تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعرات، 26 ستمبر، 2013

چند غلطیوں کی اصلاح

          ۱:… بعض لوگ یہ کوتاہی کرتے ہیں کہ طاقت نہ ہونے کے باوجود شرم کی وجہ سے قربانی کرتے ہیں کہ لوگ یہ کہیں گے کہ انہوں نے قربانی نہیں کی، محض دِکھاوے کے لئے قربانی کرنا دُرست نہیں، جس سے واجب حقوق فوت ہوجائیں۔
          ۲:… بہت سے لوگ محض گوشت کھانے کی نیت سے قربانی کی نیت کرلیتے ہیں، اگر عبادت کی نیت نہ ہو تو ان کو ثواب نہیں ملے گا، اور اگر ایسے لوگوں نے کسی اور کے ساتھ حصہ رکھا ہو تو کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی۔
          ۳:… بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گھر میں ایک قربانی ہوجانا کافی ہے، اس لئے لوگ ایسا کرتے ہیں کہ ایک سال اپنی طرف سے قربانی کرلی، ایک سال بیوی کی طرف سے کردی، ایک سال لڑکے کی طرف سے، ایک سال لڑکی کی طرف سے، ایک سال مرحوم والد کی طرف سے، ایک سال مرحومہ والدہ کی طرف سے۔ خوب یاد رکھنا چاہئے کہ گھر کے جتنے افراد پر قربانی واجب ہو ان میں سے ہر ایک کی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔ مثلاً: میاں بیوی اگر دونوں صاحبِ نصاب ہوں تو دونوں کی طرف سے دو قربانیاں لازم ہیں، اسی طرح اگر باپ بیٹا دونوں صاحبِ نصاب ہوں تو خواہ اکٹھے رہتے ہوں مگر ہر ایک کی طرف سے الگ الگ قربانی واجب ہے۔
          بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قربانی عمر بھر میں ایک دفعہ کرلینا کافی ہے، یہ خیال بالکل غلط ہے، بلکہ جس طرح زکوٰة اور صدقہٴ فطر ہر سال واجب ہوتا ہے، اسی طرح ہر صاحبِ نصاب پر بھی قربانی ہر سال واجب ہے۔ بعض لوگ گائے یا بھینس میں حصہ رکھ لیتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں کے حصے رکھے ہیں وہ کیسے لوگ ہیں؟ یہ بڑی غلطی ہے، اگر سات حصہ داروں میں سے ایک بھی بے دین ہو یا اس نے قربانی کی نیت نہیں کی بلکہ محض گوشت کھانے کی نیت کی تو سب کی قربانی برباد ہوگئی، اس لئے حصہ ڈالتے وقت حصہ داروں کا انتخاب بڑی احتیاط سے کرنا چاہئے۔

Post Top Ad

loading...