تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 12 اکتوبر، 2013

فریضۂ حج کی ادائیگی میں جلدی کریں۔


حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے پانچواں عظیم الشان رکن ہے،جوہرصاحب استطاعت پرزندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے،حج کی فرضیت کے لیے چندشرائط میں اہم شرائط یہ ہیں کہ وہ مسلمان ہو،عاقل بالغ ہو، صحت منداورتندرست ہو،معذورنہ ہواوراس کے پاس اتنامال ہوکہ وہ اپنے گھرسے بیت اللہ تک جاسکے اورپھرواپس آسکے،اوراپنے غائبانہ میں اپنے اہل وعیال کے لیے مناسب اخراجات کابندوبست کرسکے،مندرجہ ذیل آیت میں حج کی فرضیت کے ساتھ ساتھ بیت اللہ کی خصوصیتوں اوراوراس کی برکات کو بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایاہے۔
"ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبٰرکاوھدی للعالمین۔(96)فیہ آیات بینات مقام ابراہیم،ومن دخلہ' کان آمنا،وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا،ومن کفرفان اللہ غنی عن العالمین"(آل عمران:97)
ترجمہ:بے شک سب سے پہلاگھرجومقررہوالوگوں کے واسطے یہی ہے جومکہ میں ہے، برکت والااورہدایت جہان کے لوگوں کو، اس میں نشانیاں ہیں ظاہر جیسے مقام ابراہیم اور جو اس کے اندرآیااس کوامن ملا اوراللہ کاحق ہے لوگوں پرحج کرنااس گھرکاجوشخص قدرت رکھتا ہواس کی طرف راہ چلنے کی اورجونہ مانے توپھراللہ پروانہیں رکھتاجہان کے لوگوں کی۔ ( تفسیرعثمانی:238)
مذکورہ آیات سے جہاں ہمیں حج کی فرضیت معلوم ہوتی ہے وہیں ہمیں بیت اللہ کی دیگرخصوصیات کابھی علم ہوتاہے جوکہ اس طرح ہے:(1)دنیاکاسب سے پہلاگھربیت اللہ اور اس کی برکتیں۔(2)مقام ابراہیم(3)بیت اللہ کامامون ہونا۔(4)صاحب استطاعت پرحج کافرض ہونا۔(5)حج نہ کرنے والے پراللہ کی وعید۔
(1)دنیاکاسب سے پہلاگھربیت اللہ اوراس کے برکات وخصوصیات:پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طورپریہ بیان فرمایاہے کہ انسانوں کے لیے جوسب سے پہلاگھرمکہ میں بنایاگیایہ وہی بیت اللہ ہے جوکہ بابرکت گھرہے اوردنیاوالوں کے لیے ہدایت کاذریعہ ہے۔مفسرین نے مندرجہ بالاآیت کے ضمن میں تحریرکیاہے کہ کعبۃ اللہ کے دنیامیں پہلاگھرہونے کی دوحیثیت ہے ایک تویہ کہ روئے زمین پرتعمیر کیا جانے والاپہلاگھرہی کعبۃ اللہ ہے،یعنی اس سے پہلے کوئی اورعمارت تعمیرہی نہیں کی گئی جیساکہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ،مفسرقرآن مجاہد وقتادہؓاورسدی وغیرہ صحابہ وتابعین کی یہی رائے ہے،یایہ کہ رہنے سہنے کے لیے تواورمکانات بنائے گئے ہوں،لیکن عبادت کے لیے سب سے پہلے کعبۃ اللہ کی تعمیرکی گئی ہوجیساکہ حضرت علیؓ کی رائے ہے۔(معارف القرآن:1/114)روایتوں سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت آدم و حواعلیہماالسلام کے روئے زمین پرآنے کے بعدحضرت جبرئیل علیہ السلام کی نشاندہی پرحضرت آدم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیرکی جوکہ طوفان نوح تک برقراررہی۔
(2)مقام ابراہیمؑ :بیت اللہ کی اہم نشانیوں میں سے ایک نشانی مقام ابراہیم ہے،روایتوں میںآتاہے کہ جس پتھرپہ کھڑے ہوکرآپ بیت اللہ کی دیوارکی تعمیرکررہے تھے وہ پتھرمعجزاتی طور پرجیسے جیسے دیواراونچی ہوتی تھی آپ کواونچااٹھانے کے لیے پتھربھی خودبخودحسب ضرورت اونچا ہوجاتا اورپھراترنے کے وقت خودبخودنیچے آجاتااورنرم ایساکہ کھڑے ہونے کی وجہ سے آپ کے نقش قدم کواس نے اپنے سینے پر اتار لیا جوکہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے،جس کامذکورہ آیت میں تذکرہ ہے۔
(3)بیت اللہ کامامون ہونا:بیت اللہ کی دوسری اہم خصوصیات میں ایک خصوصیت اس کامامون ہونا ہے۔ اس کی ایک توشرعی حیثیت ہے کہ اللہ کاحکم ہے کہ جوشخص حرم میں داخل ہوجائے اسے نہ مارونہ ستاؤ، اگر کوئی شخص کسی کاقتل کرکے حرم میں داخل ہوجائے تواس سے اس وقت تک درگذرکیاجائے گاجب تک کہ وہ باہرنہ آجائے،یاپھراسے باہرآنے کے لیے مجبورکیاجائے گالیکن حرم کے اندراس سے کسی قسم کاتعرض نہ کیاجائے گا۔اسی طرح حرم کامامون ومحفوظ ہونااس طورپربھی ہے کہ تکوینی طورپراللہ نے ہرقوم وملت کے دل میں حرم کی عظمت ڈال دی ہے تاکہ وہ حرم کے اندرلڑائی جھگڑانہ کریں،زمانۂ جاہلیت میں ہزار خرابیوں کے باوجودہرشخص کے دل میں بیت اللہ کی عظمت تھی اوروہ بیت اللہ میں داخل ہونے والے کسی شخص سے تعرض نہیں کرتے تھے،صرف فتح مکہ کے موقع پراللہ نے چندگھنٹوں کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوبتقاضائے مصلحت قتال کی اجازت دی تھی،کیوں کہ اس موقع کاتقاضابھی یہی تھا،اورپھراس کے بعد قیامت تک کے لیے حرم میں قتل وخون کوحرام کردیاگیا۔
(4)صاحب استطاعت پرحج فرض ہونا:آیت میں بیت اللہ کی تیسری اوراہم خصوصیت یہ بیان کی گئی ہے کہ ہروہ شخص جوبیت اللہ تک آنے کی استطاعت رکھتاہے اس پرزندگی میں ایک باربیت اللہ کاحج فرض ہے۔حج کے فرضیت پرقرآن کی متعددآیتیں اوراحادیث واردہوئی ہیں،جن میں حج کی اہمیت وفضیلت کو بیان کیاگیاہے۔اورساتھ ہی حج میں تاخیرکرنے والوں کے لیے وعیدیں بھی بیان کی گئی ہیں جیساکہ اسی آیت کے اگلے ٹکڑے میںیہ بات آرہی ہے۔جب انسان پرشرعی طورپرحج فرض ہوجائے تب چاہیے کہ وہ جلدازجلداپنایہ فریضہ پوراکرے،اس میں تاخیریاحیلہ بہانہ سخت گناہ ہے۔انسان کی زندگی کاکوئی بھروسہ نہیں،نہ جانے اگلے حج تک وہ زندہ رہے گابھی یانہیں؟اگراس دوران اس کی موت ہوجاتی ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق یاتووہ نصرانی ہوکرمرا،یایہودی ہوکر،اللہ کیاوعیدہے حج میں تاخیرکرنے والوں پر!!!حج کی اہمیت وفضیلت سے متعلق یہاں چنداحادیث کوبیان کیاجارہا ہے پڑھیں اورغورکریں کہ آج کل کے اہل ثروت حضرات کس قدرخوا ب غفلت میں پڑے ہیں،ساری سہولتیں اورآسانیاں میسرہونے کے بعدحج میں تاخیرکرتے رہتے ہیں،اوراس وقت کاانتظارکرتے ہیں جب کہ وہ بوڑھے ہوجائیں،قویٰ کمزورہوجائے ،یادرکھیں!حج جوانی کی عبادت ہے،اورپھرجب فرض ہوگیاتوپھردیرکس بات کی؟ملاحظہ ہواحادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پھر عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کونسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ پھر عرض کیا گیا کہ اس کے بعد کونسا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج مقبول۔ (بخاری ومسلم)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فریضۂ حج ادا کرنے میں جلدی کرو کیونکہ کسی کو نہیں معلوم کہ اسے کیا عذر پیش آجائے۔ (مسند احمد)حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہے (یعنی جس پر حج فرض ہوگیا ہے) اس کو جلدی کرنی چاہئے۔ (ابو داؤد)حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کسی ضروری حاجت یا ظالم بادشاہ یا مرض شدید نے حج سے نہیں روکا، اور اس نے حج نہیں کیا اور مرگیا تو وہ چاہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے۔ (الدارمی) (یعنی یہ شخص یہود ونصاری کے مشابہ ہے)۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ کچھ آدمیوں کو شہر بھیج کر تحقیق کراؤں کہ جن لوگوں کو حج کی طاقت ہے اور انھوں نے حج نہیں کیا ،تاکہ ان پر جزیہ مقرر کردیا جائے۔ ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں، ایسے لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ (سعید نے اپنی سنن میں روایت کیا)حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا کہ جس نے قدرت کے باوجود حج نہیں کیا، اس کے لئے برابر ہے کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا عیسائی ہوکر۔ (سعید نے اپنی سنن میں روایت کیا ) غور فرمائیں کہ کس قدر سخت وعیدیں ہیں ان لوگوں کے لئے جن پر حج فرض ہوگیا ہے، لیکن دنیاوی اغراض یا سستی کی وجہ سے بلاشرعی مجبوری کے حج ادا نہیں کرتے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے محض اللہ کی خوشنودی کے لئے حج کیا اور اس دوران کوئی بیہودہ بات یا گناہ نہیں کیا تووہ (پاک ہوکر)ایسا لوٹتا ہے جیسا ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے روز(پاک تھا)(بخاری و مسلم) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو دونوں عمروں کے درمیان سرزد ہوں۔ اور حج مبرور کا بدلہ تو جنت ہی ہے۔ (بخاری ومسلم)حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پے درپے حج اور عمرے کیا کرو۔ بے شک یہ دونوں (حج اور عمرہ) فقر یعنی غریبی اور گناہوں کو اس طرح دور کردیتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔ (ابن ماجہ) ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہمیں معلوم ہے کہ جہاد سب سے افضل عمل ہے، کیا ہم جہاد نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں (عورتوں کے لئے) عمدہ ترین جہاد حج مبرور ہے۔ (بخاری)ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا عورتوں پر بھی جہاد (فرض) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان پر ایسا جہاد فرض ہے جس میں خوں ریزی نہیں ہے اور وہ حج مبرور ہے۔ (ابن ماجہ)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حج کو جائے اور راستہ میں انتقال کرجائے، اس کے لئے قیامت تک حج کا ثواب لکھا جائے گا۔ اور جو شخص عمرہ کے لئے جائے اور راستہ میں انتقال کرجائے، تو اس کو قیامت تک عمرہ کا ثواب ملتا رہے گا۔ اور جو شخص جہاد کے لئے نکلے اور راستہ میں انتقال کرجائے، تو اس کے لئے قیامت تک جہاد کا ثواب لکھا جائیگا۔ (ابن ماجہ)
(5)حج نہ کرنے والے پراللہ کی وعید:حج کی فرضیت کاصراحۃً انکارکرنے والاتوکافرہے،اس پرسبھی متفق ہیں۔مفسرقرآن مفتی اعظم مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس کویوں بیان کیاہے:"اس میں وہ شخص تو داخل ہی ہے جوصراحۃً فریضہ حج کامنکرہو،اس کادائرۂ اسلام سے خارج اورکافرہوناتوظاہرہے،اس لیے "ومن کفر"کالفظ اس پرصراحۃً صادق ہے،اورجوشخص عقیدہ کے طورپرفرض سمجھتاہے ،لیکن باوجوداستطاعت و قدرت کے حج نہیں کرتا،وہ بھی ایک حیثیت سے منکرہی ہے،اس پرلفظ "ومن کفر"کااطلاق تہدید اور تاکید کے لیے ہے،یہ شخص کافروں جیسے عمل میں مبتلاہے،جیسے کافرومنکرحج نہیں کرتے،یہ بھی ایساہی ہے،اسی لیے فقہاء رحمہم اللہ نے فرمایاکہ آیت کے اس جملہ میں ان لوگوں کے لیے سخت وعیدہے جوباوجودقدرت واستطاعت کے حج نہیں کرتے کہ وہ اپنے اس عمل سے کافروں کی طرح ہوگئے۔ العیاذباللہ۔ (معارف: 2/122)
الغرض!حج ایک ایسافریضہ ہے جوہرصاحب حیثیت شخص پرزندگی میں ایک بارفرض ہے،مندرجہ بالاآیات وروایات کی روشنی میںیہ بات واضح ہوچکی ہے کہ فریضۂ حج کی ادائے گی میں جلدی کرنی چاہیے،حیلہ اوربہانہ کرکے تاخیرنہیں کرنی چاہیے نہ جانے کب زندگی کی شام ہوجائے اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی روشنی میں اس کا حشر یہود ونصاریٰ کے ساتھ ہو۔اللہ ہم سبھوں کوحج مبرورکی توفیق عطافرمائے۔آمین

بشکریہ۔۔۔

gsqasmi99[@]gmail.com
موبائل : 00966532883253
چیف ایڈیٹر : بصیرت آن لائن ڈاٹ کام ، ریاض ، سعودی عرب

    غفران ساجد قاسمی

Post Top Ad

loading...