تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 26 اپریل، 2014

دنیاکے سیکولر حرام پرخاموش‎ کیوں؟؟

کیا خیال ہے یہ واقعہ اگر حلال طریقے سے پیش آگیا ہوتا تو میڈیا کی چیخ سے دنیا کیسے لرزتی! دنیا بھر کے لبرلز کے کانوں پراس واقعہ سے جو"جوں" رینگی وہ ہم نے دیکھ لی کہ 12 سال 3 ماہ کی برطانوی ماں 13 سال کے بوائےفرینڈ سے حرامکاری کے ذریعے بچہ جنتی ہے۔ جس وقت اس لڑکی کو بدکاری سے حمل ٹهرا اُس وقت اس کی عمر صرف گیارہ سال چند ماہ تھی اور بوائے فرینڈ کی عمر 12 سال! اگر یہ خبر آئی ہوتی کہ ’کمسنی میں شادی سے ایک لڑکی 12 سال 3 ماہ کی عمر میں ماں بن گئی جس کا شوہر ابھی 13 سال کا ہے تو یہاں ’انسانیت‘ کے ہمدردوں کو کیسے کیسے غش پڑتے؟ الامان الحفیظ!
تو کیا کسی کو اندازہ ہوا کہ ’کمسنی کی شادی‘ پر پچھلے دنوں جو درد پھوٹ پھوٹ کر آرہا تھا وہ صرف اور صرف حلال کے دروازے بند کروانے کیلئے تھا۔۔۔ جی ہاں حلال کے دروازے بند ہوں گے تو حرام کے دروازے خودبخود کھلیں گے؛ کیونکہ انسانی خواہش اور ہارمونز کو آپ رسے اور بیڑیاں ڈال کر نہیں رکھ سکتے۔ جب آپ ’’حلال‘‘ پر قانونی یا ’اخلاقی‘ بیڑیاں ڈالیں گے تو وہ ہارمونز حرام ذریعے سے خودبخود اپنا راستہ بنالیں گے اور کمسنی کی حرامکاری کے واقعات بکثرت ہوں گے۔ طرفہ یہ کہ خود مغرب پرستوں کا ہی یہ کہنا ہے ہارمونز پر اپنا طبعی عمل کرنے کے معاملے میں پابندی لگانا فضول بات ہے، مگر وہ یہ اس لیے کہتے ہیں کہ ان کے ہاں حرام کا راستہ کھلا ہے۔ اپنے نام نہاد ’علمائےکرام‘ کو بھی کاش کوئی جا کر بتائے کہ جس کمسنی کی شادی کے خلاف پچھلے دنوں دلائل کے ڈھیر لگا رہے تھے، دراصل وہ آپ کے یہاں ایک حرام راستہ کھولنے کا انتظام تھا۔
فإنھا لا تعمی الأبصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور ’’آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سینوں میں دل اندھے ہوجاتے ہیں‘‘!
شاید برطانیہ کا یہ واقعہ ہماری آنکھیں کھولنے کیلئے ہوا ہو کہ ’کمسنی کی شادی‘ ممنوع ٹھہرانا۔۔۔ درحقیقت کس قسم کے معاشرے کی تشکیل کرنے جا رہا ہے۔
خدا را یہ پیغام اہل علم تک پہنچائیے۔
 
مضمون نگار     








محمدابوبکرصدیق

Post Top Ad

loading...