Header Ads

مرد کا اکیلے نماز پڑھنے کا طریقہ


نیت اور تکبیر تحریمہ: نماز کی نیت کرنا اور تکبیر تحریمہ کہنا فرض ہے۔ جب کی باقی تکبیرات کہنا سنت ہے۔ 
نیت کرتے وقت پورے طور پر سیدھے کھڑے ہوں۔
 تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت(قیام)سیدھا کھڑا ہونا، یعنی اللہ اکبر کی آواز ختم ہونے تک سیدھا کھڑا رہنا فرض ہے۔ 
تکبیر تحریمہ کہتے وقت سَر کو نہ جھکائیں(سنت)
تکبیر تحریمہ کہتے وقت سر جھکانا مکروہِ تنزیہی۔ بلا وجہ سینے کو جھکا کے کھڑا ہونا بھی درست نہیں۔ 
جب نماز کیلئے کھڑے ہوں تو اپنی نگاہ سجدے کی جگہ پر رکھیں۔(مستحب) 
دونوں پاؤں کے درمیان تقریباََ چار انگل کی مقدار فاصلہ چھوڑیں(مستحب)
پنجوں اور ایڑیوں کی طرف سے فاصلہ برابر ہو۔ پاؤں بالکل سیدھے اور قبلہ رخ ہوں پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ ہوں(سنت) 
لٹکے ہوئے دونوں ہاتھ آستینوں اور چادر وغیرہ سے نکال کر (مستحب)
کانوں تک اٹھائیں(سنت) یعنی انگوٹھے کے سرے کانوں کی لَو کے برابر ہوجائیں۔ انگوٹھے کانوں کی لو کو لگنے چاہیئے۔ 
ہتھیلیاں قبلہ رخ رکھیں(سنت)۔ 
یعنی انگلیوں کو تو نہ بالکل ملائیں اور نہ بہ تکلف کشادہ رکھیں۔ بلا قصد و ارادے جس قدر انگلیاں کھلیں، کھلی رہنے دیں اپنے ارادے سے نہ انکو ملائیں اور نہ کھولیں۔ 
انگلیاں اوپر کی طرف سیدھی رکھیں۔ ہتھیلیوں کا رخ کانوں کی طرف کرنا یا کانوں کی لَو کو ہاتھ سے پکڑنا غلط ہے۔ 
نماز میں ایک پاؤں پر کھڑا ہونا یا ہلنا مکروہِ تحریمی ہے۔ کبھی ایک طرف جھکنا اور کبھی دوسری طرف جھکنا مکروہ ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے کہ جب کوئی شخص نماز کیلئے کھڑا ہو تو اپنے بدن کو بالکل سکون سے رکھے یہودیوں کی طرح ہلے نہیں۔ بدن کے تمام اعضاء کا نماز میں سکون سے رہنا نماز کے پورا ہونے کا جزء ہے۔(ترمذی) 
نمازِ تراویح میں تھک جانے پر دونوں پاؤں پر باری باری بوجھ ڈالنا مکروہ نہیں ہے۔ 
متعلقہ نماز کی نیت کرتے ہوئے تکبیرِ تحریمہ (اللہ اکبر) کہہ کر حالتِ قیام میں آجائیں۔ 
نماز میں اللہ اکبر کہتے وقت لفظ اللہ کے الف کو بڑھا کر آللہ کہنا
یا اکبر کے الف کو بڑھا کر آکبر کہنا یا اکبر کے ب کو بڑھا کر اکبار کہا تو نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ 
قیام و قرات: نماز میں قیام و قرات فرض ہے۔ نماز میں جس قدر قدرت ہو اس قدر قیام لازم ہے اگرچہ ایک ہی آیت یا تکبیرِ تحریمہ کہنے کی مقدار ہو اور لاٹھی یا دیوار یا آدمی کے سہارے سے ہوجائے۔ 
قیام کی فرضیت اس وقت ساقط ہوجاتی ہے جب کھڑا نہ ہوسکے یا سجدہ نہ کرسکے۔ اگر کچھ دیر کیلئے بھی کھڑا ہوسکتا ہو تو فرض ہے کہ تکبیر ِتحریمہ کھڑے ہوکر کہے اورپھر بیٹھ جائے۔ 
نفل نماز میں قیام فرض نہیں۔ 
حالتِ قیام میں نمازی اپنی اصلی وضع پر کھڑا ہو۔ نہ اکڑ کر کھڑا ہو اور نہ جھک کر۔ 
تکبیرِ تحریمہ (اللہ اکبر) دونوں ہاتھ ناف کے نیچے باندھیں(سنت)
(تکبیر تحریمہ کے بعد ناف کے نیچے لاکر ہاتھ باندھنے کے بجائے ہاتھ پہلے نیچے گرانا اور پھر اٹھا کر باندھنا مکروہِ تنزیہی ہے) 
ہاتھ یوں باندھیں:- دائیں ہتھیلی بائیں ہتھیلی کی پشت پر رکھیں(سنت)۔
 دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی سے حلقہ بنا کر بائیں ہاتھ کی کلائی (گٹے) کو پکڑیں
اور دائیں ہاتھ کی باقی تین انگلیاں بائیں کلائی پر بچھا کر رکھیں(سنت)۔ 
بائیں ہتھیلی کو لٹکانا درست نہیں۔ 
نظر سجدہ کی جگہ پر رہیں (مستحب)۔ 
ثناء اور تعوذ صرف پہلی رکعت میں پڑھیں(سنت)۔ 
اکیلا نمازی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ سے پہلے تسمیہ اور سورۃ فاتحہ کے بعد آمین پڑھے۔ 
فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت کے سوا ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھنا اور سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی قرآنی سورۃ پڑھنا واجب ہے۔ بہتر ہے کے سورۃ فاتحہ کی ہر آیت پر رک کر سانس توڑ دیں پھر دوسری آیت پڑھیں۔ کئی کئی آیتیں ایک سانس میں نہ پڑھیں۔ سورۃ فاتحہ کے بعد کی قرات میں ایک سانس میں زیادہ آیتیں بھی پڑھ لیں تو کوئی حرج نہیں۔ 
نماز کے دوران جو کچھ پڑھیں وہ زبان اور ہونٹوں کو حرکت دے کر پڑھیں کہ خود سن سکیں۔ 
سورۃ فاتحہ کے بعد والی سورۃ سے پہلے تسمیہ پڑھنا مستحب ہے۔ 
10۔ سورۃ ملانے کیلئے درجِ ذیل قواعد کا خیال رکھیں۔(ان قواعد کے خلاف سورۃ ملانا(جبکہ سہواََ نہ ہو)مکروہِ تحریمی ہے)۔ 
(الف) پوری سورۃ یا ایک بڑی آیت یا دو تین چھوٹی آیات پڑھیں جو قرآن مجید کی چھوٹی سے چھوٹی مسلسل تین آیات:
 ثمَ نَظَرَ(21)ثمَ عَبَسَ وَبَسَرَ (22) ثمَ اَد بَرَوَستَکبَرَ(23)۔ (سورۃ مدثر)
کے برابر یا زیادہ ہو۔ (اس سے کم پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے)۔ 
(ب) پہلی رکعت میں سورۃ بڑی ہو اور بعد کی رکعتوں میں برابر کی ہو یا ذرا چھوٹی ہو۔ 
(ت) قرآن کی ترتیبِ کتابی کے مطابق(شروع سے آخر کی طرف) سورت ملائیں 
(ث) چھوٹی سورتیں پڑھنے کی صورت میں درمیان میں ایک سورۃ نہ چھوڑیں بلکہ کم از کم دو سورتیں چھوڑیں۔ 
11۔ فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھنا سنت ہے۔ ان رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کوئی دوسری سورۃ بھی ملانا خلافِ سنت ہونے کی وجہ سے مکروہِ تنزیہی ہے۔ 
12۔ کوئی سورۃ شروع کر کے پھر بلا ضرورت اسے چھوڑ کر دوسری سورۃ ملانا مکروہِ تنزیہی ہے۔
آپ کی مشق کے لیے ایک ویڈیو بھی ہم پیش کر رہے ہیں یہ ویڈیو انگلش زبان اور انگلش سب ٹائیٹل کے ساتھ ہے لیکن پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے آپ اس مضمون کو پڑھ کر اور اس ویڈیو کو دیکھ کر اچھی طرح سے سمجھ سکتے ہیں۔

A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.