Header Ads

برمی مسلمانو کی حالتِ زار۔


یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ آج تقریباً دو سال سے اراکانی اور برمی مسلمان جنہیں روہنگیا مسلم سے بھی موسوم کیا جاتا ہے حکومت برما کے ایما پر افواج برما اور دیگر فورسز بشمول پولیس اور ناساکا اور مگھ غنڈوں کے ظلم وتشدد اور قتل وغارت کی چکی میں پس رہے ہیں یوں تو برمی واراکانی بدھسٹوں کے استبداد کی کہانی بہت پرانی ہے لیکن تازہ مظالم کی لہر 3 جون 2012 سے شروع ہوئی اور ہنوز جاری ہے۔ ان مظالم کے نتیجے میں ہزاروں لوگ قتل ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہو کر اندرون ملک اور پڑوسی ملک بنگلہ دیش وغیرہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے جہاں بے سروسامانی کے عالم میں بے یارو مددگار پریشانیاں اور تکالیف جھیل رہے ہیں جو لوگ خواہی نہ خواہی وطن میں رہ گئے اُن پر آئے دن کسی نہ کسی بہانے سے افواج برما، ناساکا اور پولیس جلائو گھرائو مار دھاڑ قتل وغارت کا بازار گرم کرتے رہتے ہیں۔ 9 جنوری 2014 کو خیرادنگ جنوب منگڈو کا علاقہ پھر ظلم و وحشت کا شکار ہوا۔ بہانہ یہ بنایا کہ پولیس سارجنٹ کو کسی نے قتل کر کے اسی علاقے میں پھنک دیا جب علاقے کے مکینوں نے پولیس اور فوج کو اطلاع دی تو ان پر قتل کا الزام لگا کر مارنا اور گرفتار کرنا شروع کردیا۔ تنگ آکر لوگ علاقہ چھوڑ کر بھاگ گئے تو خواتین اور بچوں کو اٹھا کر لے گئے ان کی عصمت دری کی اور زیادتیاں کی گئیں کئی کو قتل کردیا۔ متضاد اقوال کے مطابق تین سو سے زاید خواتین اور 40 مردوں کے قتل کی خبریں تو اکثر پاکستانی اخبارات نے بھی دی ہیں۔ مگر شنید ہے کہ مقتولین کی تعداد اس کے کہیں زیادہ ہے جو برمی افواج نے چھپا دی ہیں۔ بستی میں آگ لگا دی جس سے پورا محلہ جل کر راکھ ہوگیا جس کی تصاویر انٹرنیٹ پر واضح دیکھی جاسکتی ہیں۔ اس تازہ ترین واقع نے جہاں اراکانی مسلمانوں کے ضمیر کو ایک بار پھر جگانے کا کام کیا وہاں اقوام عالم خصوصاً اقوام متحدہ اور او آئی سی اور حقوق انسانی کے علم برداروں کے لیے سوالیہ نشان بھی چھوڑا ہے کہ انہوں نے روہنگیا مسلمانوں کی مظلومیت پر کیا اقدام کیا اور ان کی مدد کس طرح کی؟ اگر نہیں کی تو کیوں؟ روہنگیا مسلمانوں کے نام سے اب پوری دنیا واقف ہے لہٰذا تعارف کی ضرورت نہیں البتہ تعاون کی اشد ضرورت ہے جس سے وہ محروم ہیں۔ زبان حال و قال سے چیخ چیخ کر کسی حقوق انسانی کے علم بردار، کسی صلاح الدین ایوبی، محمد بن قاسم، نورالدین زنگی، طارق بن زیاد، خالد بن ولید، ابوعبیدہ کو پکار رہے ہیں کہ وہ انہیں برمی افواج، حکومت اور مگھ قزاقوں، لٹیروں اور قاتلوں سے نجات دلائیں۔ لیکن؟ قسمت ان حرمانِ نصب روہنگیا مسلمانوں کا فریاد رس کوئی نہیں، اقوام متحدہ، او آئی سی حقوق انسانی کے علم بردار، اور خود روہنگیا مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم اے، او، یو اور دیگر سیاسی اور رفاہی تنظیمیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ گاہِ بگاہ یہ دھان کی فصل سے طوطے اُڑانے کی طرح ایک آدھ آواز بازگشت دے کر یہ لوگ مطمئن ہوجاتے ہیں کہ ہم نے حق ادا کر دیا اور روہنگیا مسلمانوں کا مسئلہ حل کردیا اور خود روہنگیا بھولے بھالے مسلمان یہ سن کر خود فریبی اور خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اب ہمیں شہری حقوق ملیں گے اور ظلم وستم سے نجات ملے گی لیکن چند دنوں کے بعد جب فسادات قتل وغارت کی آگ بھڑگ اٹھتی ہے اور ہجرت اور نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے تو پھر واویلا شروع ہوجاتا ہے یہ ہماری فطرت بنتی جارہی ہے اس سے آگے کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں، کچھ لوگ دعوے کی حد تک بہت کچھ کرنے کی بات کرتے نظر آتے ہیں لیکن اب تک دعوے سے بڑھ کر کچھ کرتے دکھائی نہیں دیے اور کچھ لوگوں نے پنجہ آزمائی کی ناقص کوشش کی وہ بھی ناکام ہو کر بیٹھ گئے۔ اب امید کی کرن کہیں سے نظر نہیں آرہی، چار وناچار غیروں کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھ رہے ہیں کوئی مسیحا ہمارے مسائل حل کردے۔ دنیا میں ایسا کبھی ہوا ہے نہ ہوگا۔ گفتار کے غازی تو بہت نظر آتے ہیں پر کردار کے غازیوں کا فقدان ہے، ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے والے ہر مسجد کے امام ہونے کے دعوے داروں کا بس چلے تو خلیفہ المسلمین اور امیرالمؤمنین کا دعویٰ بھی کردیں۔ اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ ہم چوں من دیگرے نیست، لیکن ان کی کارکردگی زیرو سے زیادہ نہیں، کچھ بھی نہ ہونے کے باوجود سب کچھ ہونے کا گمان کرلیا یہی ہماری قومی مسائل کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جب تک ہم اس بیماری سے اپنے آپ کو پاک نہیں کریں گے اور روہنگیا مسلمانوں کے مسائل اتفاق واتحاد سے حل نہیں کریں گے مزید مار کھائیں گے۔ یہی نہیں بلکہ ہمیں صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، ان کی تو یہی خواہش ہے تاکہ سرزمین اراکان کے وہ تنہا مالک بن جائیں اور ہمیں نکال باہر کردیں خواہ اس کے لیے کوئی بھی حربہ استعمال کرنا پڑے 1942 میں لاکھوں مسلمانوں کو اسی تناظر میں قتل کیا تھا اور اس کے بعد 1978 پھر 1992 کے واقعات اور اب جون 2012 سے جو مسلسل قتل وغارت کے بازار گرم ہے اور حال ہی میں 9 جنوری 2014 سے خیرادنگ کے قتل عام میں بچوں کو بھی بخشا نہیں گیا کیا اشارہ ملتا ہے؟ یہی کہ مسلمان ارکان کو خالی کردیں ورنہ پوری نسل کو قتل دیں گے۔ اور اس منصوبہ پر حکومت برما، افواج برما اور مگھ غنڈے متفق ومتحد ہیں، لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ مفتیان کرام وعلماء اراکان اولاً ودیگر مفتیان عالم اسلام جہاد کی فرضیت کا فتویٰ دیتے ہوئے جہاد کا اعلان کردیں اور ایک امام جہاد کی قیادت میں جہاد شروع کردیں تاکہ مسلمانانِ اراکان مزید مگھ وبرما اور ان کی افواج کے ظلم وبربریت قتل وغارت اور پرتشدد کارروائیوں سے محفوظ رکھ سکیں۔
اے او یو میں شامل 61 تنظیموں کے سربراہوں اور اس سے باہر سیاسی، مذہبی، رفاہی تنظیموں سے کہ وہ ذاتی انا اور مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر متحدہ ہوجائیں اور میانمار حکومت وافواج اور مگھ غنڈوں سے اپنی ماں، بہنوں، بچوں بوڑھوں کو نجات دینے کے لیے نوجوانوں کو میدان کارزار میں اُتار دیں اور دنیا کی توجہ مبذول کروانے کے لیے سفارتی مہم شروع کردیں اور اس کے لیے او آئی سی اور اقوام متحدہ سے مدد طلب کی جائے۔


…ابو شاہ رحمانی…
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.