Header Ads

تم بالکل ہم جیسے نکلے



بھارت اور پاکستان کے تعلقات اس چھینک کی طرح ہیں جو کہیں آدھ بیچ میں ہی اٹک جاتی ہے۔
ان بادلوں جیسے ہیں جو بار بار اوپر سے گذرتے ہیں لیکن کہیں اور برس جاتے ہیں۔
ان ارمانوں کی طرح ہیں جو نکلنے سے پہلے ہی ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔
اس بچے کے مانند ہیں جو عین اس وقت جاگ پڑتا ہے جب اسے نہیں جاگنا چاہئے۔
اس مکے جیسے ہیں جو ہمیشہ لڑائی کے بعد یاد آتا ہے۔
کشمیر ، سیاچن ، سر کریک اور دریائی بندوں پر جھگڑا کیوں ہے اور ٹیپو سلطان ، تاج محل ، امیر خسرو ، غالب ، اجمیر کے خواجہ ، نظام الدین اولیا ، ننکانہ صاحب ، ہنگلاج ماتا ، کٹاس راج ، بھگت سنگھ ، دلہن کے لال جوڑے ، دلی کی شاہی مسجد ، سمجھوتہ ایکسپریس ، کھوکرا پار کی بل کھاتی ریلوے لائن ، ہمالیہ کے دیوتائی چرنوں سے پھوٹنے والے سندھو ، شلوار ، کرتے ، پاجامے ، شیروانی ، پگڑی ، جلیبی ، مالکونس ، درباری ، طبلے ، گھنگھرو ، لتا ، نورجہاں ، مہدی حسن ، رفیع ، ون ڈے کرکٹ اور بالی وڈ پر جھگڑا کیوں نہیں۔
چلو یہ بتاؤ کہ موہن جو دڑو بھارتی ہے کہ پاکستانی، بڑے غلام علی خان ہندوستان کے تھے کہ پاکستان کے، اقبال ہندوستانی ہے کہ پاکستانی، اردو زبان کے کاپی رائٹس دونوں ملکوں میں سے آخر کس ملک کے پاس ہیں؟ پاکستانی اور بھارتی فوجی ایک ہی طرح کیوں پریڈ کرتے ہیں۔کیا پریڈ کا یہ انداز اسلامی ہے یا ہندتوائی؟
    "کیا ہمارے بزرگوں اور تمہارے پرکھوں نے وسیع المشربی اور پرامن بقائے باہمی کے اصطلاحاتی سوت سے ہزار برس طویل کھڈی پر وہ تہذیبی کپڑا نہیں بنا تھا کہ جسے گنگا جمنی کھیس کھوے ہیں۔ جب تک یہ کھیس ثابت رہا کیا سب کچھ اس کے تلے نہیں چھپا رہا ؟ جیسے ہی تار تار ہوا، ادھر اسلام خطرے میں پڑگیا اور ادھر ہندوتوا کو خوف لاحق ہوگیا۔ آج وسیع المشربی اور پرامن بقائے باہمی کو سرحد کے دونوں طرف ذرا کوئی سیکولر ازم تو کہہ کے دیکھے۔ ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دیا جاوے تو نام بدل کے رام رحیم سنگھ رکھ دینا۔ 
اکثریت سے تو اقلیت کو خطرہ لاحق ہونا منطقی لحاظ سے سمجھ میں آتا ہے لیکن یہ کیسے دو ملک ہیں جہاں اکثریت کو اقلیت کے بھوت سے ڈرایا جارہا ہے اور مزہ تو یہ ہے کہ اکثریت ڈر بھی رہی ہے۔
انھوں نے تو جنوبی افریقہ کی تاریخ پر بھی کالک مل دی۔
ویسے بھارت اور پاکستان چاہیں تو چوبیس گھنٹے میں نہ صرف خود کو نارمل کرسکتے ہیں بلکہ اپنے اپنے معاشروں کو بھی۔
اس کے لیے راکٹ سائنس میں پی ایچ ڈی کرنے کی بالکل ضرورت نہیں۔ مسئلہ بس اتنا سا ہے کہ یہ راہِ مختصر تجاوزات سے اٹی پڑی ہے۔
کہیں اسلحے کا ٹھیلہ کھڑا ہے ۔کہیں نیت کی چالاکی کا پتھارا ہے تو کہیں چھوٹے دماغوں کی چھابڑیاں ہیں۔ کہیں شدت پسندی کے چابی سے چلنے والے کھلونوں کا کھوکھا ہے اور اس کے بالکل سامنے عقیدوں کی اترنوں کا ڈھیر سستے میں بک رہا ہے۔
اور ان تجاوزات کا بھتہ ریاست احمد خان اور دیش بھگت سنگھ نامی دو پولیس والے وصول کررہے ہیں۔جس دن تجاوزات اٹھ گئیں راستہ کھل جائے گا لیکن پھر ریاست احمد خان اور دیش بھگت سنگھ کے بھتے کا کیا ہوگا؟
ملنا نہ ملنے سے ہمیشہ اچھا ہے ۔ لیکن اگر مودی شریف بات نہ بن پائے اور مشترکہ اعلامیے کے مسودے پر اتفاق نہ ہوسکے تو پھر فہمیدہ ریاض کی یہ نظم ہی اپنا لینا۔

تم بالکل ہم جیسے نکلے ، اب تک کہاں چھپے تھے بھائی


وہ مورکھتا وہ گھامڑ پن جس میں ہم نے صدی گنوائی

آخر پہنچی دوار توہارے ، ارے بدھائی بہت بدھائی

پریت دھرم کا ناچ رہا ہے

قائم ہندو راج کرو گے ؟

سارے الٹے کاج کرو گے ؟

اپنا چمن تاراج کرو گے ؟

تم بھی بیٹھے کرو گے
سوچا ، پوری ہے ویسی تیاری

کون ہے ہندو کون نہیں ہے ، تم بھی کرو گے فتوی جاری ؟

ہوگا کٹھن یہاں بھی جینا ، دانتوں آجائے گا پسینہ

جیسی تیسی کٹا کرے گی ، یہاں بھی سب کی سانس گھٹے گی

بھاڑ میں جائے شکشا وکشا ، اب جاہل پن کے گن گانا

آگے گڑھا ہے یہ مت دیکھو ، واپس لاؤ گیا زمانہ

مشق کرو تم آجائے گا ، الٹے پاؤں چلتے جانا

دھیان نہ دوجا من میں آئے ، بس پیچھے ہی نظر جمانا

ایک جاپ سا کرتے جاؤ ، بارم بار یہی دہراؤ

کیسا ویر مہان تھا بھارت ، کتنا عالی شان تھا بھارت

پھر تم لوگ پہنچ جاؤ گے ، بس پرلوک پہنچ جاؤ گے

ہم تو ہیں پہلے سے وہاں پر ، تم بھی سمے نکالتے رہنا

اب جس نرگ میں جاؤ وہاں سے
چٹھی وٹھی ڈالتے رہنا

مرتب کردہ: ایڈمن
 (محمد زاہد الاعظمی)
یہ مضمون بی بی سی اردو سے ماخوذ ہے۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.