Header Ads

قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے

س… قربانی کے بارے میں علماء سے تقریروں میں سنا ہے کہ سنتِ ابراہیمی ہے، ایک مولوی صاحب نے دورانِ تقریر فرمایا کہ سنتِ نبوی ہے، لہٰذا اس سنت پر حتی الوسع عمل کی کوشش کرنی چاہئے نہ کہ گوشت کھانے کا ارادہ، ایک آدمی مجمع سے اُٹھا اور اس نے کہا: مولوی صاحب! سنتِ ابراہیمی ہے، ہمارے نبی کی سنت نہیں ہے۔ مولوی صاحب نے فرمایا: واقعی سنتِ ابراہیمی ہے، مگر ہم کو سنتِ نبوی سمجھ کر قربانی کرنی چاہئے۔ آدمی نے کہا: آپ غلط مسئلہ بتارہے ہیں۔ آدھ گھنٹے کی بحث کے باوجود وہ شخص قائل نہیں ہوا۔ براہِ کرم اس مسئلے پر روشنی ڈال کر ہمیں اندھیرے سے نکالیں۔
ج… لغو بحث تھی، قربانی ابراہیم علیہ السلام کی سنت تو ہے ہی، جب ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عمل فرمایا، اور اس کا حکم دیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ہوئی، دونوں میں کوئی تعارض یا تضاد تو ہے نہیں۔
قربانی کی شرعی حیثیت
س… قربانی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
ج… ایک اہم عبادت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے، زمانہٴ جاہلیت میں بھی اس کو عبادت سمجھا جاتا تھا، مگر بتوں کے نام پر قربانی کرتے تھے، اسی طرح آج تک بھی دُوسرے مذاہب میں ”قربانی“ مذہبی رسم کے طور پر ادا کی جاتی ہے، مشرکین اور عیسائی بتوں کے نام پر یا مسیح کے نام پر قربانی کرتے ہیں۔ سورہٴ کوثر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ جس طرح نماز اللہ کے سوا کسی کی نہیں ہوسکتی، قربانی بھی اسی کے نام پر ہونی چاہئے۔ دُوسری ایک آیت میں اسی مفہوم کو دُوسرے عنوان سے بیان فرمایا ہے: ”بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لئے ہیں، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔“
          رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد ہجرت دس سال مدینہ طیبہ میں قیام فرمایا، ہر سال برابر قربانی کرتے تھے (ترمذی)۔ جس سے معلوم ہوا کہ قربانی صرف مکہ معظمہ میں حج کے موقع پر واجب نہیں بلکہ ہر شخص پر، ہر شہر میں واجب ہوگی، بشرطیکہ شریعت نے قربانی کے واجب ہونے کے لئے جو شرائط اور قیود بیان کی ہیں وہ پائی جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو اس کی تاکید فرماتے تھے، اسی لئے جمہور علمائے اسلام کے نزدیک قربانی واجب ہے۔                           (شامی)
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.