تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعرات، 26 ستمبر، 2013

قربانی کا وقت

          ۱:… بقرعید کی دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ تک کی شام (آفتاب غروب ہونے سے پہلے) تک قربانی کا وقت ہے، ان دنوں میں جب چاہے قربانی کرسکتا ہے، لیکن پہلا دن افضل ہے، پھر گیارہویں تاریخ، پھر بارہویں تاریخ۔
          ۲:… شہر میں نمازِ عید سے پہلے قربانی کرنا دُرست نہیں، اگر کسی نے عید سے پہلے جانور ذبح کرلیا تو یہ گوشت کا جانور ہوا، قربانی نہیں ہوگی۔ البتہ دیہات میں جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی، عید کے دن صبحِ صادق طلوع ہوجانے کے بعد قربانی کرنا دُرست ہے۔
          ۳:… اگر شہری آدمی خود تو شہر میں موجود ہے، مگر قربانی کا جانور دیہات میں بھیج دے اور وہاں صبحِ صادق کے بعد قربانی ہوجائے تو دُرست ہے۔
          ۴:… ان تین دنوں کے دوران رات کے وقت قربانی کرنا بھی جائز ہے، لیکن بہتر نہیں۔
          ۵:…اگر ان تین دنوں کے اندر کوئی مسافر اپنے وطن پہنچ گیا یا اس نے کہیں اِقامت کی نیت کرلی اور وہ صاحبِ نصاب ہے تو اس کے ذمہ قربانی واجب ہوگی۔
          ۶:… جس شخص کے ذمہ قربانی واجب ہے، اس کے لئے ان دنوں میں قربانی کا جانور ذبح کرنا ہی لازم ہے، اگر اتنی رقم صدقہ خیرات کردے تو قربانی ادا نہیں ہوگی اور یہ شخص گناہ گار ہوگا۔
          ۷:… جس شخص کے ذمہ قربانی واجب تھی اور ان تین دنوں میں اس نے قربانی نہیں کی تو اس کے بعد قربانی کرنا دُرست نہیں، اس شخص کو توبہ و اِستغفار کرنی چاہئے اور قربانی کے جانور کی مالیت صدقہ خیرات کردے۔

          ۸:… ایک شخص نے قربانی کا جانور باندھ رکھا تھا، مگر کسی عذر کی بنا پر قربانی کے دنوں میں ذبح نہیں کرسکا تو اس کا اب صدقہ کردینا واجب ہے، ذبح کرکے گوشت کھانا دُرست نہیں۔
          ۹:… قربانی کا جانور خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا مستحب ہے، لیکن جو شخص ذبح کرنا نہ جانتا ہو یا کسی وجہ سے ذبح نہ کرنا چاہتا ہو اسے ذبح کرنے والے کے پاس موجود رہنا بہتر ہے۔
          ۱۰:… قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نیت کے الفاظ پڑھنا ضروری نہیں، بلکہ دِل میں نیت کرلینا کافی ہے، اور بعض دُعائیں جو حدیثِ پاک میں منقول ہیں اگر کسی کو یاد ہوں تو ان کا پڑھنا مستحب ہے۔
کسی دُوسرے کی طرف سے نیت کرنا
          ۱:… قربانی میں نیابت جائز ہے، یعنی جس شخص کے ذمہ قربانی واجب ہے اگر اس کی اجازت سے یا حکم سے دُوسرے شخص نے اس کی طرف سے قربانی کردی تو جائز ہے، لیکن اگر کسی شخص کے حکم کے بغیر اس کی طرف سے قربانی کی تو قربانی نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو اس کے حکم کے بغیر شریک کیا گیا تو کسی کی بھی قربانی جائز نہیں ہوگی۔
          ۲:… آدمی کے ذمہ اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرنا ضروری نہیں، اگر اولاد بالغ اور مال دار ہو تو خود کرے۔
          ۳:… اسی طرح مرد کے ذمہ بیوی کی جانب سے قربانی کرنا لازم نہیں، اگر بیوی صاحبِ نصاب ہو تو اس کے لئے الگ قربانی کا انتظام کیا جائے۔
          ۴:… جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہو وہ اپنی واجب قربانی کے علاوہ اپنے مرحوم والدین اور دیگر بزرگوں کی طرف سے بھی قربانی کرے، اس کا بڑا اَجر و ثواب ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے بھی ہم پر بڑے احسانات اور حقوق ہیں، اللہ تعالیٰ نے گنجائش دی ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھی قربانی کی جائے، مگر اپنی واجب قربانی لازم ہے، اس کو چھوڑنا جائز نہیں۔

Post Top Ad

loading...