Header Ads

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ

نام: عبداللہ
لقب: صدیق، عتیق
کنیت: ابوبکر
حلیہ مبارک  :
آپ کا رنگ سفید ، رخسار ہلکے ہلکے ، چہرہ باریک اور پتلا ، پیشانی بلند ، منحنی جسم ، چادرباندھتے تو نیچے ڈھلک جاتی اور داڑھی کو سرخ سیاہ مد بی لگایا کرتے (الکامل فی التاریخ ،ج2،ص420)
قریش کے مشہور قبیلہ قارہ کے سردار ابن دغنہ نے آپ کے اوصاف حسنہ کا بایں الفاظ اعتراف کیا: إنك لتصل الرحم وتصدق الحديث وتكسب المعدوم وتحمل الكل وتعين على نوائب الدهر وتقري الضيف.
ترجمہ ؛ اے ابوبکر !بے شک آپ ناداروں کی مدد کرتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں ، کمزورں کا بوجہ اٹھاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور راہِ حق میں مصیبت زدہ افراد کے کام آتے ہیں۔(تاریخ الخلفاء،12)
امام نووی فرماتے ہیں: وكان من رؤوساء قريش في الجاهلية وأهل مشاورتهم ومحبباً فيهم وأعلم لمعالمهم ۔
ترجمہ ؛حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا شمار دور جاہلیت میں قریش کے سرداروں او راہل مشاورت میں ہوتا تھا،آپ کی شخصیت نہایت محبوب تھی، قریش کے معاملات کو بہتر طور پر سمجھتے تھے(تاریخ الخلفاء ص،12)
  خواب میں قبولیت اسلام کی بشارت :


اعلان نبوت سے پہلے آپ نے ایک عجیب وغریب خواب دیکھا، آسمان پر چودھویں کا چمکتا ہوچانداچانک پھٹ گیا، اس کے ٹکڑے مکہ کے ہر گھرمیں بکھرگئے پھر یہ ٹکڑے سمٹ کراکٹھے ہوئے اوریہ چمکتا ہوا چاند آپ کی گود میں آگیا۔

آپ نے یہ خواب اہل کتاب کے عالم کو سنایا تو اُس نے تعبیر بتائی کہ وہ نبی محتشم جن کا انتظار ہے ؛ اس نبی آخرالزماں کے آپ معاون ومددگار ہوں گے ۔توجب حضور کی بعثت ہوئی تو آپ نے بلاتوقف بغیر کسی پس وپیش کے اسلام قبول کرلیا۔
جیساکہ سبل الہدی والرشاد میں ہے: أنه رأى رؤيا قبل، وذلك أنه رأى القمر نزل إلى مكة ثم رآه قد تفرق على جميع منازل مكة وبيوتها فدخل في كل بيت شعبة، ثم كان جميعه في حجره. فقصها على بعض أهل الكتابين فعبرها له بأن النبي صلى الله عليه وسلم - المنتظر قد أظل زمانه، اتبعه وتكون أسعد الناس به، فلما دعاه رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يتوقف. (سبل الہدی والرشاد، ج2،ص303)
مدح صدیق اکبر بزبان حسان بن ثابت:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ، سب سے پہلے کس نے اسلام قبول کیا ؟ آپ نے فرمایا ، کیا تم نے حضرت حسان کے یہ اشعار نہیں سنے:
إذا تذكرت شجواً من أخي ثقةٍ ... فاذكر أخاك أبا بكرٍ بما فعلا
خير البرية أتقاها وأعدلها ... بعد النبي وأوفاها بما حملا
والثاني التالي المحمود مشهده ... وأول الناس ممن صدق الرسل


جب تم اپنے سچے بھائی کے دکھ دردکویاد کرنے لگو تواپنے بھائی ابوبکر کے کارناموں کو یاد کرلینا،حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بعد تمام مخلوق میں سب سے بہتر ، سب سے زیادہ متقی اور عادل ہیں ۔آپ حقوق وذمہ داریوں کونبھانے میں سب سے زیادہ وفادار ہیں، آپ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار ، آپ کے تابع ، ہمیشہ ساتھ رہنے والے اور ممدوح ومرجع خلائق ہیں، آپ ہی وہ پہلے شخص ہیں؛جنہوں نے سب سے پہلے رسولوں کی تصدیق کی ۔(الاستیعاب ،ج1،ص294، زرقانی،ج1،ص445)

آخری مصرع میں آپ کی اسلام میں اولیت کی زبردست شہادت ہے او رسرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اسے بیان کرنے اور آپ کے سماعت فرمانے سے اس کی ثقاہت واہمیت محتاج بیان نہیں۔اس کے علاوہ مزید دو اشعار درج ذیل ہیں:
والثاني اثنين في الغار المنيف وقد ... طاف العدو به إذ صعدوا الجبلا
وكان حب رسول الله قد علموا ... خير البرية لم يعدل به رجلا
اس بلند پہاڑ پر واقع غار میں دو معزز شخصیات میں سے دوسرے آپ ہی تھے ؛ جب پہاڑی پر چڑھنے کے بعددشمن غار کے اردگر د منڈلانے لگے ۔
آپ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں، سب کو معلوم ہے کہ آپ تمام مخلوق میں (انبیاء کے بعد) سب سے بہتر ہیں اور کوئی بھی ان کے برابر نہیں ۔(الاستیعاب،ج۱، ص295)
کنزالعمال میں ہے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قل وانا اسمع صدیق کی منقبت کہو میں سننا چاہتا ہوں ،حضرت حسان بن ثابت منقبت سناچکے توحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم خوش ہوگئے ،اورمسکراہٹ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے حسان!تم نے سچ کہا ہے واقعی صدیق ایسے ہی ہیں جیسے تم نے بیان کیا۔
فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه وقال:"صدقت يا حسان"! هو كما قلت (کنزالعمال ،حدیث نمبر:35673)



مضمون نگار: ابو بکر صدیق
پاکستان
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.