تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

بدھ، 12 فروری، 2014

قیدی کو چھڑاؤ۔


آج کلمہ حق کہنے کی پاداش میں دنیا بھر کی طرح ہندوستان کی جیلیں بھی ہمارےمسلمان بھائیوں سے بھری پڑی ہیں ،لیکن ہم اتنےبے حس ہو چکے ہیں کی ہمیں احساس تک نہیں ہے اور ہم اپنی زندگیوں میں مست ہیں ،

اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھیں کیا ہم نے کبھی سوچاکی انکی زندگیاں کیسے گزر رہی ہیں ؟انکے جسموں کو کن اذیتوں سے دوچارکیا جا رہا ہے ؟انہیں ضروریات زندگی کے سامان بھی میسر ہیں کی نہیں ؟انکی عیدیں کسی گزرتی ہونگی ؟ہمارے اوپر اللہ نے انکے تعلق سے کیا ذمہ داری عائد کی ہے ؟تو ہمیں ان سب کا جواب نفی میں ملے گا ،جبکہ شریعت نے مسلمان قیدیوں کو دشمن کے ہاتھوں سے چھڑانے کے لیے مال اور جان کی قربانی دینا ہمارےاوپر فرض قرار دیا ہے

اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے :

وَمَا لَكُمْ لا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا ( سورہ النساء ۔ 75)

اور تمھارے پاس کیا عذر ہے ( تمھیں کیا ہوگیا ہے ) کہ تم نہیں لڑتے اللہ کے راستے میں ان کمزور ( مظلوموں ) کی خاطر جن میں کچھ مرد ہیں اور کچھ عورتیں ہیں اور کچھ بچے ہیں جو دعاء کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو اس بستی سے باہر نکال جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور ہمارےلیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی کھڑا کیجئے اور ہمارے لیے بھیج دیجئے اپنے پاس سے کوئی مددگار۔

اس آیت کی تفسیر میں علامہ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں اللہ تعالی نے جہاد اپنے کلمے کی بلندی ، اپنے دین کے غلبے اور کمزور مسلمانوں کے تحفظ کے لیے فرض فرمایا ہے اگرچہ اس میں جانیں چلی جائیں اور قیدیوں کو دشمن سے لڑ کر یا انہیں مال دے کر چھڑانا مسلمانوں پر فرض ہے اور مال کے ذریعے چھڑانا زیادہ تاکیدی فرض ہے کیونکہ یہ جان قربان کرنے سے آسان اور ہلکا ہے۔


امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ قیدیوں کو چھڑائیں خواہ انہیں اپنا سارا مال ہی کیوں نہ دینا پڑے۔


٭ کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے قیدیوں کو چھڑاؤ ( بخاری )

اسی طرح وہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ قیدیوں کے ساتھ [ جس طرح ممکن ہو رہائی اور دیگر معاملات میں ] تعاون کریں کیونکہ یہ فدیہ دے کر چھڑانے سے بھی آسان ہے ۔

اگر مسلمانوں نے کسی قیدی کو [ کافروں سے ] فدیہ دیکر چھڑایا تو اگر وہ قیدی مالدار ہے تو کیا رہائی کے بعد وہ مسلمانوں کے فدیے کی رقم واپس کرے گا یا نہیں ۔ علماء کرام کے دونوں طرح کے اقوال ہیں زیادہ صحیح یہ ہے کہ وہ رقم واپس کرے گا ۔ ( تفسیری قرطبی )

حضرت عمر بن العزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مسلمان قیدی کافروں سے فدیے کا معاہدہ کرکے واپس مسلمانوں میں آجائے تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کا فدیہ اداء کریں اور ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس قیدی کو واپس کافروں کو دے دیں۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

وَإِنْ يَأْتُوكُمْ أُسَارَى تُفَادُوهُمْ وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ ( سورہ بقرہ ۔ 85)

اور اگر وہ تمھارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلہ دے کر ان کو چھڑا بھی لیتے حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا۔ ( ابن عساکر)


٭ حضرت عمرو بن عوف سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خط مبارک میں یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ مسلمانوں کی ہر جماعت اپنے قیدیوں کا فدیہ معروف طریقے سے اور مسلمانوں کے درمیان [اس فدیئے کے بارے میں ] انصاف کے ساتھ اداء کرے گی اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنے مقروض ساتھیوں کا فدیہ اور دیت اداء کرنے میں مدد کریں ۔ ( ابن عساکر عن کثیر بن عبداللہ و ھو ضعیف)


٭ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات مہاجرین اور انصار کو خط لکھا کہ اپنی دیتیں اداء کیا کرو اور اپنے قدیوں کو فدیہ دے کر چھڑایا کرو ۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ ۔ مسند احمد )


[ جنگی قیدیوں کے بارے میں پہلے طریقہ یہ تھا کہ انہیں گرفتار کرنے والے ان کی آزادی کے لیے کچھ رقم مقرر کر دیتے تھے کہ اس قیدی کو ہم اتنی رقم لیکر چھوڑ سکتے ہیں یہ رقم فدیہ کہلاتی تھی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی معروف طریقے کے مطابق قیدیوں کو چھڑانے کی تاکید فرمائی ہے چونکہ اصل تاکید قیدی چھڑانے کے بارے میں ہے اس لیے قیدی چھڑانا لازم ہوگا خواہ وہ کسی طریقے سے ممکن ہو ان احادیث کو صرف فدیے کے ساتھ خاص نہیں کیا جاسکتا ] ۔

علامہ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اللہ کا فرمان ہے :

اِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ ( سورہ انفال ۔ 72)

اور اگر وہ تم سے دین کے کام میں مدد چاہیں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے ۔


اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ وہ مسلمان جنہوں نے دشمن کی زمین سے دارالاسلام کی طرف ہجرت نہ کی ہو اگر مسلمانوں کو مدد کے لیے پکاریں کہ آؤ اور لشکر یا مال کے ذریعے ہمیں کافروں سے چھڑاؤ تو مسلمانوں پر ان کی مدد کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ ہاں اگر وہ تمہیں ایسی قوم کے خلاف مدد کے لیے بلائیں جن کے ساتھ تمھارا صلح کا معاہدہ ہو تو پھر تم معاہدہ نہ توڑو بلکہ معاہدے کی مدت گزرنے کا انتظار کرو۔


ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کمزور مسلمان اپنی آزادی اور رہائی کے لیے بلائیں تو مسلمانوں پر ان کی مددلازم ہے کیونکہ مسلمانوں کے درمیان رشتہ ولایت قائم ہے پس مدد کی پکار سننے کے بعد کسی مسلمان کی آنکھ کے لیے جائز نہیں کہ وہ آرام کرے بلکہ اگر ممکن ہو تو ان کی مدد کے لیے نکل پڑنا چاہئے یا اپنا مال خرچ کر دینا چاہئے یہاں تک کہ کسی مسلمان کے پاس ایک درہم باقی نہ رہے۔


یہی امام مالک رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ کا قول ہے لیکن آج جس طرح سے مسلمانوں نے اپنے قیدی بھائیوں کو کافروں کے ہاتھوں میں چھوڑ رکھا ہے حالانکہ ان کے ہاتھوں میں بے شمار مال ، قوت اور طاقت ہے اس پر ہم صرف انا للہ و انا الیہ راجعون ہی پڑھ سکتے ہیں ۔ ( تفسیر القرطبی)


٭ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے دشمنوں کے ہاتھوں سے کسی مسلمان قیدی کو فدیہ دیکر چھڑایا تو میں [ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ] وہی قیدی ہوں ۔ ( الطبرانی ۔ مجمع الزوائد )

[ یعنی کسی مسلمان قیدی کو چھڑانا گویا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھڑانے جیسا ہے ۔ سبحان اللہ اس سے بڑھ کر اس عمل کی اور کیا فضیلت ہو سکتی ہے کیونکہ اس حدیث میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مسلمان کے قید ہونے کو اپنے قید ہونے جیسا اور اس کو چھڑانے کو اپنے چھڑانے جیسا قرار دیا ہے ۔ ]


٭ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر میں ایک مسلمان کو مشرکوں کے ہاتھ سے چھڑاؤں تو یہ مجھے پورے جزیرۃ العرب سے زیادہ محبوب ہے ۔ ( ابن عساکر )

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ قسطنطنیہ میں قید مسلمانوں کے نام خط میں لکھتے ہیں :

اما بعد ! معاذ اللہ آپ لوگ خود کو قیدی شمار کرتے ہیں [ ایسا ہر گز نہیں بلکہ ] آپ تو اللہ کے راستے میں روکے ہوئے لوگ ہیں یہ بات آپ کے علم میں رہنی چاہئے کہ میں جب اپنی رعایا کے درمیان کچھ تقسیم کرتا ہوں تو آپ لوگوں کے گھر والوں کو دوسروں سے زیادہ اور بہتر چیزیں دیتا ہوں میں فلاں آدمی کے ہاتھ آپ لوگوں کے لیے پانچ دینار بھجوارہاہوں اگر مجھے یہ خطرہ نہ ہوتا کہ ظالم رومی آپ لوگوں تک یہ مال نہیں پہنچنے دیں گے تو میں اس سے زیادہ بھجواتا میں نے آپ تمام لوگوں کو منہ مانگا فدیہ دیکر چھڑانے کے لیے فلاں آدمی کو بھجوا دیا ہے ۔ آپ لوگ خوش ہو جایئے اور خوش خبری پایئے ۔ والسلام ( ابن عساکر )


مسئلہ : علامہ نووی رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں :

اگر کافر ہمارے ایک دو مسلمانوں کو گرفتار کر لیں تو کیا ان کے اس فعل کو اسلامی ممالک میں کافروں کی فوجوں کے داخلے جیسا سمجھا جائے گا یا نہیں ؟ زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ ان کا یہ فعل اسلامی حدود میں فوجیں داخل کرنے کی طرح شمار ہوگا [اور اسلامی سرحدوں میں کافروں کے داخل ہونے سے جہاد فرض عین ہو جاتا ہے ]کیونکہ ایک مسلمان کی حرمت کسی شہر یا ملک کی حرمت سے زیادہ ہے چنانچہ شرعی حکم یہ ہوگا کہ اگر وہ اس قیدی کو ایسے علاقے میں لے گئے ہوں جو مسلمانوں کے ملک کے قریب ہے اور حملہ کرکے قیدی کو چھڑانا ممکن ہو تو فوراً ان پر حملہ کیا جائے گا لیکن اگر وہ اسے لے کر دور دراز علاقوں میں چلے گئے ہوں اور بڑے لشکر کے بغیر وہاں تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو پھر تیاری مکمل ہونے تک انتظار کیا جائے گا ۔ ( الروضۃ للنووی رحمہ اللہ )


یہ پوسٹ اعظمی اسلامک زون گروپ پر ایک ممبر کے ذریعہ پوسٹ کی گئی تھی۔

Post Top Ad

loading...