Header Ads

قربانی کی کھالوں کے مصارف

چرمہائے قربانی، مدارسِ عربیہ کو دینا
س… ہمارے شہر کے کسی خطیب صاحب نے کسی جمعہ میں اس مسئلے پر وضاحت فرمائی کہ مالِ زکوٰة و چرمہائے قربانی، تعمیرِ مدارس و تنخواہِ مدرّسین میں صَرف کرنا جائز نہیں۔ اس سے کافی عرصہ پہلے لوگوں میں یہ دستور تھا کہ زکوٰة یا قربانی کے چمڑے وغیرہ خاص طور پر دینی خدمت کی وجہ سے مدارسِ عربیہ میں پہنچادیتے تھے۔ اس سال قربانی کے موقع پر جب مولانا صاحب کی تقریر سنی تو انہوں نے بجائے مدارس کے، گھومنے پھرنے والے فقیروں میں یہ رقم صَرف کردی، جس کی وجہ سے ظاہری طور پر مدرسوں کو نقصان ہوا، اور عوام کو بھی یہ شبہ دِل میں جم چکا ہے کہ جب گناہ ہے تو ہم کیوں صَرف کریں؟ اس لئے خدمتِ اقدس میں گزارش ہے کہ اس مسئلے کو باقاعدہ وضاحت سے تحریر فرمادیں تاکہ شکوک رفع ہوجائیں۔
ج… خطیب صاحب نے جو مسئلہ بیان فرمایا وہ اس پہلو سے دُرست ہے کہ چرمہائے قربانی مدارس یا مساجد کی تعمیر میں اور مدارس کے مدرّسین کی تنخواہ میں صَرف کرنا جائز نہیں ہے، لیکن مدارس میں جو چرمہائے قربانی دی جاتی ہیں وہ مدارس کی تعمیر یا مدرّسین کی تنخواہوں میں صَرف نہیں کی جاتیں بلکہ علمِ دین حاصل کرنے والے غریب و نادار طلباء پر صَرف کی جاتی ہیں۔ لہٰذا مدارس میں چرمہائے قربانی کی رقم دینا بالکل جائز ہے، بلکہ موجودہ زمانے میں مدارس میں چرمہائے قربانی دینا زیادہ بہتر ہے، اس لئے کہ اس میں غریب طلباء کی امداد بھی ہے اور علمِ دین کی خدمت بھی۔
کھال کیسے ادارے کو دے سکتے ہیں؟
س… کھالوں کا سب سے بہترین مصرف ہر وہ ادارہ ہے جو کہ دین کی خدمت کر رہا ہو، جیسے کہ آج کل دینی مدارس وغیرہ، لیکن پوچھنا یہ ہے کہ آج ہر قوم والے خدمتِ خلق کے جذبہ سے جمع کرتے ہیں، تو کیا ہر آدمی اپنی برادری والوں کو دے سکتا ہے؟ اور اسی طرح دُوسرے لوگوں کو جو کہ دعویدار ہیں خدمتِ خلق کے، حالانکہ حقیقت میں ایک بھی اپنے دعوے میں سچا نہیں ہے، بلکہ ہر ایک اپنے نفس کے تقاضوں کو پورا کرنے میں اس کی رقم خرچ کرتا ہے، بتلائیے کہ کیا کریں؟ یہ بھی بتلائیں کہ کھال دیتے وقت کیا نیت کرنی چاہئے؟ اور اس کو دینے کے لئے کیا شرائط ہیں؟ اور صحیح مصرف بتلائیں؟
ج… قربانی کی کھال فروخت کردی جائے تو اس رقم کا صدقہ کرنا واجب ہے، لہٰذا قربانی کی کھال ایسے ادارے یا جماعت کو دی جائے جس کے بارے میں پورا اطمینان ہو کہ وہ صحیح مصرف پر خرچ کرے گی۔
قربانی کی کھال گوشت کی طرح ہر کسی کو دے سکتے ہیں
س… قربانی کا گوشت کسی کو بھی دے سکتے ہیں، لیکن کھال کے لئے قید کیوں ہے؟ وہ بھی گوشت کی طرح دے سکتے ہیں یا نہیں؟ اس کے لئے مستحق شخص کی پابندی کس وجہ سے ہے؟
ج… قربانی کی کھال جب تک فروخت نہیں کی گئی، اس کا حکم گوشت کا ہے، اور کسی کو بھی دے دینا جائز ہے، فروخت کے بعد اس کا صدقہ واجب ہے، وہ غریب ہی کو دے سکتے ہیں۔
امامِ مسجد کو چرمِ قربانی دینا کیسا ہے؟
س… چرمِ قربانی امامِ مسجد کو دینا جائز ہے یا نہیں؟ براہِ کرم اس مسئلے کو ذرا تفصیل سے بیان فرماکر مشکور فرمائیں۔
ج… اگر امامِ مسجد کی امامت کی تنخواہ یا وظیفہ علیحدہ مقرّر ہو اور تقرّر کے وقت اس کے ساتھ صریحاً یا اشارةً یہ بات طے نہ ہوئی ہو کہ امام کی حیثیت سے ہم آپ کو قربانی کی کھالیں بھی دیا کریں گے، اور وہ امام بھی کھالوں کو مقتدیوں پر اپنا حق نہ سمجھے، تو اس صورت میں اگر مقتدی واقعتا گوشت کے ہدیہ کی طرح کھال کا بھی ہدیہ دے دیں تو جائز ہے، لیکن اگر دونوں طرف سے نیت یہی ہو کہ یہ امامت کے عوض کے طور پر دی جارہی ہیں تو ظاہری تأویل کرکے ہدیہ نام رکھنے سے ان کو دینا جائز نہیں ہوگا۔ امامِ مسجد اگر غریب ہو اور اس کی تنخواہ اور اُجرت کی نیت کے بغیر صرف غریب یا عالم اور حافظ سمجھ کر اس کو کھالیں دی جائیں تو میری رائے میں نہ صرف یہ جائز بلکہ بہتر ہے، ایسے علماء و حفاظ اگر محتاج ہوں تو ان کی امداد کرنا سب سے بڑھ کر اَوْلیٰ ہے۔
صاحبِ حیثیت امام کو قربانی کی کھالیں اور صدقہٴ فطر دینا
س… اگر ایک امام جو صاحبِ حیثیت ہو اور تنخواہ دار بھی ہو، اور پھر عیدالفطر کا فطرانہ اور عیدالاضحی کی قربانیوں کے چمڑے کے پیسے خود مانگے اور کہے کہ اس بات کا میں خود ذمہ دار ہوں کہ مجھ پر ان چیزوں کے پیسے لگتے ہیں۔ آپ اسلام کی شرعی حیثیت سے اس مسئلے کا مفصل جواب دیں، نیز یہ بھی بتائیں کہ اس امام کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟ اگر ہوگی تو کس طرح؟ اور اگر نہ ہوگی تو کس طرح؟ وضاحت کے ساتھ جواب دیں۔
ج… امام کو بحقِ اُجرت تو صدقہٴ فطر اور قربانی کی کھالیں دینا جائز نہیں، البتہ اگر وہ نادار اور عیال دار ہونے کی وجہ سے زکوٰة کا مستحق ہے تو اپنی ناداری کی وجہ سے وہ دُوسروں سے زیادہ مستحق ہے۔ رہا یہ کہ زکوٰة کا مستحق ہے یا نہیں؟ اس بارے میں اگر اس کی بات پر اعتماد نہ ہو تو اپنی صوابدید پر عمل کیا جائے۔ اگر وہ امام نیک اور متدین ہے تو نماز اس کے پیچھے دُرست ہے۔


چرمِ قربانی یا صدقہٴ فطر اگر غریب آدمی لے کر بخوشی مسجد و مدرسہ کو دے تو جائز ہے
س… کسی غریب آدمی کو قربانی کی کھال اور صدقہٴ فطر ملا، اب اگر وہ آدمی چاہے کہ کھال اور صدقہ مسجد یا مدرسہ کو دیدے تو یہ جائز ہوگا یا ناجائز؟ کیا مسجد و مدرسہ میں اس کو تعمیر پر خرچ کیا جاسکتا ہے؟
ج… قربانی کی کھالوں یا صدقہٴ فطر کی رقم کا فقیر یا مسکین کو مالک بنانا ضروری ہے، اس لئے مسجد اور مدرسہ کی تعمیر پر اس رقم کو صَرف نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کسی مسکین یا غریب شخص کو ان اشیاء کا مالک بنایا اور وہ برضا و رغبت مسجد یا مدرسہ میں چندہ دیدے تو اَب اس رقم کی صورت تبدیل ہوگئی اور وہ قربانی کی کھالوں کی قیمت یا صدقہٴ فطر نہیں رہی، اس لئے اب وہ مسجد یا مدرسہ کی تعمیر میں دیگر چندوں کی طرح صَرف کی جاسکتی ہے۔


فلاحی کاموں کے لئے قربانی کی کھالیں جمع کرنا
س… اگر کوئی جماعت فلاحی کاموں کے نام سے قربانی کی کھالیں اور چندہ وصول کرے تو ان کو قربانی کی کھالیں اور چندہ دینا چاہئے یا نہیں؟
ج… قربانی کی کھالیں فروخت کرنے کے بعد ان کا حکم زکوٰة کی رقم کا ہے، جس کی تملیک ضروری ہے، اور بغیر تملیک کے رفاہی کاموں میں اس کا خرچ دُرست نہیں، قربانی کی کھالیں ایسے ادارے اور جماعت کو دی جائیں جو شرعی اُصولوں کے مطابق ان کو صحیح جگہ خرچ کرسکے۔

قربانی کی کھالوں کی رقم سے مسجد کی تعمیر صحیح نہیں
س… صدقہٴ فطر اور قربانی کی کھالوں کی رقم مسجد یا مدرسہ کی تعمیر پر خرچ ہوسکتی ہے یا نہیں؟
ج… زکوٰة، صدقہٴ فطر اور چرمِ قربانی کی قیمت کا کسی فقیر کو مالک بنانا ضروری ہے، مسجد یا مدرسہ کی تعمیر میں خرچ کرنا صحیح نہیں۔



اِشاعتِ کتب میں چرمِ قربانی کی رقم لگانا
س… ہم چند ساتھیوں نے مل کر ایک ادارہ بنام ”ادارہ دعوت و اصلاح“ قائم کیا ہے، جس کے قیام کا مقصد علمائے کرام کی تصنیفات و تألیفات کو عام فہم انداز میں عوام تک پہنچانا ہے، نیز بدعات و رُسوماتِ مروّجہ کی روک تھام کے لئے حضرت تھانوی اور مختلف علمائے عظام کی تحریرات کو منظرِ عام پر لانا ہے، فی الحال اشاعتوں پر اخراجات کی تمام تر ذمہ داری کارکنانِ ادارہ پر ہے۔ چند ماہ قبل بعض ساتھیوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ کیوں نہ ہم قربانی کی کھالوں سے حاصل شدہ رقوم کو ادارے کے فنڈ میں جمع کردیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ادارہ کا مقصد محض اِشاعتِ کتب ہی نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کی تعلیم و تربیت کے لئے رسائل کی خریداری، لائبریری کا قیام، نیز دُوسری دینی تنظیموں کے ساتھ معاونت بھی ہے، تو کیا ہم عزیزوں کے ہاں سے حاصل شدہ چرمِ قربانی کی رقوم کو ان مدوں میں لگاسکتے ہیں؟
ج… چرمِ قربانی سے حاصل شدہ رقوم کا حکم زکوٰة کی رقم جیسا ہے، لہٰذا مستحقین میں اس کی تملیک کرانا ضروری ہے، خواہ وہ نقد کی صورت میں ہو یا کتابوں وغیرہ کی صورت میں ہو۔ بہرحال ایسی مدوں میں لگانا جائز نہیں ہے جن میں تملیک کی صورت نہ پائی جائے۔


مسجد سے متصل دُکانوں میں چرمِ قربانی کی رقم خرچ کرنا

س… مسجد کی کمیٹی کے صدر نے لوگوں سے قربانی کی کھالیں وصول کیں اور ان کھالوں کو فروخت کردیا، بقول اس کمیٹی کے صدر کے، کھالوں کی رقم مسجد کی متصل دُکانوں کی تعمیر میں صَرف کی گئی ہے۔ کیا یہ رقم جو کہ قربانی کی کھالوں کی تھی، مسجد کی دُکانوں میں لگائی جاسکتی ہے یا نہیں؟
ج… صورتِ مسئولہ میں چرمِ قربانی کی رقم کا مسجد سے متصل دُکانوں پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے، اس لئے کہ قربانی کی کھالوں کو صرف انہی مصارف میں خرچ کیا جاسکتا ہے کہ جن مصارف میں زکوٰة کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے، اور زکوٰة کے مصارف سورہٴ توبہ کی آیت میں بیان کردئیے گئے ہیں۔ مسجد سے متصل دُکان تو دُور کی بات ہے، مسجد کی تعمیر پر بھی زکوٰة اور قربانی کی کھالوں کی رقم خرچ نہیں کی جاسکتی، اس لئے کہ یہ صدقاتِ واجبہ ہیں، اور صدقاتِ واجبہ میں تملیک ضروری ہے، جبکہ صورتِ مسئولہ میں تملیک مفقود ہے۔ مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمة اللہ علیہ اپنے فتاویٰ میں تحریر فرماتے ہیں:
          ”فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ جب تک کھال فروخت نہ ہو ہر شخص کو اس کا دینا اور خود بھی اس سے منتفع ہونا جائز ہے، (البتہ قصائی وغیرہ کو یا کسی اور کو اُجرت میں دینا جائز نہیں)، اور جب فروخت کردی تو اس کی قیمت کا تصدق کرنا واجب ہے، اور تصدق کی ماہیت میں تملیک مأخوذ ہے، اور چونکہ یہ صدقہٴ واجبہ ہے اس لئے اس کے مصارف مثل مصارفِ زکوٰة کے ہیں۔“                     (امداد الفتاویٰ ج:۲ ص:۵۳۶)

          جن حضرات نے مذکورہ مسجد کی کمیٹی کے صدر کو تعمیرِ مسجد یا تعمیرِ دُکان کی غرض سے قربانی کی کھالیں دی ہیں اور صدر نے انہیں فروخت کرکے رقم حاصل کی، ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کھال کی بمقدار رقم صدقہ کریں یا مسجد کمیٹی کے صدر کھالیں دینے والوں کی اجازت سے مستحقین میں ہی رقم صَرف کردیں۔
طالبِ علم کو دُنیاوی اعلیٰ تعلیم کے لئے چرمِ قربانی کی خطیر رقم دینا
س… ایک طالبِ علم جنھوں نے انجینئرنگ میں بی اِی کی ڈگری حاصل کی ہے، وہ اسی شعبے میں مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے کینیڈا (شمالی امریکہ) کی یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتے ہیں، جس کے لئے وہ یونیورسٹی سے منظوری حاصل کرچکے ہیں اور داخلے کے تمام ضروری کاغذات تیار ہیں، اور اب یونیورسٹی میں تعلیم کی فیس اور کینیڈا کے سفر کے لئے ان کو ڈیڑھ لاکھ روپے کی شدید ضرورت ہے، لیکن ان کو یہ دُشواری درپیش ہے کہ ان کے پاس ذاتی طور پر اس کا کوئی انتظام نہیں ہے، ان کی کوشش ہے کہ وہ پچھتّر ہزار روپے اپنے حلقہٴ تعارف سے اس مقصد کے لئے جمع کرلیں تو بقیہ نصف رقم پچھتّر ہزار روپے جمعیت ”چرمہائے قربانی فنڈ“ سے ان کی اعانت کردے، تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے بیرون ملک جاسکیں اور اس اعلیٰ تعلیم کو ملک و قوم کی خدمت کا ذریعہ بناسکیں۔ دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا ایک فردِ واحد کی یہ اعانت چرمہائے قربانی کی حاصل ہونے والی رقم کی مد سے کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ جبکہ درخواست دہندہ خود کو اس کا مستحق بتاتا ہے۔
ج… مجھے تو یہ قطعاً ناجائز معلوم ہوتا ہے، دُوسرے اہلِ علم سے دریافت کرلیا جائے۔ اگر ان صاحب کو یہ رقم دینی ہو تو اس کی تدبیر یہ ہوسکتی ہے کہ ان کو اتنی رقم بطور قرض کے دے دی جائے اور جب وہ خرچ کرلیں تو اس رقم سے ان کا قرض ادا کردیا جائے۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.