Header Ads

قربانی کے واجب ہونے کی چند اہم صورتیں

س… میرے پاس کوئی پونجی نہیں ہے، اگر بقرعید کے تین دنوں میں کسی دن بھی میرے پاس۲۶۲۵ (دو ہزار چھ سو پچّیس) روپے آجائیں تو کیا مجھ پر قربانی کرنا واجب ہوگی؟ (آج کل ساڑھے ۵۲ تولے چاندی کے دام بحساب پچاس روپے فی تولہ ۲۶۲۵ روپے بنتے ہیں)۔
ج… جی ہاں! اس صورت میں قربانی واجب ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ زکوٰة اور قربانی کے درمیان کیا فرق ہے؟ سو واضح رہے کہ زکوٰة بھی صاحبِ نصاب پر واجب ہوگی ہے، اور قربانی بھی صاحبِ نصاب ہی پر واجب ہے، مگر دونوں کے درمیان دو وجہ سے فرق ہے۔ ایک یہ کہ زکوٰة کے واجب ہونے کے لئے شرط ہے کہ نصاب پر سال گزر گیا ہو، جب تک سال پورا نہیں ہوگا زکوٰة واجب نہیں ہوگی۔ لیکن قربانی کے واجب ہونے کے لئے سال کا گزرنا کوئی شرط نہیں بلکہ اگر کوئی شخص عین قربانی کے دن صاحبِ نصاب ہوگیا تو اس پر قربانی واجب ہے، جبکہ زکوٰة سال کے بعد واجب ہوگی۔

          دُوسرا فرق یہ ہے کہ زکوٰة کے واجب ہونے کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ نصاب ”نامی“ (بڑھنے والا) ہو، شریعت کی اصطلاح میں سونا، چاندی، نقد روپیہ، مالِ تجارت اور چرنے والے جانور ”مالِ نامی“ کہلاتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نصاب کے برابر ہو اور اس پر سال بھی گزر جائے تو اس پر زکوٰة واجب ہوگی، مگر قربانی کے لئے مال کا ”نامی“ ہونا بھی شرط نہیں۔ مثال کے طور پر کسی کے پاس اپنی زمین کا غلہ اس کی ضروریات سے زائد ہے اور زائد ضرورت کی قیمت ۲۶۲۵روپے کے برابر ہے، چونکہ یہ غلہ مالِ نامی نہیں اس لئے اس پر زکوٰة واجب نہیں، چاہے سال بھر پڑا رہے، لیکن اس پر قربانی واجب ہے۔
س… میری دو بیٹیوں کے پاس پندرہ سولہ سال کی عمر سے دو تولے سونے کے زیور ہیں، وہ اس کی مالک ہیں، وہ ہماری زیرِ کفالت ہیں، ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ ہم ان کی طرف سے قربانی کرسکیں، کیا ان بیٹیوں پر قربانی واجب ہے؟ اگر فرض ہے تو وہ قربانی کس طرح کریں جبکہ ان کے پاس نقد پیسے نہیں؟ واضح رہے کہ دو تولے زیور کے دام تقریباً سات ہزار روپے بنتے ہیں۔
ج… اگر ان کے پاس کچھ روپیہ پیسہ بھی رہتا ہے تو وہ صاحبِ نصاب ہیں، اور ان پر زکوٰة اور قربانی دونوں واجب ہیں، اور اگر روپیہ پیسہ نہیں رہتا تو وہ صاحبِ نصاب نہیں اور ان پر زکوٰة اور قربانی بھی واجب نہیں۔
س… ہماری شادی کو ۴۱ سال ہوگئے، لیکن میری بیوی نے صرف دو بار قربانی کی، کیونکہ میرے پاس اس کی طرف سے قربانی کرنے کے پیسے نہیں تھے۔ لیکن اس کے پاس اس تمام مدّت میں کم و بیش تین چار تولے سونے کے زیور رہے ہیں۔ کیا میری بیوی پر اس تمام مدّت میں ہر سال قربانی فرض تھی؟ کیونکہ اس تمام مدّت میں ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت بہرحال تین چار تولے سونے سے کم رہی۔ اگر فرض تھی تو کیا ۳۹ سال کی قربانی اس کے ذمے واجب الادا ہیں؟ اگر ایسا ہے تو وہ اس سے کیسے عہدبرآ ہو؟ واضح رہے کہ ہم لوگ ہمیشہ اس خیال میں رہے کہ قربانی اس پر واجب ہے جس کے پاس کم از کم ساڑھے سات تولے سونا ہو۔ (نوٹ ابھی کچھ زمانہ پہلے تک خالص چاندی کا روپیہ ہوتا تھا جس کا وزن ٹھیک ایک تولہ ہوتا تھا، جس کے پاس ۵۲ روپے اور ایک اٹھنی ہوتی وہ بتوفیقِ الٰہی تین چار روپے کی بھیڑ بکری لاکر قربانی کردیتا تھا، آج کل کے گرام اور ہوشربا نرخوں نے یہ مسائل عوام کے لئے مشکل بنادئیے ہیں)۔
ج… یہاں بھی وہی اُوپر والا مسئلہ ہے، اگر آپ کی اہلیہ کے پاس زیور کے علاوہ کچھ روپیہ پیسہ بھی بطور ملک رہتا تھا تو قربانی واجب تھی اور زکوٰة بھی، جس کے ذمہ قربانی واجب ہو اور وہ نہ کرے تو اتنی رقم صدقہ کرنے کا حکم ہے۔
س… میری ایک شادی شدہ بیٹی جس کے پاس پندرہ سال کی عمر سے دو تین تولے سونے کا زیور رہا ہے اور شادی کے بعد اور زیادہ ہی ہے۔ اس کی طرف سے نہ میں نے کبھی قربانی کی، نہ اس نے خود کی، اور نہ شوہر اس کی طرف سے کرتا ہے، ایسے میں کیا میری اس بیٹی پر پندرہ سال کی عمر سے قربانی فرض ہے اور وہ بھی تمام سالوں کی قربانیاں ادا کرے؟
ج… اُوپر کا مسئلہ من و عن یہاں بھی جاری ہے۔
س… چند ایسے لوگ ہیں جن کے پاس نہ ۲۶۲۵روپے ہیں، نہ سونا ہے، نہ چاندی ہے، لیکن ان کے پاس ٹی وی ہے، جس کے دام تقریباً دس ہزار روپے ہیں، ایسے لوگوں پر قربانی فرض ہے کہ نہیں؟
ج… ٹی وی ضروریات میں داخل نہیں، بلکہ لغویات میں شامل ہے۔ جس کے پاس ٹی وی ہو اس پر صدقہٴ فطر اور قربانی واجب ہے، اور اس کو زکوٰة لینا جائز نہیں۔
س… میں زیادہ تر مقروض رہا، اس لئے میں نے بہت کم قربانی کی ہے، جبکہ میرے اور اخراجات ایسے ہیں کہ میں ان میں تھوڑا بہت رَدّ و بدل کرکے قربانی کرسکتا ہوں۔ قرض اپنی جگہ پر ہے جس کو رفتہ رفتہ ادا کرتا رہتا ہوں، تو کیا میرا ایسی حالت مین قربانی کرنا صحیح ہوگا؟
ج… ان حالات میں یہ تو ظاہر ہے کہ قربانی آپ پر واجب نہیں، رہا یہ کہ قربانی کرنا صحیح بھی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر آپ کے حالات ایسے ہیں کہ آپ اس قرضہ کو بہ سہولت ادا کرسکتے ہیں تو قرض لے کر قربانی کرنا جائز بلکہ بہتر ہے، ورنہ نہیں کرنی چاہئے۔
س… سنا ہے کہ نابالغ بچوں پر قربانی فرض نہیں، میرا ایک نابالغ نواسہ میرے ساتھ رہتا ہے، کیا میں اس کی طرف سے قربانی کرسکتا ہوں؟ قربانی صحیح ہوگی؟
ج… اگر آپ کے ذمہ قربانی واجب ہے تو پہلے اپنی طرف سے کیجئے، اس کے بعد اگر گنجائش ہو تو نابالغ نواسے کی طرف سے بھی کرسکتے ہیں، مگر نابالغ کے بجائے اپنے مرحوم بزرگوں کی طرف کرنا بہتر ہوگا۔
س… میرا ایک شادی شدہ بیٹا عرب میں رہتا ہے، اس نے نہ ہم کو قربانی کرنے کے لئے لکھا اور نہ قربانی کے لئے پیسے بھیجے، لیکن ہم والدین نے اس کی محبت میں اس کی طرف سے بکرا قربان کردیا، یہ قربانی صحیح ہوئی یا غلط؟
ج… نفلی قربانی ہوگئی، لیکن واجب قربانی اس کے ذمہ رہے گی۔
س…یا بجائے بکرے کے اس بیٹے کی طرف سے اس کی بے خبری میں گائے میں ایک حصہ لے لیا، کیا اس کی طرف سے اس طرح حصہ لینا صحیح ہوا؟ اگر غلط ہوا تو گائے کے باقی حصہ داروں کی قربانی صحیح ہوئی یا غلط؟
ج… چونکہ نفلی قربانی ہوجائے گی، اس لئے گائے میں حصہ لینا صحیح ہے۔
عورت اگر صاحبِ نصاب ہو تو اس پر قربانی واجب ہے
س… کیا عورت کو اپنی قربانی خود کرنی چاہئے یا شوہر کرے؟ اکثر شوہر حضرات بہت سخت ہوتے ہیں، اپنی بیویوں پر ظلم کرتے ہیں اور انہیں تنگ دست رکھتے ہیں، ایسی صورت میں شرعی مسئلہ بتائیے۔
ج… عورت اگر خود صاحبِ نصاب ہو تو اس پر قربانی واجب ہے، ورنہ مرد کے ذمہ بیوی کی طرف سے قربانی کرنا ضروری نہیں، گنجائش ہو تو کردے۔
برسرِ روزگار صاحبِ نصاب لڑکے، لڑکی سب پر قربانی واجب ہے چاہے ابھی ان کی شادی نہ ہوئی ہو
س… والد محترم اچھے عہدے پر فائز ہیں، پہلی بیوی سے ماشاء اللہ سے پانچ بہن بھائی ہیں، جس میں تین لڑکیاں بھی ہیں، جبکہ دونوں جوان بھائی اور ایک بہن برسرِ ملازمت ہیں۔ سوتیلی ماں کی دو چھوٹی بچیاں ہیں جو اسی گھر میں الگ الگ کمرے میں رہتی ہیں۔ والد محترم نے دو بکروں کی قربانی کی اور دونوں بیٹے، ایک بیٹی نے گائے میں حصہ لیا جو کہ تینوں غیرشادی شدہ ہیں، اپنی کمائی سے انہوں نے گائے میں حصہ لیا تھا جبکہ دونوں نوجوان بھائی کما رہے ہیں اور والد بھی اچھی خاصی انکم لا رہے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ ہونے کے باوجود غیرشادی شدہ لڑکی کا قربانی کرنا جائز ہے؟ باپ بیٹے اور بیٹی سب نے مل کر پانچ قربانیاں کی ہیں، کیا ایک گھر میں پانچ قربانی کرنا جائز ہے؟
ج… اگر باپ، بیٹے اور بیٹیاں سب برسرِ روزگار اور صاحبِ نصاب ہیں تو ہر ایک کے ذمہ الگ الگ قربانی واجب ہے، اس لئے گھر میں اگر پانچ قربانیاں ہوئیں تو ٹھیک ہوا۔ کیونکہ ہر عاقل بالغ مرد عورت پر مالکِ نصاب ہونے کی صورت میں قربانی واجب ہے، چاہے وہ شادی شدہ ہو یا غیرشادی شدہ۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.