تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 26 اپریل، 2014

اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کرنے کی فکر کرے


گندم کی کٹائی کا موسم آن پہنچا ہے اور ایک فریضے کی یاد دہانی کا بھی…
’’ اور کٹائی کے دن اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو‘‘ (القرآن)
’’الرحمت‘‘ کی دعوتی مہمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہزاروں مسلمانوں کو اس غفلت سے بیداری نصیب فرمائی اور جن لوگوں کو معلوم بھی نہ تھا کہ کھیتی میں اللہ تعالیٰ کا حق ہے انہیں آج عشر کے مسائل زبانی حفظ ہیں۔
اگرچہ اس حوالے سے بہت محنت کی ضرورت باقی ہے…
کسان مسلمانوں کی اکثریت کا عمل اب بھی یہی ہے کہ عشر ادا نہیں کرتے،اگر کرتے ہیں تو مکمل ادا نہیں کرتے اور اس مرض میں ابتلاء تو عام ہے کہ عشر صرف گندم میں لازم سمجھتے ہیں اور کسی حد تک ادا بھی کرتے ہیں اس کے علاوہ دیگر فصلوں میں اس فریضے کی ادائیگی سے غافل رہتے ہیں۔اس لئے گندم کی کٹائی کے وقت تو مجاہدین کو بھی عشر وصول ہوتا ہے اور مدارس میں بھی لوگ دے جاتے ہیں۔کپاس، چاول،گنا،سبزیاں اور پھل وغیرہ پورا سال پیدا ہوتے رہتے ہیں ان کا عشر ادا کرنے والے نادر بلکہ کالمعدوم ہیں۔یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ کا یہ حق زمین سے اگنے والی ہر نعمت میں ہے اور اس کے لئے نہ کوئی مدت متعین ہے اور نہ ہی سال کا کوئی خاص وقت۔اس لئے زمین سے رزق حاصل کرنے والے کسان طبقے کی ذمہ داری ہے کہ وہ عشر کے مسائل کو اچھی طرح جانے اور پھر ان کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کرنے کی فکر کرے۔مال کی برکت بھی اسی پر موقوف ہے اور آخرت کی نجات بھی۔قرآن مجید کی آیت مبارکہ کے الفاظ پر غور کریں تو کتنے تاکیدی الفاظ ہیں۔اللہ تعالیٰ کا حق کٹائی کے دن ادا کرو یعنی عجلت اور جلدی کے ساتھ۔دیگر کام بعد میں ہوتے رہیں گے،دیگر حقوق کی فکر بعد میں کی جائے گی،خود کتنا رکھنا ہے؟ کتنا فروخت کرنا ہے؟ یہ معاملات بعد میں طے ہوتے رہیں گے فوری کرنے کا کام یہ ہے کہ پیداوار ہاتھ میں آتے ہی خوش دلی سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کر دو۔اب جو مسلمان قرآنی حکم کے مطابق اسے اپنی سب سے پہلی ذمہ داری سمجھے گا اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کس قدر برکات حاصل ہوں گی۔بندہ کو کچھ عرصہ قبل سیالکوٹ کے مضافات میں ایک بستی میں دعوتی سلسلے میں جانے کا اتفاق ہوا تھا،وہاں مسجد میں ایک بچے کو لایا گیا۔گاؤں والوں نے بتایا کہ یہ بچہ پورے گاؤں میں عشر کے کتابچے تقسیم کرتا ہے اور پھر پورا سال ہر ایک کو ترغیب دیتا رہتا ہے کہ فصل میں عشر ادا کریں۔ایک صاحب نے اسی مجلس میں بتایا کہ انہوں نے اس بچے کی دعوت پر یہ معمول بنایا ہے کہ اگر ایک مرلہ زمین پر اپنی ضرورت کے لئے لہسن بھی لگائیں تو اس میں عشر اداء کرتے ہیں۔اس سے ان کی زمین کی شرح نمو حیران کن حد تک بڑھ گئی ہے۔گاؤں کے اور زمیندار مہنگے بیج،کھادیں اور جدید زرعی سائنسی طریقے بروئے کار لا کر بھی ان کے برابر پیداوار حاصل نہیں کر سکتے۔
یہ ایک مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اہتمام سے ادا کرنے والا شخص دنیا میں اس قدر برکات پا رہا ہے کہ لوگ کثیر اخراجات اور سائنسی حربوں کے باوجود ان تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے۔سینکڑوں شہداء اور غازیوں کے گھرانے اور طلبہ منتظر ہیں۔آپ کی امانت ان تک پہچانے کے لئے تھیلے بھی آپ تک پہنچا دیے گئے ہونگے،بس انہیں اچھی طرح بھر کر لوٹائیں اور دنیا آخرت کے مزے لوٹیں۔

مضمون نگار                    











محمدابوبکرصدیق

Post Top Ad

loading...