تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

سوموار، 13 جنوری، 2014

اتباعِ سنت کی اہمیت اور جشن میلاد (حصہ اول)

 (پہلا خطبہ )
مسجد الحرام مین تاریخی خطبة جمعه
حمد و صلوٰۃ کے بعد !
مسلمان بھائیو! اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو کہ اُس نے تم ہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جو تم پر اُس کی آیات تلاوت کرتا، تمہیںپاک صاف کرتااور تمہیں کتاب و حکمت اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اُس نعمت کو عملی جامہ پہنائو کہ نبی مکرم رسولِ معظم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی اتباع بجا لائو، ان کے بتائے ہوئے طریقے پرچلو، ان کی لائی ہوئی شریعت پر گامزن رہو اور خواہشات و نفسیات کے مارے ہوئے لوگوں نے جو بدعات و منکرات ایجاد کررکھی ہیں، ان سے کنارہ کشی اختیار کرو۔
برادرانِ اسلام ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و تابعداری اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کو مضبوطی سے تھام لینے کے بارے میںاحکامات کثرت سے قرآن و حدیث میں وارد ہوئے ہیں، یہ سب کے سب صریح اور واضح نصوص ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و فرمانبرداری اور بلاچوں و چراں سرآفندگی و سپردگی پہ دلالت کرتی ہیں اور کسی طرح بھی ان سے سرموانحراف کی گنجائش نہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنْتُمْ تَسْمَعُونَ } (الانفال :۲۰)
’’اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول کاکہنا مانو اور اس سے روگردانی نہ کرو حالانکہ تم سن رہے ہو۔‘‘
نیز فرمایا:
{وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ } (آل عمران :۱۳۲)
’’اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرادری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘
نیز فرمایا:
{وَمَا اٰ تَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَاکُمْ عَنْہٗ فَانْتَھُوْا} (الحشر :۷)
’’اور تمہیںجو کچھ رسول دے ،لے لو اور جس سے روکے رُک جاؤ‘‘
نیز ارشاد فرمایا:
{قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ } (آل عمران:۳۱)
’’کہہ دیجئے! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو، خود اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘
پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بدظنی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شانِ عقیدت میںگستاخی کی ناعاقبت اندیشی سے ڈراتے ہیں، خواہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں سرزد ہو، یا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد آپ کے دائرئہ سنت میں اس طرح کہ آپ کی سنت کو پس پشت ڈال کر کسی اور طریقہ کو اوّلیت و فوقیت دی جائے یا کسی سنت ِمطہرہ کی مخالفت کی جائے یا آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشادات کے مقابلہ میں عناد و تعصب برتا جائے، دین میںبدعات کا دروازہ کھولا جائے اور اس کے فروغ کی کاوشیں کی جائیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ o يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ}
’’اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو یقینا اللہ تعالیٰ سننے اورجاننے والاہے، اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی كریم صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ اس سے اونچی آواز میں بات کرو، جیسے ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اِکارت جائیںاور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔‘‘(الحجرات :۱،۲)
اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نافرمانی اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ان کے بُرے انجام سے آگاہ کردیا ہے۔ فرمایا:
{ وَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ أَمْرِہِ أنْ تُصِیْبَھُمْ فِتْنَۃٌ أوْ یُصِیْبَھُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ } (النور :۶۳)
’’سنو! جو لوگ حکم رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت کرتے ہیں انہیںڈرتے رہنا چاہئے کہ ان پر کوئی زبردست آفت نہ آپڑے یا انہیں کوئی دُکھ کی مار نہ پڑے۔ ‘‘
اسی طرح رسول معظم صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت و اتباع کی خلاف ورزی خواہ زندگی میں ایک بار ہی کیوں نہ ہو، کو کھلی گمراہی اور دین میں انحراف کے مترادف قرا ردیا ہے جوبلا شبہ نعمت ِایمان کے فقدان اور اس کے زوال کا موجب ہے۔ فرمایا:
{وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا} (الاحزاب:۳۶)
’’اور کسی مسلمان مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کے بعد کسی امر کا اختیار باقی نہیں رہتا۔ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے، وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔‘‘
نیز فرمایا:
{فَلَا وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حتیّٰ یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِيْ أَنْفُسِھِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَیْتَ وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا} ( النساء :۶۵)
’’سو قسم ہے تیرے پروردگار کی یہ ایماندار نہیںہوسکتے جب تک آپس کے تمام اختلافات میں آپ کو حاکم نہ مان لیں۔ پھر جو فیصلہ آپ ان میں کردیں، اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں۔‘‘
نیز فرمایا:
{فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہٗ إِلَی ﷲِ وَالرَّسُوْلِ إنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الٰاخِرِ} (النساء :۵۹)
’’اگرکسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔‘‘
احادیث ِ مبارکہ کے بیش بہا ذخیرے بھی ان دلائل و احکامات سے بھرے پڑے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک حدیث کا ٹکڑا ملاحظہ فرمائیے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
فمن رغب عن سنتی فلیس مني (صحیح بخاری:۱۸۲۸)
’’جس نے میری سنت سے اعراض وپہلو تہی برتی، وہ مجھ سے نہیں۔‘‘
نیز سیدنا عرباض بن ساریہ رضی الله عنه سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
إنہ من یعش منکم فسیرٰی اختلافا کثیرا فعلیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین عضوا علیھا بالنواجد وإیاکم و محدثات الأمور فان کل بدعۃ ضلالۃ (سنن ابوداؤد :۴۶۰۷ وجامع ترمذی:۲۶۷۶)
’’تم میں جو شخص زندہ رہا تو وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا، تو تم میری سنت اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھام لو، اور اپنے دانتوں سے اس پر اپنی گرفت مضبوط کر لو اور دین میں نت نئی باتیں ایجاد کرنے سے بچو کیونکہ ہربدعت (من گھڑت کام) گمراہی ہے۔‘‘
برادرانِ اسلام! کتاب و سنت کے ان مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ مسلمانوں کو سنت ِنبوی سے وابستہ رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور دین میں نئی نئی باتیں، جن کا اس دین سے کوئی تعلق نہیں، کو اختیار و ایجاد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم برابر اپنے خطبوں میں سنت پر گامزن رہنے اور بدعات سے پرہیز کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے ایک خطبے میں ارشاد فرمایا:
أما بعد فإن خیر الحدیث کتاب ﷲ وخیر الھدي ھدي محمد صلی اللہ علیہ و سلم وشر الأمور محدثاتھا وکل بدعۃ ضلالۃ (صحیح مسلم:۸۶۷)
’’سب سے بہتر بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے بہترین طریقہ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ اور سب سے بدترین کام نئی نئی چیزوں کی اختراع ہے اور ہر نئی بات گمراہی ہے۔‘‘
نیز سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنهافرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فھورد (صحیح بخاری:۲۶۹۷ )
’’جس نے ہمارے اس دین میں نئی بات پیدا کی جس کا اس سے تعلق نہیں تو وہ مردود ہے۔‘‘
اس سلسلہ میں سلف صالحین کے ایسے نقوشِ پا موجود ہیں جو قرونِ اولیٰ کے بہترین طرزِعمل کی وضاحت کرتے ہیں اور مسلمانوں کے لئے ہر زبان و مکان میں بہترین کردار اور اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ انہی سے اپنے دوشِ زندگی اور اپنے کردار و خیالات کی راہ متعین کریں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی الله عنه فرماتے ہیں:
’’اتباع و تابعداری کرتے رہو اور نئی نئی باتیں مت گڑھو، یہی تمہارے لئے کافی ہے۔‘‘
نیز آپ رضی الله عنه نے ارشاد فرمایا: ’’سنت ِرسول پہ اکتفا کرلینا کہیں بہتر ہے اس سے کہ بدعات کی ترویج کے لئے آدمی کوشاں ہو۔‘‘
سیدنا ابن عباس رضی الله عنهما فرماتے ہیں:
’’لوگوں پہ کوئی سال ایسا نہ گزرے گا جس میں وہ کوئی بدعت ایجاد نہ کریں گے اور کسی سنت کو مردہ کرچکے ہوں گے۔ یہاں تک کہ بدعتیں زندہ وپائندہ ہوتی رہیں گی اور سنتیں مردہ ہوتی چلی جائیں گی۔‘‘(المعجم الکبیراز امام طبرانی :۱۰؍۳۱۹)
سیدنا حذیفہ رضی الله عنه فرماتے ہیں:
’’ہر نئی بات گمراہی ہے خواہ لوگ اسے حسنات میں شمار کیوں نہ کریں۔‘‘
سیدنا عمر بن عبدالعزیزرحمه الله فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء كرام رضی الله عنهم نے سنت پہ ثابت قدم رہ کربتلا دیا کہ اس کی پابندی درحقیقت قرآنِ مجید کی تصدیق، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور دین ِمتین کو تقویت پہنچانا ہے۔ جو اس پر عمل پیرا ہو، وہ راہ یاب ہے، جس نے اس سے مدد چاہی وہ فائز المرام ہے اور جو اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگیا، اس نے مؤمنین، صالحین و کاملین سے بغاوت کی راہ اختیار کی، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو منہ کی کھلائے گا اور جہنم رسید کرے گا۔‘‘
امام مالک رحمه الله فرماتے ہیں :
’’اس امت کے متاخرین کی اصلاح و کامیابی صرف اس طریقہ پر ہوگی جس پر چل کر قرونِ اولیٰ کے مسلمان کامیاب و راہ یاب ہوئے۔‘‘ (الاعتصام از امام شاطبی:۱؍۴۹)
بعض بزرگوں سے یہ قول منقول ہے کہ’’الله كی مخلوق کے لئے تمام راستے بند ہیں، صرف ایک ہی راستہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نقش ِقدم کی پیروی کی جائے۔‘‘
تحریر:- شیخ عبد الرحمن السدیس 12/فروری 2012۔
مرتب:- ایڈمن
(محمدزاھد الاعظمی)
بشکریہ: اسوۃ حسنہ ڈاٹ او آر جی

Post Top Ad

loading...