Header Ads

یوم مزدور اور اس کی تاریخ


یوم مزدور اور اس کی تاریخ
مزدوروں کے ہاتھوں کی کمائی سے صنعت کار اپنے لئے تاج محل تعمیر کر لیتے ہیں لیکن مزدوروں کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ بتا رہے ہیں ٹی ایس آئی کے تنویر احمد
مزدوروں کی حالت زار
نریش کمار پنڈت سپول کے ایک ’فٹ ویئر شاپ‘ میں بطور ملازم کام کرتے ہیں۔ انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یکم مئی کو ’یومِ مزدور‘ منایا جاتا ہے۔ مزدوروں کے اس تہوار کی ان کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”یومِ مزدور میرے لئے صرف کاغذوں پر ہے کیونکہ نہ تو مجھے اس دن کسی طرح کی چھٹی ملتی ہے اور نہ ہی تحفے تحائف ملتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس روز میں چھٹی کر لوں تو ایک دن کی تنخواہ کاٹ لی جائے گی“۔یہ کہانی صرف نریش کی ہی نہیں ہے بلکہ اس طرح کے لاتعداد مزدور ملک کے گوشے گوشے میں مل جائیں گے۔ہمارے ملک میں مزدوروں کی حالت زار سے سبھی واقف ہیں ۔ یہاں پر یہ واضح کر دینا انتہائی ضروری ہے کہ بڑی بڑی کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز اور آرام و آسائش کی زندگی بسر کر رہے ان مزدوروں کی بات نہیں کی جا رہی ہے جو خود کو مالک سے کم تصور نہیں کرتے ۔ بات ان پریشان حال مزدوروں کی ہو رہی ہے جو ملک کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھانے میں خوب محنت و مشقت کرتے ہیں لیکن ان کی نجی زندگی خستہ حالی کی شکار ہے ۔ بات ان مزدوروں کی ہو رہی ہے جن کے بارے میں معروف شاعر منور رانا نے کہا ہے :
"سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے"
افسوس کا مقام ہے کہ ایسے پریشان حال مزدوروں کی تعداد ہمارے ملک میں بہت زیادہ ہے۔ ملک کا شاید ہی کوئی حصہ ہو جہاں مزدوروں کا استحصال نہ ہوتا ہو، پھر بھی وہ خاموشی کے ساتھ اپنا کام پورا کرتے ہیں۔ آزاد ہندوستان میں بندھوا مزدوروں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور ان کے لئے ’یومِ مزدور‘ کیا اہمیت رکھتاہے، اس کا اندازہ لگانا کوئی مشکل امر نہیں۔اکثر مقامات پر یکم مئی کے روز مزدوروں کو ’کو لہو کے بیل‘ کی طرح کام کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو ’یومِ مزدور‘پرسوا لیہ نشان ہے ۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور افسوس کا مقام بھی کہ جو دن مزدوروں کے لئے مخصوص کر دیا گیا اس دن بھی انہیں ایک لمحہ کے لئے سکون میسر نہیں۔ ایک طرف جہاں دِہاڑی مزدوروں کو یہ فکر ہوتی ہے کہ کام نہیں کریں گے تو گھر میں چولہا کیسے جلے گا وہیں مہینے میں تنخواہ پانے والے مزدور ایک دن کی تنخواہ کٹنے سے خوفزدہ رہتے ہیں اور یکم مئی کو بھی کام پر چلے جاتے ہیں۔
آج صورت حال یہ ہے کہ ریاستی سطح پر یکم مئی کو کئی مقامات پر چھٹی ہوتی ہے، بڑے بڑے اجلاس ہوتے ہیں اور سمینار کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے لیکن اس کا فائدہ ضرورت مند مزدوروں تک قطعی نہیں پہنچ پاتا ہے۔ نہ تو وہ چھٹی کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی طرح کے فلاحی منصوبوں سے فائدہ اٹھا پاتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سرکار کے ذریعہ مزدوروں کے لئے شروع کئے گئے منصوبے بھی ’ڈھول کا پول‘ ہی ثابت ہوتے رہے ہیں۔ کچھ مزدور تو اپنے حقوق سے نا آشنا ہیں لیکن جو معلومات رکھتے ہیں وہ اس لئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے کہ مالک ناراض ہو کر انہیں نوکری سے نہ نکال دے ۔ مزدوروں کی آواز اٹھانے کے لئے کئی ادارے بھی ہیں لیکن یہ گزرے زمانے کی بات ہو گئی ہے کہ وہ خلوص نیت کے ساتھ مزدوروں کے مفاد کی بات کریں ۔ زیادہ تر ٹریڈ یونینوں میں تو یہی دیکھا جا رہا ہے کہ اس کے لیڈران بدعنوان سیاسی نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ مزدور لیڈران اسٹیج پر تو بآواز بلند مزدوروں کے مفاد کی بات کرتے ہیں لیکن تنہائی میں کمپنی یا کارخانہ مالکان سے سانٹھ گانٹھ کر کے مزدوروں کی امیدوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔
ملک کی آزادی سے قبل اور کچھ عرصہ بعد تک لوگوں میں کمیونسٹ برادری کے ذریعہ مقرر کردہ ’یومِ مزدور‘ کے تئیں دلچسپی دیکھنے کو ملتی تھی، جشن وغیرہ کا باضابطہ اہتمام کیا جاتا تھا اور تحفے تحائف بھی تقسیم کئے جاتے تھے، لیکن دھیرے دھیرے اس میں کمی آ گئی ہے۔ شاید ہندوستان اور دیگر ممالک میں کمیونسٹوں کا زوال اس کی اہم وجہ ہے ۔ مزدوروں کے لئے آواز اٹھانے والے کمیونسٹ برادری نے مزدوروں کے لئے تہوار کا جو ایک دن متعین کیا تھا وہ ہر سال آتا ضرور ہے، لیکن مزدوروں کو پتہ بھی نہیں چلتا اور گزر جاتا ہے ۔ آج حالات یہ ہیں کہ کئی مزدور حضرات کو یہ معلوم بھی نہیں کہ یکم مئی کے روز ’یومِ مزدور‘ منایا جاتا ہے۔ ہاں! ایسی کمپنیوں اور اداروں کے مزدوروں کو اس کی جانکاری ضرور ہے جہاں یکم مئی کے روز چھٹی ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ اس روز ’چھٹی‘ ہوتی ہے۔ ’یوم مزدور‘ کیوں منایا جاتا ہے اور اس کے کیا مقاصد ہیں، اس سے انہیں کوئی سروکار نہیں ۔ اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی بھی منصوبہ یا کوئی بھی قانون مزدوروں کو اس کا حق دلانے میں کامیاب نہیں ہے ۔ مزدور کل بھی کمزور تھے، آج بھی کمزور ہیں ۔ مزدور کل بھی مفلوک الحال تھے ، آج بھی مفلوک الحال ہیں۔ مزدور کل بھی مظلوم تھے، آج بھی مظلوم ہیں۔ گویا کہ مزدوروں کے دلوں میں مالکوں کے تئیں ایک ایسی نفرت پیدا ہو چکی ہے جس کا وہ اظہار بھی نہیں کر سکتے۔ اب تو صرف یہ دعا کی جا سکتی ہے کہ کمپنی اور کارخانہ مالکان کے سینے میں ایک درد مند دل پیدا ہو جائے جو کم از کم یکم مئی کو مزدوروں کی خوشی کے لئے راحت کا سامان مہیا کرے۔ ’یومِ مزدور‘ کے روز اِنہیں چھٹی بھلے ہی نہ دی جائے لیکن تحفے تحائف یا خصوصی پروگرام کے ذریعہ مزدوروں کے دلوں سے وہ اپنے تئیں پیدا ہو چکی نفرت کو ضرور ختم کر سکتے ہیں۔
یوم مزدور اور اس کی تاریخ

کمیونسٹ ہمیشہ سے ہی مزدوروں کے اتحاد اور ان کے مفاد سے متعلق آواز بلند کرتے رہے ہیں اور انہوں نے سخت اقدام بھی اٹھائے ہیں۔ مزدوروں کوان کا حق دلانے کیلئے انہوں نے ٹریڈ یونین کا بھی قیام کیا۔ حالانکہ 18 مئی 1882 میں سنٹرل لیبر یونین آف نیویارک کی ایک میٹنگ میں کمیونسٹ لیڈر پیٹر میگوار نے مزدور برادری کے جشن کیلئے ’یوم مزدور‘ کی شکل میں ایک دن متعین کرنے کی تجویز رکھی تھی اور 1884 میں ’فیڈریشن آف آرگنائزڈ ٹریڈرس اینڈ لیبر یونینس آف دی یو ایس اینڈ کناڈا‘ نے 1884 میں ہر سال ستمبر کے پہلے سوموار کو مزدوروں کیلئے قومی تعطیل کا فیصلہ لیا لیکن جہاں تک مزدوروں میں بیداری اور اتحاد پیدا ہونے کی بات ہے تو امریکہ و یوروپ میں 17ویں صدی کے آخر میں اس کے آثار نظر آنے لگے تھے۔ یہی سبب ہے کہ نیو انگلینڈ کے ’ورکنگ مینس ایسو سی ایشن‘ نے 1832 میں کام کے گھنٹے کو گھٹا کر 10 گھنٹہ کرنے کی کامیاب جدوجہد شروع کی۔ بعد ازاں 1882 میں امریکہ میں مزدوروں نے ایک جلوس نکالا اور نعرہ دیا کہ ”8 گھنٹے کام کے دئیے، 8 گھنٹے آرام کے لئے اور 8 گھنٹے ہماری مرضی پر“۔ اس کے بعد امریکہ میں مزدور یونینوں نے اس مطالبہ پر زبردست مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کے لئے یکم مئی 1886 کی تاریخ مقرر کی۔ آگے چل کر یہی یکم مئی پورے ملک میں ’یومِ مزدور‘ کی شکل میں منایا جانے لگا اور دھیرے دھیرے دوسرے ممالک نے بھی یکم مئی کو ’یومِ مزدور‘ کے طور پر منانا شروع کر دیا۔ جہاں تک ہندوستان میں مزدوروں کے اتحاد کی بات ہے، تو اس کی مثال 1862 میں اپریل-مئی کے دوران 1200 مزدوروں کے ذریعہ ہاوڑہ ریلوے اسٹیشن پر کی گئی ہڑتال ہے۔ اس ہڑتال میں بھی مزدوروں کا اصل مطالبہ کام کے اوقات کو گھٹا کر 8 گھنٹہ کرنا تھا کیونکہ لوکوموٹیو محکمہ کے مزدور 8 گھنٹے ہی کام کرتے تھے۔ لیکن ہندوستان میں باضابطہ یکم مئی کو ’یومِ مزدور‘ کی شکل میں 1923 میں منایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ سنگار ویلو چیٹیار ملک کے ابتدائی کمیونسٹ لیڈران میں سے ایک تھے اور بااثر ٹریڈ یونین اور مزدور تحریک کے روح رواں تھے۔ انہوں نے اپریل 1923 میں یکم مئی کو ’یومِ مزدور‘ منانے کی تجویز پیش کی اور اگلے ہی مہینہ یہ تہوار جوش و خروش سے منایا گیا۔ بعد ازاں ہر سال یہ تہوار منایا جانے لگا اور اس موقع پر میٹنگوں و جلوس کا انعقاد کیا جانے لگا جس میں مزدوروں کی ترقی اور ان کے مفاد سے متعلق اقدام کئے جانے لگے۔ آج بھی مزدور حضرات کمیونسٹوں کے لال جھنڈے کو اپنی سیاسی شناخت مانتے ہیں اور شاید کمیونسٹ ہی ہیں جو نہ صرف مزدوروں کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں بلکہ ان کے حقوق کے لئے جدوجہد بھی کرتے ہیں۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.