تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعرات، 26 ستمبر، 2013

قربانی کا جانور اگر فروخت کردیا تو رقم کو کیا کرے؟

س… اگر کسی آدمی نے قربانی کا بکرا لیا ہو اور اس کو قربانی سے پہلے کسی وجہ سے فروخت کردے، اب وہ رقم کسی اور جگہ خرچ کرسکتا ہے؟
ج… وہ رقم صدقہ کردے اور اِستغفار کرے، اور اگر اس پر قربانی واجب تھی تو پھر دُوسرا جانور خرید کر قربانی کے دنوں میں قربانی کرے۔
سات سال مسلسل قربانی واجب ہونے کی بات غلط ہے
س… قربانی کے مسائل کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کریں کہ انسان پر کتنی قربانیاں واجب ہیں؟ کیونکہ میں نے یہ سنا ہے بلکہ عمل کرتے دیکھا ہے کہ جب کوئی آدمی قربانی دیتا ہے تو پھر اس پر لگاتار سات سال تک قربانیاں واجب ہوجاتی ہیں اور وہ سات قربانیوں کے بعد بَری الذمہ ہے، کیا یہ دُرست ہے؟
ج… جو شخص صاحبِ نصاب ہو اس پر قربانی واجب ہے، اور جو صاحبِ نصاب نہ ہو اس پر واجب نہیں۔ سات سال تک قربانی واجب ہونے کی بات بالکل غلط ہے، اگر اس سال صاحبِ نصاب ہو تو قربانی واجب ہے، اور اگلے سال صاحبِ نصاب نہ رہے تو قربانی بھی واجب نہ ہوگی۔
بقرعید پر جانور مہنگے ہونے کی وجہ سے قربانی کیسے کریں؟
س… دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسلام ہر مسئلے کا حل تلاش کرسکتا ہے، اور اسلام میں ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ جنابِ عالی! اب کچھ دنوں کی بات ہے بقرعید ہونے والی ہے، اور اس موقع پر قربانی کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، اور اس کام کے لئے تمام ذرائعِ ابلاغ استعمال ہوتے ہیں اور پھر لوگ قربانی بھی کرتے ہیں، اپنی، اپنے والدین کے نام سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر اور اپنے پیر کے نام پر وغیرہ وغیرہ۔
          رمضان میں ایک عزیز کے بچے کا عقیقہ تھا، ان کے ساتھ بکرے خریدنے گیا تو ایک ایک بکرا۱۲۰۰ روپے کا ملا، پھر ابھی پچھلے ہفتے تقریباً بکرے ۱۵۰۰ اور ۱۶۰۰ روپے کے خرید کئے گئے، وجہ گرانیٴ قیمت بقرعید کی آمد، بقول فروخت کرنے والے کے بقرعید آرہی ہے، دام بڑھ گئے۔
          کہا جاتا ہے کہ موقع سے فائدہ اُٹھانا، دام بڑھادینا اور اس خیال سے مال روک لینا کہ کل قیمت بڑھ جائے گی، ان سب کو اسلام جائز قرار نہیں دیتا، اور ایسے تاجروں پر اللہ کی لعنت، اور پھر یہ کہ ظالم سے جنگ کرو یہاں تک کہ وہ ظلم سے ہاتھ روک لے، وغیرہ وغیرہ۔
          اب سوال یہ ہے کہ ظلم سے کیونکر بچا جائے؟ ہم میں سے کون کس کے خلاف جنگ کرے اور کیونکر؟ کیا ہم جانور کی قربانی نہ کریں اور اگر نہ کریں تو پھر کیا کریں؟ میں ذاتی طور پر گمان کرتا ہوں کہ اگر تمام علماء مل کر یہ اعلان کریں کہ چونکہ بقرعید پر تاجر دام بڑھادیتا ہے اس لئے اب اس سال جانور کی قربانی نہ ہو، بلکہ کچھ اور۔ اگر ایسا ہوگیا تو آج اگر نہیں تو کل قیمت کم ضرور ہوگی، ورنہ ہم اور آپ سب قربانی کی فرضیت کے نام پر ظالم کو اور طاقت ور کریں گے، یہ مسئلہ متوسط شہری آبادی کے لاکھوں افراد کا ہے۔
          مولانا صاحب! اس کا جواب مکمل بذریعہ اخبار بہتر ہوگا، کیونکہ اگر فرض، کراہیت سے ادا ہو تو پھر بات بنتی نہیں، بلکہ بگڑتی ہے۔
ج… قربانی صاحبِ استطاعت لوگوں پر واجب ہے، اور واجباتِ شرعیہ کو اُٹھادینے یا موقوف و منسوخ کردینے کا اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے، علمائے کرام کو یہ اختیار حاصل نہیں۔ اس لئے آپ علماء سے جو اعلان کروانا چاہتے ہیں یہ دین میں ترمیم و تحریف کا مشورہ ہے، دین میں ترمیم و تحریف حرام اور گناہِ عظیم ہے اور اس کا مشورہ دینا بھی اتنا ہی بڑا گناہ ہے۔
          جہاں تک قیمتوں کے اعتدال پر رکھنے کا سوال ہے، اس کے لئے دُوسری تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں اور ضرور کرنی چاہئیں، اور جن لوگوں کے پاس مہنگے جانور خریدنے کی گنجائش نہیں ان پر قربانی واجب نہیں، وہ نہ کریں، مگر اس کا یہ علاج نہیں کہ اس سال قربانی ہی کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا جائے۔

Post Top Ad

loading...