تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعہ، 28 مارچ، 2014

اپریل فول کی حقیقت، شرعی حیثیت اور امت مسلمہ


ہمارے معاشرے میں یکم اپریل کو اپریل فول کے نام سے جھوٹ کے دن کے طور پہ منایا جاتا ہے۔اسی حوالہ سے"صراط الہدی"  ویب سائٹ سے کچھ مواد شکریہ کے ساتھ شئیر کررہا ہوں۔
بے شک جھوٹ برے اخلاق میں سے ہے ,جس سے سب ہی شریعتوں نے ڈرایا ہے ،اوراسی پر انسانی فطرتيں بھی متفق ہيں، اور اسی کے عقل سلیم اور مروّت والے بھی قائل ہیں۔
اپریل فول منانے کی روایت کو بدقسمتی سے اغیار کی اندھی تقلید میں مسلمانوں نے بھی اپنا لیا ہے،اور ہر سال نہایت ہی جوش وخروش کے ساتھ مناتے ہیں اور پھر اپنی کامیابیوںپر فخرکرتے ہوئے اور اپنے شکار کی بے بسی کو یاد کرکے اپنی محفلوں کو گرماتے رہتے ہیں۔
آج اپریل فول کا یہ فتنہ امت مسلمہ کی نوجوان نسل کے اخلاق کی پامالی کا سبب بن رہا ہے جسے وہ یہود و نصاری کی پیروی کرتے ہوئے جھوٹ بول کر اپنے احباب واقرباء کو بے وقوف بنانے کے لیے مناتے ہیں۔
اپریل فول کی ابتداء کہاں سے ہوئی اور اسکی تاریخ کیا ہے اسکا اندازہ ذیل کی چند حکایتوں سے ہوسکتا ہے، گو کہ ان قصص کی کہیں سے تصدیق نہیں ہو سکی مگر ہمیں یہ اندازہ ہوجائےگا کہ بحیثیت مسلمان ہم کہاں کھڑے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی حکایت مبنی بر حقیقت ہے یا حقیقت سے کسی قدر قریب بھی ہے تب بھی اپریل فول منانا گویا خود کو طمانچہ رسید کرنے کے مترادف ہے۔
کہا جاتا ہے کہ قدیم تہذیبوں کے زمانے میں جن میں ہندومت اورقدیم رومن تہذیب شامل ہے ،نئے سال کا آغاز یکم اپریل یا اسکے قرب وجوارکی تاریخوں میں منایا جاتا تھا،1582ءمیں پوپ جورج ہشتم نے پرانے جولین کیلنڈر کی جگہ ایک نئے جورجین کیلنڈرکے اجراءکا حکم دیا جس کی رو سے نئے سال کا آغاز یکم اپریل کی جگہ یکم جنوری سے ہونا قرارپایا۔ اس سال فرانس نے نیاجورجین کیلنڈر اختیار کرتے ہوئے نئے سال کا آغاز یکم جنوری سے کیا۔ متضاد روایا ت کے مطابق یا توایک کثیر تعداد میں عوام الناس نے اس نئے کیلنڈر کو مسترد کردیا یا بروایت دیگر اس نئے کیلنڈر کی تبدیلی کی اطلا ع بروقت دور دراز کے علاقے کے لوگوں تک نہ پہنچ سکی جس کی بناءپر وہ نیا سال پرانے کیلنڈر کے مطابق ہی یعنی یکم اپریل کو مناتے رہے۔ اس موقع پر جدت پسندوں نے قدامت پسندوں کا مذاق اڑانے کے لیے یکم اپریل کو انہیں بے وقوف بنانے اور جھوٹی باتوں پر انکا یقین پختہ کرنے کے لیے انہیں جھوٹے پیغامات اور نئے سال کی ایسی تقریبات کے دعوت نامے بھیجنا شروع کر دئے جنہیں سرے سے منعقد ہونا ہی نہیں تھا۔ اسطرح یہ رسم سارے یورپ میں یکم اپریل کو جھوٹ بول کر لوگوں کو بےوقوف بنانے کے حوالے سے پھیل گئی۔
اس سلسلے کا ایک دوسرا واقعہ مسلمانوں کے دورِ اسپین سے متعلق ہے اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اسپین     میں تقریباً آٹھ سو سال تک حکومت کی، اس دوران عیسائیوں نے مسلمانوں کو شکست سے دوچار کرنے اور اسلام کی جڑوں کو اسپین سے اکھاڑ پھینکنے کی بےشمار کوششیں کیں مگر اپنی کسی بھی کوشش میں ان کو کامیابی نصیب نہ ہوئی،انہوں نے اپنی پے درپے ناکامیوں اور مسلمانوں کی طاقت اور قوت کے اسباب جاننے کے لیے اسپین میں اپنے جاسوسوں کو بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کے ناقابل شکست ہونے کا راز پا سکیں،انہوں نے اپنے آقاوں کو یہ رپورٹ دی کہ چونکہ مسلمانوں میں تقوی موجود ہے اور وہ قرآن اور سنت کی مکمل اتباع کرتے ہیں اور حرام اور منکرات سے بچتے ہیں اس لیے وہ ناقابل شکست ہیں۔ جب انہوں نے مسلمانوں کی طاقت کا راز پا لیا تو اپنی ساری ذہنی قوت اس بات پر خرچ کردی کہ کسی طریقے سے مسلمانوں کو انکی اس روحانی طاقت سے محروم کردیا جائے، اس کے لیے انہوں نے یہ حکمتِ عملی وضع کی کہ شراب اور سگریٹ کی مفت ترسیل اسپین کو شروع کر دی، انکی یہ ترکیب کامیاب رہی اور ان اشیاءکے استعما ل کی وجہ سے مسلمانوں میں اخلاقی کمزوریا ں نمایاں ہونے لگیں خصوصاً مسلمانوں کی نوجوان نسل اس سازش کا سب سے زیادہ شکار ہوئی،مسلمان اخلاقی تنزلی کا شکار ہوکر کمزور پڑ گئے اور عیسائیوں کو انکے دیرینہ خواب کی تعبیر مسلمانوں کی اسپین سے بے دخلی کی صورت میں مل گئی، اسپین میں مسلمانوں کی طاقت کے آخری سرچشمے یعنی غرناطہ کا عیسائی افواج کے ہاتھوں زوال یکم اپریل کو ہوا اس لیے وہ اس دن کو اسپین کو مسلمانوں سے آزادی کا دن قرار دیتے ہیں اور چونکہ انکے خیال میں مسلمانوں کو شکست انکی چالاکی اور دھوکہ دہی کے نتیجے میں ہوئی تھی اس لیے وہ یکم اپریل کو فول ڈے کے طور پر مناتے ہیں۔
اپریل فول کا جھوٹ اور مذاق بےشمار لوگوں کی زندگیوں میں طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ اپریل فول کاشکار ہونے والے کئی لوگ ان واقعات کے نتیجے میں شدید صدمے میں مبتلا ہوکر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، کئی مستقل معذوری کا شکار ہوکرہمیشہ کے لیے گھر کی چہار دیواری تک محدود ہوجاتے ہیں ، کتنے گھروں میں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور کتنے خوش وخرم جوڑے مستقلًا ایک دوسرے سے متعلق شکوک وشبہات کا شکار ہوجاتے ہیں اور مذاق کرنے والے ان سارے ناقابل تلافی صدمات اور نقصانات کا کسی طور پر بھی کفارہ ادا نہیں کر سکتے۔
مسلمانوں کے لیے ان غیر شرعی اور غیر اسلامی رسوم و رواج کو منانے کے حوالے سے یہ بات یقیناً سخت تشویشناک ہونی چاہیے کہ یہ غیر اسلامی ہیں اور اسلام کی عظیم تعلیمات اور اخلاقی اقدار کے منافی ہیں۔
جھوٹ نفاق کی نشانی ہے اور اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے اس کی سختی سے ممانعت فرمائی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے فرمان کے مطابق جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ہمیشہ سچ بولے یا خاموش رہے، مزید براں اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے اس شخص پرخصوصی طور پر لعنت فرمائی ہے جو جھوٹ بول کر لوگوں ہنساتا ہے۔ آج کل لوگ مزاح کے نام پر انتہائی جھوٹ گھڑتے ہیں اور لوگوں کو جھوٹے لطائف سنا کر ہنساتے ہیں ۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے ان اقوال مبارکہ کی روشنی میں اپریل فول جیسی باطل رسوم وروایات کو اپنانے اور ان کا حصہ بن کر لمحاتی مسرت حاصل کرنے والے مسلمانوں کو سوچنا چاہیے کہ ایسا کر کے وہ غیر مسلم مغربی معاشرے کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں جس کی رو سے لوگوں کو ہنسانے،گدگدانے اور انکی تفریح طبع کا سامان فراہم کرنے کے لیے جھوٹ بولناانکے نزدیک جائز ہے جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم کے فرمان کے مطابق جھوٹ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینا اور انہیں تفریح فراہم کرنااور ہنسانا سخت موجبِ گناہ ہے۔
کتاب وسنت میں جھوٹ کی ممانعت آئی ہے.اوراس کی حرمت پراجماع ہے.اورجھوٹے شخص کیلئے دنیا وآخرت میں برا انجام ہے۔
شریعت میں جھوٹ کی بالکل اجازت نہیں ہے سوائےچندایسےمعين امورکی جن پر كسی کا حق مارنا, خون ریزی كرنا اور عزت وآبرو پرطعن کرنا وغيرہ مرتب نہیں ہوتا ہے، بلکہ یہ ایسے مقامات ہیں جن میں (جهوٹ بولنے ) كا مقصد کسی كی جان بچانا ، یا دوشخصوں کے درمیان اصلاح كرانا،یا شوہروبیوی کے درمیان ميل محبت پيدا كرنا ہوتا ہے۔
اورشریعت میں کوئی دن یا لمحہ ایسا نہیں آیا ہے جس میں کسی شخص کے لئے جھوٹ بولنا یا اپنی مرضی سے كسی بھی چیزکی خبردیناجائزہے,جبکہ لوگوں میں "اپریل فول"كے نام سے ايك غلط رسم منتشر ہےجس كے بارے ميں انکا گمان ہے کہ شمسی سال کے چوتھے مہنیہ يعنی اپريل کی پہلی تاریخ كو بغیرکسی شرعی ضابطہ کے جھوٹ بولنا جائزہے۔
جھوٹ کے حرام ہونے کی دلیل:
1- اللہ کا فرمان ہے: إِنَّمَا يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ بِآيَاتِ اللہِ وَأولـئِكَ ھْم الْكَاذِبُونَ ٭ النحل: 105۔
"بے شک جھوٹ وہ لوگ گڑھتے ہیں جواللہ کی نشانیوں پرایمان نہیں لاتے اوروہی لوگ جھوٹے ہیں". ابن کثیررحمہ اللہ فرماتے ہیں:"پھراللہ نے خبردیا ہےکہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم نہ توافتراپردازہیں اورنہ ہی جھوٹے ہیں،کیونکہ اللہ پرجھوٹ وافتراپردازی بدبخت مخلوق کرتے ہیں جواللہ کی آیتوں پرایمان نہیں رکھتے جيسے کفاراورملحدين لوگ جولوگوں میں جھوٹ سے معروف ہیں. اورمحمد صلى اللہ علیہ وسلم تو لوگوں میں سب سے نیک اورسچےہیں، اور ایمان ویقین اورعلم وعمل کے اعتبارسے سب سے زیادہ باکمال ہیں،,اوراپنی قوم میں سچائی سے مشہورهيں جسمیں کسی کو شک نہیں بايں طورکہ انکے مابین وہ محمد امین کے لقب سے هی پکارے جاتے ہیں. (تفسر ابن كثير:2/588)۔

2- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:" منافق کی تیں علامتیں ہیں جب بات كرے توجھوٹ بولے،اورجب وعدہ کرے توخلاف ورزی کرے،اورجب اس كے پاس کوئی امانت رکھی جائے توخیانت کرے". ( بخاري:33، مسلم: 59 )۔
اورجھوٹ کی سب سے بدترین قسم مزاح کے طورپرجھوٹ بولنا ہے۔
بعض لوگوں کا یہ گمان ہے کہ مزاح کے طور جھوٹ بولنا جائزہے،اوریہی وه عذرہے جسكا یکم اپریل یا دیگرایام میں جھوٹ بولنے کیلئے سہارا لیا جاتا ہے۔ لیکن یہ غلط ہے،اورشریعت مطہرہ میں اسکی کوئی اصل نہیں ہے،کیونکہ جھوٹ بولنا چاہے مذاق کے طورپر ہویا حقیقت میں ہرصورت حرام ہے۔
ابن عمررضي اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: میں ہنسی مذاق کرتا ہوں اورصرف حق بات کہتا ہوں"(اس حدیث کوطبرانی نے معجم الکبیر12/391میں روایت کیا ہے اورعلامہ البانی نے صحیح الجامع(2494)میں صحیح قراردیا ہے).
اورابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ ہم سے ہنسی مذاق کرتے ہیں ؟ فرمایا:"میں صرف حق بات کہتا ہوں"(اسےترمذی نے روایت کیا ہے حدیث نمبر (1990)۔
اورجب ہم نے اس حقیقت کوجان لیا توآئیے ہم اپنے نفس سے وعدہ کریں کہ ہم کبھی بھی اس دن کونہیں منائیں گے.ہم پرضروری ہے کہ اسپین والوں سے سبق سيکھیں اورحقيقي معنوں ميں اسلام پرعمل كرنے والےبن جائيں اوراپنے ایمان کوکبھی بھی کمزورنہ ہونے دیں۔
اورہمیں اس جھوٹ کی اصلیت کوجاننے سے زیادہ اس دن جھوٹ بولنے کے حکم کے بارے میں جاننا چاہئے ،اورہم جزم ویقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی روشن ایام میں اسکا وجود نہیں تھا۔اوراسکے ایجاد کرنے والے مسلما ن نہ تھے۔بلکہ یہ مسلمانوں کے دشمنوں کی طرف سے ہے۔
اوراپریل فول میں ہونے والے حادثات بہت ہیں، لوگوں میں سے کتنے ہیں جنکوانکے لڑکے یا بیوی یا دوست کی وفات کے بارے میں خبردی گئی توتکلیف وصدمہ کی تاب نہ لاکرانتقال کرگئے، اور کتنے ہیں جن کونوکری کے چھوٹنے یا آگ لگنے یا انکے اہل وعیال کا ایکسیڈنٹ ہونے کی خبردی گئی تووہ فالج ، ستروك یا اسکے مشابہ ديگر امراض سے دوچارہوگئے۔ اوربعض لوگوں سے جھوٹے یہ کہا گیا کہ انکی بیوی فلاں آدمی کے ساتھ ديکھی گئی تویہ چیزاسکے قتل یا طلاق کا سبب بن گئی. اسی طرح بہت سارے واقعات وحادثات ہیں جن کی کوئی انتہا نہیں۔ اورسب کے سب جھوٹ کا پلندہ ہیں جنہیں عقل ونقل حرام ٹھراتی ہےاورسچی مروّت اسکا انکارکرتی ہے
اوراللہ ہی توفیق دینے والا ہے۔
تو اس سے بچیں اور اپنے دوست و احباب کو بھی اس بچائیں۔

Post Top Ad

loading...