تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعرات، 3 اکتوبر، 2013

دلنشین اور آسان ترین ترجمہ قرآن


 رمضان کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے، وه مسلمان جو سارا سال اس انداز سے گزارتا ہے کہ اسے الله تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کا خیال تک نہیں آتا مگر رمضان کا چاند نظر آتے ہی ایک سماں بندھ جاتا ہے۔ وہ بھی اپنے دین و ایمان کی فکر کرتا نظر آتا ہے. لوگ وہ سبق جو وہ دن رات کے جھمیلوں ،   پریشانیوں میں کہیں بھول بسار گئے ہوتے ہیں اس کو دوہراتے ہیں، تجدید عہد کرتے ہیں، ہر شخص اپنی ہمت و استعداد کے مطابق رمضان کی برکات سے    مستفید ہوتا ہے، نماز، روزہ، صدقہ کے اہتمام کے علاوہ اس مہینہ میں لوگوں کا قرآن کے ساتھ بھی تعلق بڑھ جاتا ہے، بہت سے لوگ ترجمہ و تفسیر پڑھ   کر اسکے پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ، کئی دوست اس سلسلے میں مشورہ بھی لیتے رہتے ہیں کہ کوئی ایسا ترجمہ بتائیں جو مستند بھی ہو اورہمیں آسانی  سے سمجھ بھی آجائے۔ کچھ عرصے پہلے اس سلسلے میں تھوڑی الجھن ہوتی تھی کہ قرآن کریم کا کونسا ترجمہ تجویز کیاجائے؟ کوئی ایسی مختصر اور آسان تشریح        ہو جو قرآن کا بنیادی پیغام ان کے دل میں اُتار دےاور ضعیف روایات اور فقہی اختلافات سے ہٹ کر مستند بات اور قول مختار ان کے ذہن نشین  ہوجائے؟ الجھن کی وجہ یہی تھی کہ ہمارے ہاں قرآن کے رائج اردو تراجم میں عموما مترجم کا انداز خالص علمی اور فقہی ہوتاہے ،پیش کردہ ترجمۂ قرآن "عربک اردو" یا "پرشین اردو" میں ہوتا اور سامعین "اینگلو اردو" کے عادی ہوتے ہیں ، مزید علماء حضرات ترجمہ میں فارسی اور عربی کے عالمانہ الفاظ اور خوبصورت ترکیبیں بلا تکلف استعمال کرتے ہیں اور یہ سب عموما ایک غیر عالم ،جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے لوگوں یا ایسے لوگوں کے لیے جنکا دینی علوم اور کتابوں سے قریبی تعلق نہ ہو ' سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے، بہت سے لوگ جو قرآن کے ترجمہ اور پیغام کو اپنے طور پر پڑھنے سمجھنے سے قاصر ہیں شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی ہے ۔ اکابر علماء کے تو تراجم علم و ادب کے اعلی معیار پر ہیں، ان کا انداز تحقیق اور اسلوب بیان محتاج بیان بھی نہیں ، لیکن ہماری قوم ان کو نہیں سمجھ سکی، ہمارے ہاں اردو زبان میں چند سال پہلے تک ایسا ترجمہ و تشریح دستیاب نہ تھی جو ایک طرف تو علمی و تحقیقی اعتبار سے مستند ہو، دوسری طرف اس کی زبان اتنی آسان اور معیاری ہو کہ کم پڑھے لکھے افراد اور جدید تعلیم یافتہ ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والے سب کیلئے یکساں طور پر مفید اور کار آمد ہو۔ علم و ادب کے امتزاج کی سب سے زیادہ جس موضوع کو ضرورت تھی، اس کی طرف اتنی ہی کم توجہ کی جارہی تھی اس لیے ہم اپنے حلقے میں ترجمہ کے لیے مولانا فتح محمد جالندھری رحمہ اللہ کے ترجمہ قرآن کی پڑھنے کا کہہ دیتے تھے اور تفسیر کے لیے تفسیر عثمانی اور تفسیر معارف القرآن کی طرف رجوع کرنے کا کہتے۔ مولانا فتح محمد جالندھری صاحب کا ترجمہ وہی ہے جو مارکیٹ میں شیخ عبدلارحمن السدیس اور شیخ عبدالباسط کے اردو ترجمہ والے قرآن کی کیسٹ اور سی ڈیز میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔۔ چند سال پہلے عصر حاضر کی ایک عبقری صفت اور نابغہ روزگار شخصیت جسٹس (ر) مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے قرآن کے تراجم پر کام شروع کیا ، اس سلسلے کی آپ کی پہلی کاوش آپ کا انگریزی میں ترجمہ قرآن کریم تھا جو تین سال قبل چھپ کر منظر عام پر آیا۔ یہ ایک ایسی ضرورت تھی جو مسلمانوں اور انگریزوں کے ایک دوسرے سے متعارف ہونے سے لے کر آج تک پوری نہ ہوئی تھی۔ اس سے پہلے انگریزی میں جو تراجم موجود تھے وہ کسی ایسے عالم کی کاوشوں کا نتیجہ نہ تھے جو علومِ دینیہ میں رسوخ کے ساتھ انگریزی زبان پر بھی براہِ راست اور بذاتِ خود عبور رکھتا ہو۔ وہ یا تو غیر مسلموں کے تھے یا نو مسلموں کے، یا پھر ایسے اہلِ اسلام کے جو علومِ عربیت اور علومِ دینیہ پر اتنی گہری نظر نہ رکھتے تھے جو اس نازک علمی کام کیلئے اور پھر اس کام کے معیار و مستند ہونے کیلئے درکار ہوتی ہے ۔ اس کے بعد آپ نے بہت سے لوگوں کے مطالبہ اور خود اردو زبان میں موجود تراجم کی اس کمی کو محسو س کرتے ہوئے قرآن کریم کا اردو ترجمہ لکھنا شروع کیا جو حال ہی میں "آسان ترجمۂ قرآن" کے نام سے چھپ کر سامنے آیا۔


تراجم کی سافٹ کاپی :۔

ڈائریکیٹ ڈاؤنلوڈ لنکس ہیں، رائٹ کلک کرکے سیو ایز کرنے سے ڈاؤنلوڈ سٹارٹ ہوجائیگی۔


سکین کاپی تینوں جلدیں
Read Online
Download
Volume 1 [14] Volume 2 [13] Volume 3 [15]i


کمپیوٹرکاپی
[Download 7mb]

آن لائن منگوانے کا طریقہ :۔ 


ہندوستان مارکیٹ  میں دونوں تراجم ہر اچھے اسلامی کتب خانہ سے باره سو سے لے كر دو ہزار تک میں  ہدیہ کرائے جاسکتے  ہیں،  جو دوست فارن کنٹری میں رہائش پذیر ہیں اور  وہ  آن لائن منگوانا چاہیں تو  وہ  امریکہ سے چلنے والے اس معروف ادارہ کی سائیٹ سے انگلش ترجمہ   یہاں سے اور اردو یہاں  سے ہدیہ کراسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی دوسرے بہت سے مشہور آئن لائن اسلامک بک سٹورز پر یہ ترجمہ دستیاب ہے۔

Post Top Ad

loading...