تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

بدھ، 25 دسمبر، 2013

کرسمس اسلام کی نظر میں


اسلام اپنے ماننے والوں کو غیرت و حمیت کا ایسا خوگر بناتا ہے کہ وہ اپنے دین کے سوا کسی سے مرعوب نہ ہوں۔ کیونکہ اس کائنات میں صرف اور صرف اسلام ہی الدین اور الحق ہے اور اس کے ماسوا سب کچھ باطل اور جھوٹ ہے۔
اسلام جہاں خیر وشر اور کامیابی و ناکامی کے اپنے معیار اور پیمانے مقرر کرتا ہے وہیں محبت اور دوستی، نفرت اور دشمنی کےلیے اپنے معیار کا تعیّن کرتا ہے اور اس کا اصرار ہے کہ محبت اور دوستی کے تمام تر رشتے صرف مسلمانوں کے ساتھ استوار کیے جانے چاہئیں۔ ان کی زبان کوئی بھی ہو اور وہ دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھتے ہوں وہ آپس میں بھائی ہیں اور ان کا یہ رشتہ خونی رشتوں سے بھی مقدم ہے۔ اسی طرح دشمنی اور نفرت کے لیے بھی اسلام اپنا معیار قائم کرتا ہے کہ ہر شخص جو آپ کے دین میں داخل نہیں ہو وہ آپ کا دوست نہیں ہوسکتا چاہے وہ والدین یا اولاد کی صورت میں قریب ترین رشتے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہاں تک کہ مسلمان والد کی اولاد میں سے کوئی اگر کافر ہو تو وہ اس کا وارث بھی نہیں۔
کفار میں سے کسی سے عداوت اور نفرت کا کتنا تعلق رکھا جائے اس بات کا انحصار اس کی کیفیت پر ہے کہ آیا وہ محارب کافر ہے یا غیر محارب کافر یا مسلمانوں کا ذمی کافر، ہر ایک کے بار ے میں تفصیلی احکامات فقہ کی کتابوں میں درج ہیں۔
کفار سے دشمنی اور مؤمنین سے محبت کے اسلامی عقیدے کو اصطلاح میں الولاء البرا کہتے ہیں۔ علماء کا کہنا ہے کہ کتاب وسنت میں عقیدہ توحید کے بعد سب سے زیادہ بیان اسی عقیدہ کا ہے اور بعض علماء اسے عقیدہ توحید کا ہی جزو شمار کرتے ہیں۔
اب ہم نفسِ مسئلہ کی طرف آتے ہیں کہ عید میلاد مسیح علیہ السلام جسے عیسائی کرسمس کے نام سے موسوم کرتے ہیں اور اسے باقاعدہ اپنی عید قرار دے کر مناتے ہیں۔ گویا کہ یہ عیسائیوں کا اہم ترین مذہبی تہوار ہے۔  پہلے پہل بلادِ کفر میں رہنے والے مسلمان اس عادتِ بد کا شکار ہوئے کہ وہ عیسائیوں کے اس تہوار کے موقع پر ان کے گرجا گھروں میں جاکر یا انہیں اپنے ہاں بلاکر کرسمس کا کیک  کاٹتےاور ان کے ساتھ تحائف کا تبادلہ کرتے تھے۔اس سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کفار سے ان کے تعلقات بہتر رہیں کیونکہ ان کے ملکوں میں رہتے ہوئے ان کی حیثیت کافروں کے ذمیوں کی سی ہوتی ہے ،اس لیے اپنے آقاؤں کو خوش کرنا وہ اپنے فرائض منصبی میں سے سمجھتے ہیں۔ دوسرا اہم مقصد تجارتی تعلقات کو بہتر طور پر استوار کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح ان کا تعارف ایک اعتدال پسند اور ماڈرَن مسلمان کے طور پر ہوتا ہے جن سے کافروں کو یہ تسلی رہتی ہے کہ یہ ان دہشت گردمسلمانوں میں سے نہیں ہے جو ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے نظام کو ختم کر کے خلافت اسلامی قائم کرنے کے خواہاں ہیں۔
کرسمس منانے سے مذہبی جمہوری جماعتوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے پیشِ نظر یہ ہوتا ہے کہ اب انتخابات چونکہ مخلوط طرز پر ہیں، اس لیے ان عیسائیوں کے ووٹ بھی اہم ہیں شاید کہ ہمیں ہی حاصل ہوجائیں۔ دوسرا یہ کہ بیرونی کافروں کے سامنے اپنے لیے کریمانہ تاثّْر(سافٹ امیج) پیدا کرنے کی کوشش بھی ہوتی ہے کہ ہم بتوں کو گرانے والے یا اسلامی احکامات پر عمل کروانے والے طالبان نہیں ہیں اور ہم اقتدار کے لیے موزوں ترین لوگ ہیں۔ ایک اہم مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ مقامی سیکولر اور لبرل طبقے کو اپنی داڑھی اور مذہب کی صفائی دی جائے۔
کفار کی عیدوں اور مذہبی تہواروں میں مسلمانوں کی شرکت کے بارے میں اسلام کے مفصل احکامات ہیں، ان میں چند احادیث، آثار صحابہؓ اور اقوالِ فقہا درج کیے جاتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
٭مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَہُوَ مِنْہُمْ
جو کسی قوم کی مشابہت کرے گا وہ اُنہی میں سے ہوگا۔ (سنن ابی داود)
اسی طرح عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ اثر منقول ہے:
٭مَنْ كَثَّرَ سَوَادَ قَوْمٍ حُشِرَ مَعَهُمْ 
جو کسی قوم کی تعداد میں اضافہ کرے گا اس کا حشر (قیامت کو) اُنہی کے ساتھ ہوگا۔ (مسند ابو یعلی الموصلی)
عطاء بن دینار سے روایت ہے کہ سیدنا عمرِ فاروقؓ نے فرمایا:
٭لا تدخلوا على المشركين في كنائسهم يوم عيدهم فإن السخطة تنزل عليهم
مشرکین کے تہواروں کے دن ان کی عبادت گاہوں میں نہ جاؤ، کیونکہ ان پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔ (بیہقی)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
٭مَنْ بَنَى بِبِلَادِ الْأَعَاجِمِ ، وَصَنَعَ نَيْرُوزَهُمْ ، وَمِهْرَجَانَهُمْ ، وَتَشَبَّهَ بِهِمْ حَتَّى يَمُوتَ ، وَهُوَ كَذَلِكَ حُشِرَ مَعَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
جو شخص عجمیوں( کافروں) کے ملکوں میں گھر بنائے، ان کے نوروز ومرجان (تہواروں) میں شریک ہو اور اس کا اہتمام کرے اور ان کی مشابہت اختیار کرے اور موت آنے تک اسی کردار پر قائم رہے تو قیامت کے دن انہی لوگوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ (السنن الکبری للبیہقی)
جمہور علماء کے نزدیک ان کے شعائر پَر مبارک  باد دینا کفرہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شعائر، مذہب کی علامت ہوتے ہیں گویا کہ اُن کے کفر پر مبارک دی جارہی ہے۔
امام ابو حفص حنفیؒ کہتے ہیں:۔
٭مَنْ أَهْدَى فِيهِ بَيْضَةً إِلَى مُشْرِكٍ تَعْظِيمًا لِلْيَوْمِ فَقَدْ كَفَرَ بِاللَّهِ تَعَالَى
اگر کوئی کسی مشرک کو کسی دن کی تعظیم میں ایک انڈہ بھی تحفے میں دیتا ہے تو اس نے اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرلیا۔ (فتح الباری لابن حجر: 2/513)
امام ادریس ترکمانی حنفی ایسے اعمال جن کا ارتکاب مسلمان عیسائیوں کی عید کے موقع پر کرتے ہیں،ان کا ذکرکرنے کے بعد فرماتے ہیں:۔
بعض علمائے احناف کے نزدیک جس نے یہ سب کچھ کیا اور بغیر توبہ کے مرگیا تو انہی کی طرح کافر ہے ۔ (اللمع فی الحوادث والبدع لابن الترکمانی: 1/293-316)
امام ابنِ قیمؒ فرماتے ہیں:۔
وأما التهنئة بشعائر الكفر المختصة به فحرام بالاتفاق مثل أن يهنئهم بأعيادهم وصومهم فيقول: عيد مبارك عليك، أو تهنأ بهذا العيد ونحوه،....وهو بمنزلة أن يهنئه بسجوده للصليب، بل ذلك أعظم إثماً عند الله وأشد مقتاً من التهنئة بشرب الخمر وقتل النفس وارتكاب الفرج الحرام ونحوه، وكثيراً ممن لا قدر للدين عنده يقع في ذلك وهو لا يدري قبح ما فعل، فمن هنأ عبداً بمعصية أو بدعة أو كفر فقد تعرض لمقت الله وسخطه
شعائرِ کفر سے متعلقہ کاموں پر مبارک باد دینا باتفاق علماء حرام ہے۔ جیسے ان کے تہواروں یا ان کے روزوں کے دن انہیں یہ کہنا:۔
آپ کو عید مبارک ہوں۔ یا اس دیگرتہواروں کو مبارکباد دینے والے کلمات کہنا۔  اس کی مثال ایسی ہے جیسے انہیں صلیب کو سجدہ کرنے پر مبارک دی جائے، یہ تو اللہ کے نزدیک کسی کو شراب پینے، ناحق قتل کرنے اور زنا کرنے جیسے گناہوں پر مبارک باد دینے سے بھی زیادہ بُرا گناہ ہے اور اس کی ناراضگی کا باعث ہے۔ ان تہواروں پر مبارکبادینے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہیں جن کے پاس دین کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی ہے اور انہیں اپنے اس فعل کی قباحت کا علم نہیں ہوتاہے۔ پس جس کسی نے کسی کو کسی بدعت یا نافرمانی یا کفرکرنے پر مبارکباد دی تووہ اللہ کے غضب اوراس کے عذاب کا مستحق ٹھہرا۔ (احكام اھل الذمۃ: 1/441-442)
بعض مالکی فقہاءکا کہنا ہے:۔
من كسر يوم النيروز بطيخة فكأنما ذبح خنزيراً
جس نے نوروز (تہوار)کے احترام میں تربوز کاٹا تو اس نے گویا سور ذبح کیا۔ (اللمع فی الحوادث والبدع: 1/294)
غور کرنے کی بات ہے کہ دنیا کے عارضی مفاد کے لیے اپنی آخرت برباد کیے جانا کہاں کی عقلمندی ہے۔؟؟؟
مرتب: ایڈمن
(محمد زاہد الاعظمی)
مأخذ : صدائے مسلم ڈاٹ کام

Post Top Ad

loading...