Header Ads

فدیہ کا بیان۔

مسئلہ(1):۔ جس کو اتنا بوڑھاپا ہوگیا ہو کہ روزہ رکھنے کہ طاقت نہیں رہی یا اتنا بیمار ہے کہ اب اچھے ہونے کی امید نہیں، نہ روزہ رکھنے کی طاقت ہے تو روزہ نہ رکھے اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو صدقۃ الفطر کے برابر (1.633 کلو گرام)غلہ دے دے۔ یا صبح شام پیٹ بھر کے اس کوکھانا کھلا دیوے، شرع میں اس کو فدیہ کہتے ہیں اور اگر غلہ کے بدلے  اسی قدر غلہ کی قیمت دے دے تب بھی درست ہے۔
مسئلہ(2):۔ وہ گیہوں اگر تھوڑے تھوڑے کر کے کئی مسکینوں کو بانٹ دے تو بھی صحیح ہے۔
مسئلہ(3):۔ پھر اگر کبھی طاقت آگئی یا بیماری سے اچھا ہوگیا تو سب روزے قضا رکھنے پڑیں گے اور جو فدیہ دیا ہے اسکا ثواب الگ ملے گا۔
مسئلہ(4):۔ کسی کے ذمہ کئی روزے قضا تھے اور مرتے وقت وصیت کر گیا کہ میرے روزوں کے بدلے فدیہ دے دینا تو اس کے مال میں سے اسکا ولی فدیہ دےدے اور کفن دفن اور قرض ادا کر کے جتنا مال بچے اسکے ایک تہائی میں سے اگر سب فدیہ نکل آئے تو دینا واجب ہے۔
مسئلہ(5):۔اگر اس نے وصیت نہیں کی مگر ولی نے اپنے مال میں سے فدیہ دے دیا تب بھی خدا کی ذات سے امید رکھے کہ شاید قبول کر لے اور اب روزوں کا مواخذہ نہ کرے اور بغیر وصیت کئے خود مردے کے مال میں سے فدیہ دینا جائز نہیں ہے۔
اسی طرح اگر تہائی مال سے فدیہ زیادہ ہوجائے تو باوجود وصیت کے بھی زیادہ دینا  بدون رضا مندی سب وارثوں کے جائز نہیں۔ ہاں اگر سب وارث خوش دلی سے راضی ہوجائیں تو دونوں صورتوں میں دینا درست ہے، لیکن نابالغ وارث کی اجازت کا شرع میں کچھ اعتبار نہیں، بالغ وارث اپنا حصہ جدا کر کے اس میں سے دے دیں تو درست ہے۔
مسئلہ(6):۔ اگر کسی کی نمازیں قضا ہوگئی ہوں اور وصیت کر کے مرگیا کہ میری نمازوں کے بدلے میں فدیہ دے دینا تو  اسکا بھی وہی حکم ہے جو مسئلہ نمبر 5 میں گذرا ہے۔
مسئلہ(7):۔ ہر وقت کی نماز کا اتنا ہی فدیہ ہے جتنا ایک روزہ کا فدیہ ہے(1.633کلو گرام) اس حساب سے دن رات کے پانچ فرض اور ایک وتر چھ نمازوں کی طرف سے 9.798 کلوگرام گیہوں ہوتا ہے لیکن احتیاطاََ بارہ کلو گرام گیہوں دے۔
نوٹ:۔ جس کتاب سے یہ مسئلے پوسٹ کئے جارہے ہیں اس میں سیر کا حساب بتایا گیا ہے اسلئے احتیاط کرلینا زیادہ اچھا ہے۔
مسئلہ(8):۔ کسی کے ذمہ زکوٰۃ باقی ہے، ابھی ادا نہیں کی تو وصیت کر جانے سے اسکا بھی ادا کردینا وارثوں پر واجب ہے۔ اگر وصیت نہیں کہ بلکہ وارثوں نے اپنی خوشی سے دے دی تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی۔
مسئلہ(9):۔ اگر ولی مردے کی طرف سے قضا روزے رکھ لے یا  اسکی طرف سے قضا نمازیں پڑھ لے تو یہ درست نہیں، یعنی اس کے ذمہ سے نہ اتریں گی۔
مسئلہ(10):۔ بے وجہ رمضان کا روزہ چھوڑ دینا درست نہیں اور بڑا گناہ ہے، یہ نہ سمجھے کہ اس کے  بدلے قضا رکھ لوں گا کیونکہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رمضان کے ایک روزے کے بدلے میں اگر سال بھر برابر روزہ رکھتا رہے تب بھی اتنا ثواب نہ ملے گا جتنا رمضان میں ایک روزے کا ثواب ملتا ہے۔
مسئلہ(11):۔ اگر کسی نے  روزہ نہ رکھا تو اور لوگوں کے سامنے کچھ کھائے نہ پئے نہ یہ ظاہر کرے کہ آج میرا روزہ نہیں ہے، اس لئے کہ گناہ کر کے اس کو ظاہر کرنا بھی گناہ ہے، اگر سب سے کہہ دے تو دہرا گناہ ہوگا ایک تو روزہ نہ رکھنے کا  دوسرا گناہ ظاہر کرنے کا۔
یہ جو مشہور ہے کہ "خدا کہ چوری نہیں تو بندے کی کیا چوری" یہ غلط بات ہے، بلکہ جو کسی عذر سے روزہ نہ رکھے اس کو بھی مناسب ہے کہ سب کے روبرو نہ کھائے۔
مسئلہ(12):۔ جب لڑکا یا  لڑکی روزہ رکھنے کے لائق ہوجائیں تو انکو بھی روزہ کا حکم کرے اور جب دس برس کی عمر ہوجائے تو مار کر روزہ رکھوائے، اگر سارے روزے نہ رکھ سکے تو جتنے روزے رکھ سکے رکھوائے۔
مسئلہ(13):۔ اگر نابالغ لڑکا لڑکی روزہ رکھ کے توڑ ڈالے تو اسکی قضا نہ رکھوائے البتہ اگر نماز کی نیت کرکے توڑ دے تو اسکو دہروائے۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.