Header Ads

مقدمہ مرزائیت بہاول پور کے چند واقعات

مقدمہ مرزائیت بہاول پور کے چند واقعات

۱:۔اس مقدمہ میں مدعیہ ایک خاتون مسماة عائشہ تھی، جس کے والد صاحب کا نام مولانا الٰہی بخش صاحب تھا، مولانا موصوف دراصل علاقہ ڈیرہ غازی خان کے ساکن تھے، وہ خود عالم تھے، انہوں نے حضرت مولانا عبیداللہ سندھی سے بھی تعلیم حاصل کی تھی، ان کے اصل استاد مولانا امام بخش نامی ایک بزرگ تھے، جو ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی علاقہ کے رہنے والے تھے، یہ بزرگ بستی مہند نزد چنی گوٹھ تحصیل احمدپور شرقیہ میں پڑھاتے تھے، جہاں ایک زمیندار نے دینی مدرسہ قائم کر رکھا تھا، ان کی رحلت کے بعد مولانا الٰہی بخش صاحب نے وہاں کا تدریسی کام سنبھالا، جہاں انہوں نے صرف بہائی سے صحیح بخاری تک تمام کتب پڑھائی تھیں، طبیعت کے نہایت سادہ اور متواضع تھے، مولانا کا انتقال بہاول پور میں غالباً گردے کے آپریشن سے ہوا تھا، چڑیاگھر بہاول پور سے مغربی سمت قبرستان میں مدفون ہیں۔
۲:۔مولانا الٰہی بخش اور عبدالرزاق مدعا علیہ میں دیہاتی رواج کے مطابق بٹے سٹے کا نکاح تھا، مولانا کے گھر میں عبدالرزاق کی بہن تھی اور عبدالرزاق سے مولانا کی بیٹی کا نکاح(جبکہ وہ خوردسال بچی تھی)ہوچکا تھا، عبدالرزاق بھی دراصل ڈیرہ غازی خان کا باشندہ تھا، تلاشِ روزگار میں وہ بھی مہند چلا آیا، یہاں آنے کے بعد اس کی کم بختی آئی کہ وہ مرزائیوں کے ہتّھے چڑھ گیا اور اس نے مرزائیت کو قبول کرلیا، اس کے بعد اس نے اپنی منکوحہ کی رخصتی کا مطالبہ کیا، مگر مولانا صاحب نے تبدیلی مذہب کا عذر کرتے ہوئے بچی کو روانہ کرنے سے انکار کردیا، معاملہ نے طول پکڑا تو مدعیہ کی طرف سے جولائی ۱۹۲۶ء میں فسخ نکاح کا دعویٰ دائر کردیا گیا، یہ دعویٰ عدالت منصفی احمدپور شرقیہ میں دائر ہوا۔
۳:۔مقدمہ مختلف مراحل طے کرنے کے بعد ۱۱/نومبر ۱۹۲۸ء کو بروز اتوار بنابر فیصلہ جات ہائی کورٹ مدراس، پٹنہ، لاہور و سابقہ فیصلہ عدالت عالیہ بہاول پور، خارج ہوگیا۔ کیونکہ ان فیصلہ جات میں احمدی مرزائیوں کو مسلمان تسلیم کیا گیا تھا، پھر اس فیصلہ کے خلاف عدالت عالیہ (جسے Chief Court کہا جاتا تھا)میں اپیل دائر کی گئی، وہ بھی خارج ہوگئی۔ پھر دربار معلی، جو نواب صاحب بہاولپور کا دربار شمار ہوتا تھا، میں اس سلسلہ میں ایک درخواست گزاری گئی، عموماً ریاست کے وزیراعظم اجلاس کی صدارت کرتے تھے، اس وقت سر نبی بخش محمد حسین ریاست کے وزیراعظم تھے، جو سندھ کے رہنے والے تھے، معلوم رہے کہ ریاست کے وزیراعظم کا تقرر انڈین گورنمنٹ کی طرف سے ہوتا تھا، حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی نے وزیراعظم کے P.A شیخ فاضل محمد مرحوم کے توسط سے وزیراعظم تک ذاتی طور پر ملاقات کرکے مسئلے کی نزاکت کی طرف توجہ دلائی، چنانچہ محولہ بالا درخواست پر غور کے لئے دربار معلی کا اجلاس بلایا گیا، ریاست کے ایک وزیر نے مرزائیوں سے ذاتی تعلقات کی بنا پر روڑے اٹکانے کی کوشش کی، مگر اجلاس ہوکر رہا۔
۴:۔اس اجلاس میں حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی نے ایک بیان پیش کیا، جس میں آپ نے بڑی وضاحت سے مسئلہ پر روشنی ڈالی، قادیانیوں کی طرف سے ظفراللہ کا بھائی سعد اللہ، جو بار ایٹ لا تھا اور لندن میں پریکٹس کرتا تھا، پیش ہوا، اجلاس کا حال طویل ہے، مختصر یہ کہ دربار معلی سے حکم ہوا کہ اس معاملہ میں ہائی کورٹس کا فیصلہ قطعی نہیں قرار دیا جاسکتا، چونکہ یہ ایک اسلامی ریاست ہے اور معاملہ ایک گروہ کے کفر و اسلام کا ہے، اس لئے بیرونِ ریاست سے چیدہ علما ٴکو بلاکر، ان سے مسئلہ کی پوری چھان پھٹک کرائی جائے، یہ حکم چیف کورٹ بہاول پور کو پہنچا اور وہاں سے ضلعی عدالت کو۔
۵:۔

"اَلْاٰنَ حَمِیَ الْوَطِیْسُ"حدیث کے طلبہ یاد کریں کہ یہ جملہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس موقع پر ارشاد فرمایا تھا، کے بمصداق اب پورے برصغیر میں ایک قسم کی ہلچل شروع ہوگئی، دارالعلوم دیوبند کے علاوہ متعدد مقامات سے بلند پایہ علما ٴکو بلایا گیا، سب سے پہلے حضرت مولانا گھوٹوی کا بیان ہوا، جو آپ نے دربار معلی میں پیش فرمایا تھا، حضرت والا کا یہ بیان ۲۱/جون ۱۹۳۲ء کو ہوا، ایک بزرگ کا بیان ماہ جولائی میں اور باقی چار حضرات کے بیانات ماہ اگست ۱۹۳۲ء میں ہوئے۔ جب حضرت گھوٹوی کا گرامی نامہ حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں دیوبند پہنچا، تو آپ بواسیر کے شدید حملہ سے دوچار تھے، مگر آپ نے احباب سے فرمایا کہ: میرے نام بہاول پور کے بہت بڑے عالم کا رقعہ آیا ہے، میں روانہ ہو رہا ہوں، بہاول پور کی عدالت میں مسئلہ ختم نبوت میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وکیل بن کر پیش ہوں گا، شاید یہی میری نجات کا ذریعہ بن جائے، پس میں چل رہا ہوں، جو میرے ساتھ چلنا چاہے، اسٹیشن آجائے۔
بہاول پور پہنچ کر بھی حضرت شاہ صاحب نے جامع مسجد میں نماز جمعہ کے موقع پر یہی بات فرمائی، تو سامعین کی چیخیں نکل گئیں، بزرگوں سے سنا تھا کہ حضرت امام العصر کا قیام بہاول پور میں سترہ روز رہا، غالباً ۲۵/اگست ۱۹۳۲ء بروز جمعرات آپ کا بیان شروع ہوا اور پانچ روز تک بیان اور جرح وغیرہ کا سلسلہ جاری رہا۔
۶:۔امام العصر کے قیام بہاول پور کے دوران پنجاب اور سندھ کے علاوہ دور دور سے علما ٴو مشائخ جمع ہوگئے تھے، امامِ طریقت سید العارفین حضرت قبلہ خلیفہ غلام محمد صاحب دین پوری قدس اللہ سرہ بنفس نفیس کمرہٴ عدالت میں تشریف فرما ہوتے تھے۔
یہاں پر ایک بات جو بظاہر موضوع سے متعلق نہیں ہے، قارئین معاف فرمائیں، میں کہے بغیر رہ نہیں سکتا، امام العصر اور امام طریقت کے روحانی اور باطنی کمالات سے قطع نظر، ان نیّرین کا بیک وقت موجود ہونا، قران السعدین سے کم نہ تھا، دونوں مجسم حسن و جمال تھے، دونوں کے چہروں پر نور برستا تھا، لیجئے ہماری بات پر یقین نہ آئے تو بزرگوں کی شہادتیں پڑھ لیجئے:
”مظفرنگر کے ایک جلسہ مناظرہ میں جو مسلمانوں اور آریوں کے درمیان ہوا تھا، حضرت علامہ اسٹیج پر تشریف فرما تھے، تو آریہ مبلغ نے کھلے لفظوں میں کہا تھا کہ اگر کسی کی صورت کو دیکھ کر اسلام قبول کیا جاتا، تو آج بھی مولانا انور شاہ کی صورت دیکھ کر مسلمان ہوجانا چاہئے تھا، جس کے چہرے پر اسلام برستا ہوا دکھائی دیتا ہے۔“ )حضرت قاری محمد طیب صاحب ص:۱۲۵(
مولانا سید ابوالحسن علی ندوی، حضرت اقدس دین پوری قدس سرہ کے تذکرہ میں فرماتے ہیں:
”مغرب کو ہم لوگ خان پور پہنچے، وہاں سے دین پور کی طرف روانہ ہوئے، غالباً رات ہی کو حضرت کی زیارت ہوگئی، ایسا منور چہرہ غالباً اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آیا تھا۔“ )پرانے چراغ حصہ اول ص:۱۴۹(
حضرت مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی، جو خود بھی جمال اور جلال کا سنگم تھے، نے ایک دفعہ تقریر میں فرمایا:
”میرے بس میں ہو تو مرزائیوں کو دین پور لاکر دکھاوٴں کہ بدنصیبو! دیکھو یہ ہے چہرہ محمد عربی کے غلام کا، کیسا نور برس رہا ہے؟ تمہارا غلام احمد قادیانی، نہ زلفش نہ ابرو، نہ خالش نہ خط، کیا نبی ایسے ہوا کرتے ہیں؟“
حضرت مولانا سید نور الحسن شاہ صاحب بخاری نے ایک تقریر میں یہ واقعہ سنایا تھا کہ ایک مرتبہ حضرت شاہ صاحب کسی ضرورت سے حضرت قاری محمد طیب صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے، دستک دی تو حضرت قاری صاحب کی پانچ چھ سال عمر کی ایک بچی دروازے پر آگئی، دیکھا تو رخ انور )مرکب اضافی سمجھ لیں یا توصیفی( کو دیکھ کر گھر میں واپس ہوگئی، اپنے والد ماجد سے کہتی ہے: ابا! باہر دروازے پر ایک فرشتہ کھڑا ہے، آپ کو بلا رہا ہے۔ بچی نے حسین و جمیل چہرہ زندگی میں پہلی مرتبہ نہیں دیکھا تھا، حضرت قاری صاحب خود بھی نہایت خوبصورت تھے، جن لوگوں نے ان کی زیارت کی ہے، انہیں بخوبی اندازہ ہوگا۔ مگر رخِ انور پر بچی کو جو نورانیت نظر آئی، وہ شاید اس کے لئے زندگی کا پہلا واقعہ تھا۔
حضرت بخاری صاحب مرحوم نے ۱۳۵۷ھ میں دارالعلوم دیوبند میں دورہٴ حدیث پڑھا تھا، سالانہ امتحان میں آپ نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی، میرے پاس دارالعلوم کی سالانہ روئیداد بابت ۱۳۵۷ھ تھوڑا عرصہ پہلے تک محفوظ رہی ہے، حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی کے برادرِ خورد مولانا عبدالرحیم صاحب مرحوم بھی اسی سال شریک دورہ تھے۔
حضرت امام العصر، حضرت قاری صاحب، حضرت بخاری صاحب، مولانا عبدالرحیم صاحب مرحوم، سب ہی ادھر روانہ ہوچکے ہیں، جہاں سے کوئی واپس نہیں آیا، اللہ کریم ان سب کے مدارج بلند فرمائے اور ان کے پس رووٴں میں ہم گنہ گاروں کو بھی جگہ دے دے، کچھ بعید نہیں کہ: ”المرء مع من احب“ کے تحت مولاکریم محض اور محض اپنے کرم سے ایک عصیاں کار کی یہ درخواست قبول فرمالے۔
۷:۔دوران کارروائی مقدمہ قادیانی مدعا علیہ کی طرف سے جرح قدح، ایک قادیانی جلال الدین شمس کرتا تھا، قرآن میں فرمایا گیا ہے:
”اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰٓی اَوْلِیَآئِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ۔“(الانعام:۱۲۱)ترجمہ:۔”بے شک شیطان اپنے ہم نواوٴں کو پٹی پڑھاتے رہتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑ سکیں۔“
جلال الدین شمس بعض اوقات بظاہر بہت دور کی کوڑیاں لاتا تھا کہ حاضرین حیرت میں پڑجاتے، لیکن حضرت امام العصر کے سامنے اس کی ایک بھی نہ چلتی تھی، لیجئے اس کے بھی ایک دو نمونے پیش خدمت ہیں:
الف:۔قادیانی مختار نے کہا کہ جناب! اگر مسیح ابن مریم علیہما السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں، تو سوال یہ ہے کہ وہ اس وقت نبی ہوں گے یا نبوت سے معزول ہوچکے ہوں گے؟ اگر نبی ہوں تو نبوت کا دروازہ پھر کھل جاتا ہے، اگر نبوت سے معزول ہوگئے ہوں، تو یہ بھی مسلّمات کے خلاف ہے۔
حضرت شاہ صاحب نے عدالت کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: جناب! وہ نبی اس وقت بھی ہوں گے، لیکن ان کی نبوت اور رسالت قوم بنی اسرائیل کے لئے تھی، قرآن مجید میں فرمایا ہے:
”وَرَسُوْلًا اِلٰی بَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ“ (آل عمران:۴۹)اس امت میں جو ان کا نزول ہوگا، تو وہ نبی ہوں گے، لیکن ان کی نبوت کا قانون نہیں چلے گا، اگر یو پی کا گورنر پنجاب میں یا پنجاب کا گورنر ریاست میں آجائے تو وہ گورنربے شک ہوگا، لیکن راج اس کا نہیں چلے گا۔
ب:۔مسلّم الثبوت اصول فقہ کی ایک مشہور کتاب ہے، اس کی شرح فواتح الرحموت کے نام سے بحرالعلوم مولانا عبدالعلی لکھنوی نے لکھی ہے، اس شرح کا حوالہ دیتے ہوئے جلال الدین کم بخت نے کہا کہ: جناب! بحرالعلوم نے لکھا ہے کہ امام رازی نے تواتر کا انکار کیا ہے، تو کوئی حدیث متواتر ہے ہی نہیں، اِنہوں نے کیسی تواتر کی رٹ لگا رکھی ہے؟
حضرت شاہ صاحب نے فرمایا: جج صاحب! یہ کتاب بتیس سال پیشتر میں نے دیکھی تھی، اس وقت کتاب ہمارے پاس نہیں ہے، لیکن مجھے اس طرح یاد پڑتا ہے کہ امام رازی نے مطلقاً تواتر کا انکار نہیں فرمایا، بلکہ ایک خاص حدیث: ”لا تجتمع امتی علی الضلالة“ کے بارے میں معنی ًتواتر ہونے کا انکار فرمایا ہے۔ اتنے میں جامعہ عباسیہ کے ایک مدرس مولانا عبدالحمید رضوانی نے کتاب جلال سے چھین کر حضرت شاہ صاحب کو دے دی، تو بات وہی نکلی، جو حضرت نے فرمائی تھی، یہ تھا حضرت کا ذہن اور حضرت کا حافظہ۔
ج:۔مرزا غلام احمد قادیانی کے کفر کی وجوہات بیان فرماتے ہوئے، حضرت والا نے ایک وجہ یہ بیان فرمائی کہ مرزا قادیانی کے باپ کی جائیداد کے تقسیم کا سوال تھا، مقدمہ عدالت میں تھا، مرزا سے سوال کیا گیا کہ آپ تقسیم جائیداد شریعت اسلامی کے مطابق کرانا چاہتے ہیں یا پنجاب کے رواج کے مطابق؟ مرزا نے جواب میں کہا کہ میں پنجاب کے رواج کے مطابق تقسیم کرانا چاہتا ہوں۔ یوں اس نے قانونِ شریعت سے انحراف کیا، لہٰذا وہ کافر ہوگیا۔ جلال الدین نے اس کے جواب میں کہا: جناب! میں حدیث سے ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر رواج کو شریعت پر ترجیح دی تھی، چنانچہ جب مسیلمہ کذاب کے قاصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ نے ان سے فرمایا:” لو لا ان الرسل لا تقتل لقتلتکما“ یعنی اگر یہ رواج نہ ہوتا کہ ایلچیوں اور سفیروں کو قتل نہیں کرایا جاتا تو میں تمہیں قتل کرادیتا۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک طرف ہے نبی کا منشا اور خواہش، جو دین اور شرعی قانون کی حیثیت رکھتا ہے، دوسری طرف ہے رواج، تو ظاہر ہے کہ اس موقع پر حضور نے اپنے منشا کو چھوڑ دیا اور رواج پر عمل کیا۔ تو حضرت شاہ صاحب نے فاضل جج صاحب سے فرمایا: جناب! ایک چیز جب تک کسی علاقہ یا قوم میں زیرِ عمل ہے، رواج ہے، لیکن جب پیغمبر نے اپنے قول یا عمل سے اس کی تائید کردی، تو اب وہ شریعت کا مسئلہ بن گیا، اگر مرزا قادیانی عدالت میں یوں کہتا کہ جو پنجاب کا رواج ہے، میری شریعت میں وہی دین کا مسئلہ ہے، تو بات اور ہوتی، اس نے یوں نہیں کہا تھا، اس نے تو یوں کہا کہ شرع محمدی کا مسئلہ اپنی جگہ پر، مگر میں اس کے مطابق جائیداد کی تقسیم نہیں چاہتا، بلکہ رواج پر عمل کرتا ہوں، ان دو باتوں میں زمین، آسمان کا فرق ہے۔
۸:۔اگرچہ میں کوئی تحریری ثبوت پیش نہیں کرسکتا، تاہم میں قارئین کو اتنا بتادینا ضروری سمجھتا ہوں کہ چونکہ مرزائیت انگریز کا خودکاشتہ پودا ہے اور پھر انگریز ہی نے اس کی آبیاری کی اور کسی قدر اس کا ثمر بھی حاصل کیا، جب بہاول پور میں عدالتی سطح پر کاروائی چلی تو والیٴ ریاست نواب صادق محمد خاں عباسی پنجم پر حکومتی سطح پر بھی دباوٴ ڈالا گیا، لیکن مرحوم نے کوئی دباوٴ قبول نہ کیا، اللہ غفور رحیم ہے، یوں تو مرحوم کے کئی کارنامے ہیں، یہ بھی ان کا ایک عظیم کارنامہ ہے، اللہ رب العزت انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔
۹:۔کاروائی مقدمہ کے دوران ایک واقعہ پیش آیا کہ سرور شاہ نامی ایک عالم تھے، بڑے ذہین فطین، مظاہر العلوم سہارنپور میں حدیث کے استاذ رہ گئے، مگر افسوس کہ ”یولد موٴمنا ویموت کافراً“ کے مصداق وہ بدنصیب بنا، جب حضرت امام العصر بہاول پور تشریف لائے، تو مرزائیوں نے سوچا کہ سرورشاہ کو یہاں لایا جائے، ہمارے اساتذہ کو علم ہوا، تو انہوں نے حضرت والا سے ذکر کیا، حضرت نے فرمایا: کوئی بات نہیں! اول تو انشا ٴاللہ العزیز وہ یہاں نہیں آئے گا، اور اگر آیا بھی تو سرورشاہ اب وہ سرورشاہ نہیں رہا جو مظاہر العلوم میں بیٹھ کر حدیث پڑھاتا تھا، کفر کی شامت یہ پڑی ہے کہ علم اس سے سلب ہوچکا ہے۔
۱۰:۔اگست ۱۹۳۲ء میں کاروائی مقدمہ ختم ہوگئی، اب فیصلہ سنایا جانا باقی تھا کہ مرزائیوں نے ایک اور ہتھکنڈہ استعمال کیا، عبدالرزاق مدعا علیہ نے ملتان کی ایک عدالت میں دعویٰ دائر کرکے وہاں سے یک طرفہ ڈگری حاصل کرلی، اس وجہ سے بہاول پور کا معاملہ کھٹائی میں پڑگیا، ظاہر ہے کہ چھ سات سال کی کاروائی کے بعد مدعا علیہ کی طرف سے یہ کاروائی محض ایک چال تھی، بہرحال پھر ایک طویل وقفہ آگیا، بات لمبی ہے، مختصر یہ کہ ۷/فروری ۱۹۳۵ء کو فاضل جج صاحب نے فیصلہ پر دستخط فرمائے اور غالباً ۷/فروری ۱۹۳۵ء مطابق ۳/ذوالقعدہ ۱۳۵۳ھ بروز جمعرات سنایا گیا، اس وقت فاضل جج صاحب کا تبادلہ بہاول پور سے بطور ڈسٹرکٹ جج بہاول نگر ہوچکا تھا۔
آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ امام العصر کی وصیت کے مطابق حضرت استاذنا مولانا محمد صادق صاحب نے عدالت سے فیصلہ کی نقل حاصل کی اور دیوبند جاکر حضرت شاہ صاحب قدس سرہ کو ان کے مزار پر بیٹھ کر سنا آئے، ہمارے کچھ احباب یہاں پر مسئلہ سماع موتٰی چھیڑ دیں گے، لیکن ہم انہیں مشورہ دیں گے کہ وہ فیض الباری اور العرف الشذی کا مطالعہ کریں۔
حضرت امام العصر کے فرمان اور حضرت الاستاذ کے عمل سے گنجائش پاکر راقم الحروف نے بھی وطن عزیز میں ۷/ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخی فیصلہ کے بعد سردار غلام قاسم خان خاکوانی مرحوم کی قیادت میں قلعہ ڈیراور کا سفر کیا تھا، علما ٴمیں سے مولانا غلام احمد صاحب اور نوجوان رفقا ٴمیں عزیز حافظ محمد یوسف سیال مرحوم اور سید محمد ارشد بخاری ایڈووکیٹ احمدپور شرقیہ وغیرہم شامل تھے، غالباً یہ وفد ۱۸ افراد پر مشتمل تھا، راقم السطور نے حافظ محمد یوسف صاحب کے ہمراہ نواب صاحب مرحوم مغفور کے مزار پر کھڑے ہوکر انہیں یہ مژدہ سنایا تھا کہ والا جاہ! جس عمارت کا سنگ بنیاد آپ کے عہد میں رکھا گیا تھا، اب وہ پایہٴ تکمیل کو پہنچ چکی ہے اور حکومتِ پاکستان قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے چکی ہے۔ تغمدہ الله بغفرانہ وامطر علیہ شاٰبیب رضوانہ
۱۱:۔آج جو لوگ مقدمہ مرزائیت بہاول پور کی تاریخ پڑھیں گے، تو بالعموم ان کے سامنے یہی آئے گا کہ بہاول پور کی انجمن موٴید الاسلام نے مقدمہ کی تمام تر ذمہ داری اٹھائی، اسی نے تمام تر مصارف برداشت کئے، حقیقت یہ ہے کہ یہ انجمن ہنگامی طور پر قائم کی گئی تھی، بحرالعلوم حضرت مولانا غلام محمد گھوٹوی رحمہ اللہ اس کے سرپرست اور رسمی صدر تھے، حضرت الاستاذ مولانا محمد صادق صاحب اس کی روح رواں اور کرتا دھرتا تھے، ختم نبوت کے مشن سے تعلق رکھنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ حضرت قبلہ پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی کو شیخ المشائخ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی نے اس فتنہ کے دفاع کی خاطر توجہ دلائی تھی، چنانچہ انہوں نے اس سلسلہ میں گراں مایہ خدمات انجام دیں، حضرت گھوٹوی ان سے بیعت تھے، وہی روح اور وہی جذبہ ان کے قلب میں بھی موجزن تھا، حضرت الاستاذ مولانا محمد صادق صاحب تمام تر تگ و دو کرتے رہے، آپ کو راقم السطور کی یہ بات شاید عقیدت مندی پر مبنی معلوم ہوگی، آئیے اکابر دیوبند میں سے ایک بزرگ، جو ان میں سب سے پہلے عدالت میں بطور گواہ مدعیہ پیش ہوئے تھے، میری مراد ہے حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب اس بارے میں بھی ان کی شہادت پڑھ لیجئے:
”فیصلہ کی اشاعت کا اہتمام حضرت مولانا محمد صادق صاحب استاذ جامعہ عباسیہ بہاول پور و حال ناظم امور مذہبیہ بہاول پور کے دستِ مبارک سے ہوا، اس مقدمہ کی پیروی علما ٴ کے اجتماع، ان کی ضروریات کا انتظام بھی مولانا موصوف ہی کے ہاتھوں انجام پایا تھا، اور مولانا سے میرا پہلا تعلق اسی سلسلہ میں پیدا ہوا۔“
حیاتِ انور، مضمون حضرت مفتی محمد شفیع صاحب ص:۲۶۴
۱۲:۔مقدمہ کی عدالتی کاروائی سے فارغ ہوکر امام العصر اپنے رفقا ٴکے ہمراہ ڈیرہ نواب صاحب تشریف لے گئے، جناب سعید احمد صاحب عرف ہاشمی صاحب، جو اس وقت نواب صاحب کے پرائیویٹ سیکریٹری تھے، بعد میں وزیر حضور بنے، بڑے تعلیم یافتہ اور دین دار اور اونچے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، ان کے والد الحاج سید محمد یامین صاحب میرٹھی مرحوم غالباً ریاست مالیرکوٹلہ میں دیوان رہ چکے تھے، وہ حضرت شیخ الہند کے صحبت یافتہ تھے، جناب سعید احمد مرحوم میں بھی وہی اثرات تھے، خانقاہ شریف سراجیہ کندیاں سے ان کا تعلق تھا، انہوں نے حضرت شاہ صاحب کو بلایا تھا۔
دیوبند کے لئے حضرت کی واپسی یہیں ڈیرہ نواب صاحب کے اسٹیشن سے ہوئی، روانگی کے وقت حضرت مولانا گھوٹوی نے حضرت شاہ صاحب کی خدمت میں سفر خرچ پیش کیا، انہوں نے یہ کہہ کر قبول کرنے سے معذرت فرمادی کہ مولانا! میں نے یہ سفر محض حسبةً لله سرمایہٴ آخرت سمجھ کر کیا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے، میں نہیں چاہتا کہ اس میں کوئی دنیوی آمیزش ہو۔ حضرت گھوٹوی ایک نہایت رقیق القلب انسان تھے، نیچے بیٹھ کر حضرت کے قدموں پر ہاتھ رکھنے لگے، سبحان اللہ! کیا دیدنی ہوگا یہ منظر کہ اپنے وقت کا بحرالعلوم آنسو بہاتے ہوئے امام العصر کے پیروں پر ہاتھ رکھ دینے کو تیار ہے۔ حضرت شاہ جی نے پیر ہٹالئے اور فرمایا: مولانا! آپ نے مجھے مجبور کردیا، بس اب کچھ میں آپ کی مانتا ہوں، کچھ آپ میری مان لیں، آپ صرف اتنا کریں کہ میرا اور میرے رفقا ٴکے دیوبند تک کے لئے گاڑی کے ٹکٹ دلادیں، چنانچہ ایسا کیا گیا۔
آج کے اہل علم اور طلبہ کو شاید یہ افسانہ معلوم ہو، مگر ماضی قریب میں جن لوگوں نے حضرت اقدس مولانا احمد علی قدس سرہ جیسے اکابر کو دیکھا ہوگا، انہیں نہ تو اس پر کوئی تعجب ہوگا اور نہ اس کو تسلیم کرلینے میں کوئی تأمل.

مضمون نگار: ابو بکر صدیق
پاکستان
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.