور نہ ماں باپ کی طرف سے، نہ شوہر کی طرف سے اور نہ ہی کسی اور کی طرف سے۔
مسئلہ(10):۔ اگر چھوٹےبچے کے پاس اتنا مال ہو جتنے کے ہونے سے صدقۃ الفطر واجب ہوتا ہے جیسے اسکا کوئی رشتےدار مرگیا، اس کے مال سے اس بچے کو حصہ ملا یا کسی اور طرح بچے کو مال مل گیا تو اس بچے کے مال میں سے صدقۃ الفطر ادا کرے، لیکن اگر وہ بچہ عید کے دن صبح ہونے کے بعد پیدا ہوا تو اسکی طرف سےصدقۃالفطر واجب نہیں۔
مسئلہ(11):۔ جس نے کسی وجہ سے رمضان کے روزے نہیں رکھے، اس پر بھی یہ صدقہ واجب ہے، اور جس نے روزے رکھے اس پر بھی واجب ہے دونوں میں کچھ فرق نہیں۔
مسئلہ(12):۔ صدقۃالفطر میں اگر گیہوں یا گیہوں کا آٹا  یا گیہوں کا ستودے تو  1.633کلو گرام دے اس سے زیادہ کر لے احتیاط کے طور پر کیونکہ زیادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور جو یا جو کا آٹا دے تو اسکا دوگنا دینا چاہیئے۔
مسئلہ(13):۔ اگر گیہوں یا جو کے سوا کوئی اناج دیا جیسے : چنا ، جوار، یا چاول تو اتنا دے کہ اس کی قیمت اتنے گیہوں یا اتنے جو کے برابر ہوجائے جتنے اوپر بیان ہوئے۔
مسئلہ(14):۔ اگر گیہوں یا جو نہیں دئے بلکہ اتنے گیہوں یا جو کی قیمت دے دی تو یہ سب سے بہتر ہے۔
مسئلہ(15):۔ ایک آدمی کا صدقۃالفطر ایک ہی فقیر کو دے دے یا تھوڑا تھوڑا کر کے کئی فقیروں کو دےدے دونوں باتیں جائز ہیں۔
مسئلہ(16):۔ اگر کئی آدمیوں کا صدقۃ الفطر ایک ہی فقیر کو دے دیا یہ بھی درست ہے۔
مسئلہ(17):۔ صدقۃالفطر  کے مستحق وہی لوگ ہیں جو زکوٰۃ کے مستحق ہیں۔
کون لوگ زکوٰۃ کے مستحق ہیں اور کون نہیں  اسکا سلسلہ 15/ جولائی سے شرع کیا جا رہا ہے ۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.