تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 26 اپریل، 2014

گولڈن براؤن‎

گزشتہ دنوں ’’برطانیہ‘‘ کا ایک گزشتہ وزیر اعظم ہمارے ملک پاکستان کے دورے پر آیا…
نام اس کا ہے گورڈن براؤن…
ہمارے ہاں سادہ لوگ اسے ’’گولڈن براؤن‘‘ پڑھتے ہیں۔اس طرح بولنے سے اس کے نام کا معنی بن جائے گا ’’ دورنگا‘‘…
یہ آج کل اقوام متحدہ میں کسی کام کا سفیر ہے۔ حکمران طبقے کے لوگ خصوصاً یورپی ممالک کے حکمران حکومت سے ریٹائرمنٹ کے بعد عموماً یہی پیشہ اختیار کرتے ہیں،کیونکہ ان کے پاس نہ تو اتفاق سے فاؤنڈریاں ہوتی ہیں اور نہ شوگر ملیں۔نہ بیرون ممالک سرمایہ کاری ہوتی ہے اور نہ سوئس بینک اکاؤنٹ۔البتہ کچھ لوگ ان میں ہندوستانی مزاج ہوتے ہیں اس لئے حکومت میں ہوتے ہوئے یہ سب کچھ بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر پکڑے جاتے ہیں اور چونکہ ان کے ہاں پولیس اور ادارے ہندوستانی نہیں ہوتے اس لئے سزا بھی پاتے ہیں اور بدنام بھی ہوتے ہیں۔بہرحال گورڈن یا گولڈن براؤن بھی حکومت سے ریٹائرمنٹ کے بعد آج کل اقوام متحدہ میں سفیر ہے۔
اقوام متحدہ کے سفیروں کے دو کام ہوتے ہیں:
(۱) گھومنا پھرنا
(۲) تجربات جھاڑنا یا بالفاظ دیگر بک بک کرنا
سو وہ بھی یہی دونوں کام کرنے پر مامور ہے۔
گزشتہ دنوں وہ اسی ڈیوٹی پر پاکستان آیا ہوا تھا اور مسلسل ایک ہی موضوع پر گفتگو کرتا رہا۔
پاکستان میں کم عمری کی شادیاں بڑا مسئلہ ہیں۔
بچیوں کی جبری طور پر جلدی شادیاں کرا دی جاتی ہیں۔
نو عمری میں ماں بننا بچیوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
اس سلسلے کو ختم کرنے کے لئے بھر پور اقدامات لازمی ہیں۔
اقوام متحدہ اس سلسلے میں فنڈنگ کرے گی۔
پاکستان میں نو عمری کی شادی سے پاک علاقے قائم کئے جائیں گے۔
وغیرہ وغیرہ…
وہ یہ باتیں کر کے یہاں کئی این جی اوز کے منہ کھلوا کر چلا گیا۔
اب کالی عینکوں والے طبقے کو دن رات خواب و بیداری میں اقوام متحدہ کی موعودہ فنڈنگ کے ڈالر نظر آ رہے ہیں اور وہ بھی گولڈن براؤن کی طرح اس راگنی میں مسلسل پھونکیں مارتے چلے جا رہے ہیں۔
مگر برطانیہ کے ایک نو عمر جوڑے نے طے کیا کہ وہ مسٹر گولڈن براؤن کی دو رنگی دنیا کے سامنے آشکار کریں گے۔لہذا انہوں نے بارہ تیرہ سال کی عمر میں ماں باپ بن کر دنیا میں کم عمر والدین کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔
اب آپ ’’چراغ تلے اندھیرا کہیں‘‘،’’دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت‘‘ والی مثال دیں یا جو بھی کہنا چاہیں کہیں مسٹر نیلے پیلے کے اپنے دیس برطانیہ میں یہ واقعہ رونما ہو گیا ہے۔این جی اوز اور مغرب نواز بلکہ مغرب پرست طبقے کو تو شرم آنے سے رہی ( آپ یقین کیجیے شرم کو سب سے زیادہ شرم ان لوگوں کے پاس آنے سے آتی ہے) البتہ عام لوگوں پر یہ بات کھل گئی کہ مغرب جن معاملات میں مسلمانوں کے معاشرے پر تنقید کرتا ہے خود ان معاملات میں ہم سے زیادہ مبتلا ہے۔خواہ معاملہ دہشت گردی کا ہو،معاشرتی بگاڑ کا ہو یا کرپشن کا۔یہ الگ بات ہے کہ ان کا میڈیا ہمارے چینلوں اور اخبارات کی طرح ’’قومی مفاد‘‘ کو ایک فضول شے قرار نہیں دیتا اس لئے اپنے گند کو یوں اچھالتا نہیں۔
بات کہیں اور نکل رہی ہے اس لئے واپس گورڈن براؤن کی طرف لوٹتے ہیں۔
سو مسٹر براؤن! پاکستان میں تو بارہ سال کی شاید کوئی ماں نہیں اور نہ ہی پرائمری اسکولوں میں ولادت کا کوئی کیس آج تک سامنے آیا ہے۔اپنی اقوام متحدہ سے کہو تھوڑا فنڈ تمہارے برطانیہ کے لئے دے تاکہ وہاں اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے اور ہاں! اگر وہاں شور مچانے والی این جی اوز نہ ہوں تو ہم سے لے جاؤ۔ایک کے ساتھ ایک مفت دیں گے اور ساتھ شکریہ بھی ادا کریں گے۔
آخری درخواست آپ سب سے یہ ہے کہ ہمارے خادم اعلی صاحب کو برطانوی ہونہاروں کے اس ورلڈ ریکارڈ کی خبر نہ دیجیے گا۔آج کل ان پر ریکارڈ توڑنے کا جو جنون سوار ہے ایسا نہ ہو کہ…
٭…٭…٭
پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایک بات بہت مشہور تھی کہ مائیں اب نہ اپنے بچوں کو سائنسدان بنانا پسند کرتی ہیں اور نہ سیاستدان۔نہ وہ انہیں انجینئر بنانا چاہتی ہیں نہ ڈاکٹر، نہ بزنس مین اور نہ صحافی۔وہ یا تو انہیں جرنیل بنانے کے خواب دیکھتی ہیں یا جرنلوں کو انٹرٹین کرنے والا گلوکار۔کیونکہ اس دور میں صرف ان دو طبقوں کی ہی عزت باقی رہ گئی تھی باقی سب کو اس شخص نے نشان عبرت بنا دیا تھا۔اگر یہ بات سچ ہے کہ ماؤں کے خواب عزت مند طبقے بدلنے کے ساتھ بدلتے ہیں تو پھر آج کل پاکستانی ماؤں کا سب سے بڑا خواب اپنی اولاد کو کیا بنانے کا ہو گا؟…
ذرا سوچئے!… اور سوچئے…
جی ہاں! غدار…
پاکستان میں آج کل جس قدر پروٹوکول ایک ’’غدار‘‘ کو حاصل ہے، جتنی میڈیا کوریج ایک غدار کو مل رہی ہے اور جتنے سرکاری اخراجات ایک غدار پر ہو رہے ہیں اس کے پیش نظر تو یہ بات کچھ غلط نہیں لگتی۔پہلے عدالتی پیشیوں پر تو قوم دیکھا ہی کرتی تھی لیکن اتوار کے دن جناب غدار صاحب کی اسلام آباد سے کراچی منتقلی کے وقت جو منظر پیش ہوا اسے دیکھ کر مشکل ہی ہے کہ کسی دنیا پرست کے دل میں غدار بننے کا شوق نہ اٹھا ہو۔چک شہزاد سے لے کر ائیر پورٹ تک کلومیٹروں لمبا علاقہ سائیں سائیں کر رہا تھا۔ہر طرح کی ٹریفک بند تھی اور گاڑیوں کا ایک لمبا قافلہ آگے پیچھے سلامی اور پروٹوکول دیتا ہوا رواں دواں تھا اور پھر کراچی میں ائیر پورٹ سے ڈیفنس تک یہی منظردہرایا گیا۔خود پرویز مشرف بھی سوچ رہا ہو گا کہ خوامخواہ اتنا عرصہ فوج کی نوکری کی،آفیسرز کے سامنے جوتے چٹخائے،پھر حکمرانی کی سیاہی منہ پر ملی۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ ’’ڈائریکٹ حوالدار‘‘ کی طرح ڈائریکٹ غدار بھرتی ہو جاتے اور یہ عزت و پروٹوکول پاتے۔ویسے خادم اعلی صاحب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ دوالوں کو دعوت دے کر یہ ریکارڈ بھی اپنی حکومت کے نام درج کروا سکتے ہیں کہ دنیا میں کسی غدار کو سب سے زیادہ پروٹوکول دینے کا اعزاز اس حکومت کو حاصل ہوا ہے اس سے پہلے کسی کو نہیں ہوا۔نہ پاکستان میں اور نہ دنیا میںکہیں اور۔امید ہے کہ یہ بات اگر ان تک پہنچ گئی تو وہ ایسا کر گزریں گے اور پاکستان کے سینے پر ریکارڈ کا ایک اور میڈل سج جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ ریکارڈ بھی درج کرایا جا سکتا ہے کہ وطن سے سچی محبت رکھنے والے لوگوں کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہمارے ملک میں ہی ستایا جاتا ہے،رسوا کیا جاتا ہے،پابند کیا جاتا ہے اور سزا دی جاتی ہیں۔پورے دینی طبقے سے لے کر ڈاکٹر عبد القدیر خان تک تاریخ اس امر کی گواہ ہے۔
حضور شوق سلامت رہے ’’ریکارڈ‘‘ اور بہت
٭…٭…٭
   مضمون نگار    









محمدابوبکرصدیق

Post Top Ad

loading...