Header Ads

حجِ بدل۔

حجِ بدل

حجِ بدل کی شرائط
س… حجِ بدل کی کیا شرائط ہیں؟ کیا سعودی عرب میں ملازم شخص، کسی پاکستانی کی طرف سے حج کرسکتا ہے یا کہ نہیں؟
ج… جس شخص پر حج فرض ہو اور اس نے ادائیگیٴ حج کے لئے وصیت بھی کی تھی تو اس کا حجِ بدل اس کے وطن سے ہوسکتا ہے، سعودی عرب سے جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر بغیر وصیت کے یا بغیر فرضیت کے کوئی شخص اپنے عزیز کی جانب سے حجِ بدل کرتا ہے تو وہ حج نفل برائے ایصالِ ثواب ہے، وہ ہر جگہ سے صحیح ہے۔
حجِ بدل کا جواز
س… میں ایک بہت ضروری بات کے لئے ایک مسئلہ پوچھ رہی ہوں، میں نے اپنے والد صاحب کا حجِ بدل کیا تھا، ایک صاحب نے فرمایا کہ حجِ بدل تو کوئی چیز نہیں ہے، اور یہ ناجائز ہے، کیونکہ قرآن شریف میں حجِ بدل کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ جب سے ان صاحب سے یہ بات سنی ہے میرا دِل بہت پریشان ہے کہ میرا روپیہ ضائع ہوا اور میں بہت بے چین ہوں۔ آپ کے جواب کی بے چینی سے منتظر ہوں تاکہ میری فکر دُور ہو۔
ج… حجِ بدل صحیح ہے، آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اور جو صاحب یہ کہتے ہیں کہ قرآنِ کریم میں چونکہ حجِ بدل نہیں، اس لئے حجِ بدل ہی کوئی چیز نہیں ہے، ان کی بات لغو اور بے کار ہے۔ حجِ بدل پر صحیح احادیث موجود ہیں اور اُمت کا اس کے صحیح ہونے پر اجماع ہے۔
حجِ بدل کون کرسکتا ہے؟
س… حجِ بدل کون شخص ادا کرسکتا ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حجِ بدل صرف وہ آدمی کرسکتا ہے جس نے اپنا حج ادا کرلیا ہو، اگر کسی کے ذمہ حج فرض نہیں تو کیا وہ شخص حجِ بدل ادا کرسکتا ہے یا نہیں؟
ج… حنفی مسلک کے مطابق جس نے اپنا حج نہ کیا ہو، اس کا کسی کی طرف سے حجِ بدل کرنا جائز ہے، مگر مکروہ ہے۔
حجِ بدل کس کی طرف سے کرانا ضروری ہے؟
س… حجِ بدل جس کے لئے کرنا ہے آیا اس پر یعنی مرحوم پر حج فرض ہو، تب حجِ بدل کیا جائے یا جس مرحوم پر حج فرض نہ ہو اس کی طرف سے بھی کرنا ہوتا ہے؟
ج… جس شخص پر حج فرض ہو اور اس نے اتنا مال چھوڑا ہو کہ اس کے تہائی حصے سے حج کرایا جاسکتا ہو، اور اس نے حجِ بدل کرانے کی وصیت بھی کی ہو تو اس کی طرف سے حجِ بدل کرانا اس کے وارثوں پر فرض ہے۔
          جس شخص کے ذمہ حج فرض تھا، مگر اس نے اتنا مال نہیں چھوڑا یا اس نے حجِ بدل کرانے کی وصیت نہیں کی، اس کی طرف سے حجِ بدل کرانا وارثوں پر لازم نہیں۔ لیکن اگر وارث اس کی طرف سے خود حجِ بدل کرے یا کسی دُوسرے کو حجِ بدل کے لئے بھیج دے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے اُمید کی جاتی ہے کہ مرحوم کا حجِ فرض ادا ہوجائے گا۔
          اور جس شخص کے ذمہ حج فرض نہیں، اگر وارث اس کی طرف سے حجِ بدل کریں یا کرائیں تو یہ نفلی حج ہوگا اور مرحوم کو اس کا ثواب ان شاء اللہ ضرور پہنچے گا۔
بغیر وصیت کے حجِ بدل کرنا
س… حجِ بدل میں کسی کی وصیت نہیں ہے، کوئی آدمی اپنی مرضی سے مرحوم ماں، باپ، پیر، اُستاد یعنی کسی کی طرف سے حجِ بدل کرتا ہے، استطاعت بھی ہے، آیا وہ صرف حج ادا کرسکتا ہے؟ اور وہ قربانی بھی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے؟ وضاحت فرماکر مشکور فرمائیں۔
ج… اگر وصیت نہ ہو تو جیسا حج چاہے کرسکتا ہے، وہ حجِ بدل نہیں ہوگا، بلکہ برائے ایصالِ ثواب ہوگا، جس کا ثواب اللہ تعالیٰ اس کو پہنچادے گا جس کی طرف سے وہ کیا گیا ہے۔ قربانی بھی اسی طرح برائے ایصالِ ثواب کی جاسکتی ہے۔
میّت کی طرف سے حجِ بدل کرسکتے ہیں
س… ایک متوفی پر حج فرض تھا، مگر وہ حج ادا نہ کرسکا، اب اس کی طرف سے کوئی دُوسرا شخص حج ادا کرسکتا ہے؟
ج… میّت کی طرف سے حجِ بدل کرسکتے ہیں، اگر اس نے وصیت کی تھی تو اس کے تہائی ترکہ سے اس کا حجِ بدل ادا کیا جائے گا، اور اگر تہائی سے ممکن نہ ہو تو پھر اگر سب ورثاء بالغ اور حاضر ہوں اور کل مال سے حجِ بدل کی اجازت دے دیں تو کل مال سے بھی اس صورت میں ادا کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر اس نے وصیت نہیں کی تھی تو پھر ورثاء کی صوابدید اور رضا پر ہے، بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس صورت میں بھی اس کا حج قبول فرماکر اس کے گناہوں کو معاف فرمائے۔
حجِ بدل کے سلسلے میں اِشکالات کے جوابات
س… ہمارے ہاں عام طور پر حجِ بدل سے جو مفہوم لیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ حجِ بدل اس میّت کی طرف سے ہوتا ہے جس پر اس کی زندگی میں حج فرض ہوچکا تھا، اس کے پاس اتنا مال جمع تھا کہ جس کی بنا پر وہ بآسانی حج کرسکتا ہو، اس نے حج کا ارادہ بھی کرلیا لیکن حج سے پہلے ہی اسے موت نے آن گھیرا، اب اس کے چھوڑے ہوئے مال میں سے اس کا کوئی عزیز یا بیٹا اس کی طرف سے حجِ بدل کرسکتا ہے۔ اسی طرح زندوں کی طرف سے حجِ بدل کا یہ مفہوم پیش کیا جاتا ہے کہ اگر اس پر حج فرض ہوچکا ہے لیکن وہ بیماری یا بڑھاپے کی اس حالت میں پہنچ چکا ہو جس کی بنا پر چلنے پھرنے یا سواری کرنے سے معذور ہے، تو وہ اپنی اولاد میں سے کسی کو یا کسی قریبی عزیز کو پورا خرچہ دے کر حج کے لئے روانہ کرے۔ اس کے لئے بھی یہ شرط ہے کہ حجِ بدل کرنے والا شخص وہاں سے ہی آئے جہاں پر حجِ بدل کروانے والا شخص رہ رہا ہے۔
          اس تمام صراحت کے باوجود کچھ سوال ذہن میں ایسے ہیں جو تصفیہ طلب ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مرنے والا ایک شخص موت کے وقت اس قابل نہیں تھا کہ وہ حج کرسکے یا یوں کہہ لیجئے کہ اس کے اُوپر کچھ ذمہ داریاں ایسی تھیں جن سے وہ اپنی موت تک عہدہ برآ نہیں ہوسکا تھا، اور سرمایہ بھی نہیں تھا، جس کی وجہ سے اس پر حج فرض نہیں ہوسکتا تھا، اب اس کی موت سے عرصہ ۲۰ سال کے بعد اس کی اولاد اس قابل ہوجاتی ہے اور اس میں اتنی استطاعت بھی ہے کہ ہر فرض سے سبکدوش ہونے کے بعد اپنا حج بھی کرسکے اور اپنے باپ کا بھی، تو اَب ہمیں یہ بتایا جائے کہ اولاد کی طرف سے اپنے باپ کے لئے کیا جانے والا یہ حج، حجِ بدل ہوسکتا ہے؟ (واضح رہے کہ باپ اپنی موت کے وقت اس قابل نہیں تھا کہ حج کرسکے)، اور کیونکہ حجِ بدل کے لئے یہ دلیل مستحکم سمجھتی جاتی ہے کہ جس کی طرف سے حجِ بدل کیا جائے موت سے پہلے اس پر حج فرض ہوچکا ہو، تو کیا مذکورہ بالا شخص اپنے باپ کی طرف سے حج نہیں کرسکتا؟ کیونکہ موت سے پہلے اس کے باپ پر حج فرض نہیں تھا۔
          اب زندوں کی طرف آئیے، زندوں کی طرف سے بھی حجِ بدل اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ جب وہ خود اس قابل نہ ہو کہ حج کرسکے، یعنی سرمایہ ہونے کے باوجود جسمانی معذوری یا بڑھاپے کی وجہ سے چل نہیں سکتا تو وہ حج کا خرچہ دے کر اپنی کسی اولاد یا اپنے کسی عزیز کو حجِ بدل کروانے بھیج سکتا ہے۔ اب اگر باپ کے پاس سرمایہ نہ ہو، جسمانی طور پر معذور بھی ہو، یعنی اس پر حج کی فرضیت لازم نہیں آتی تو اس کا بیٹا جو اس سے الگ رہتا ہو (یہ ذہن میں رہے کہ ناچاقی کی بنا پر الگ نہیں رہتا بلکہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے الگ رہنے پر مجبور ہے)، صاحبِ استطاعت ہے، خود حج کرچکا ہے، تو کیا وہ اپنے باپ کی طرف سے حج کرسکتا ہے؟ جناب اب دُوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ماں باپ کے پاس پیسہ نہیں ہے یا باپ کام کاج نہیں کرتا (جیسا کہ عموماً آج کل ہوتا ہے کہ بیٹا کسی قابل ہوجائے تو احترام کے پیشِ نظر وہ باپ کو کام کرنے نہیں دیتا)، جسمانی طو پر بھی ٹھیک ہیں، تو کیا وہ اپنے بیٹے کے خرچ سے حج کرسکتے ہیں یا نہیں؟ جبکہ حج میں ان کا سرمایہ بالکل نہیں لگے گا۔
          اب آپ ہمیں یہ بتائیں کہ کیا بیٹے کے خرچے سے ماں باپ کا حج ہوگا کہ نہیں؟ برائے مہربانی ان سوالوں کا تسلی بخش جواب دے کر مجھے ذہنی پریشانی سے نجات دِلائیں۔ نیز یہ کہ اولاد صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود زندہ یا مردہ ماں باپ کی طرف سے حجِ بدل نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ گار ہوگا کہ نہیں؟ یہ بھی کہ ”عمرہ بدل“ کی بھی کیا وہی شرائط ہیں جو حجِ بدل کی ہیں؟
ج… جس زندہ یا مردہ پر حج فرض نہیں، اس کی طرف سے حجِ بدل ہوسکتا ہے، مگر یہ نفلی حج ہوگا۔
          ۲:… اگر باپ کے پاس رقم نہ ہو اور بیٹا اس کو حج کی رقم دے دے تو اس رقم کا مالک بنتے ہی بشرطیکہ اس پر کوئی قرض نہ ہو، اس پر حج فرض ہوجائے گا۔
          ۳:… اولاد کے ذمہ ماں باپ کو حج کرانا ضروری نہیں، لیکن اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہو تو ماں باپ کو حج کرانا بڑی سعادت ہے۔
          ۴:… اگر ماں باپ نادار ہیں اور ان پر حج فرض نہ ہو تو اولاد کا ان کی طرف سے حجِ بدل کرنا ضروری نہیں۔
          ۵:… عمرہ بدل نہیں ہوتا، البتہ کسی کی طرف سے عمرہ کرنا صحیح ہے، زندہ کی طرف سے بھی اور مرحوم کی طرف سے بھی، اس کا ثواب ان کو ملے گا جن کی طرف سے ادا کیا جائے۔
مجبوری کی وجہ سے حجِ بدل
س… میں دِل کا مریض ہوں، عرصے سے بیت اللہ کی زیارت کی خواہش ہے، تکلیف ناقابلِ برداشت ہوگئی ہے، کمزوری بے حد ہے اور میری عمر ۶۵ سال ہے، خونی بواسیر بھی ہے، چند وجوہات سے تکلیف میں اضافہ ہوجاتا ہے، میں اپنی حالت کی مجبوری کے باعث اپنے عزیز کو حجِ بدل کے لئے بھیج رہا ہوں، کیا میرے ثواب میں کمی بیشی تو نہیں ہوگی؟ کیا میری آرزو کے مطابق مجھے ثواب حاصل ہوگا؟ اور یہ بھی بتائیں کہ حج پر جانے سے پیشتر جو فرض واجب ہوتے ہیں ان فرائض کی ادائیگی میرے ذمہ بھی فرض ہے یا نہیں؟ مثلاً رشتہ داروں سے ملنا، کہا سنا معاف کرانا وغیرہ، اور دیگر شرعی کیا فرائض میرے اُوپر واجب ہوتے ہیں؟
ج… اگر آپ خود جانے سے معذور ہیں تو کسی کو حجِ بدل پر بھیج سکتے ہیں، آپ کا حج ہوجائے گا۔ کہا سنا معاف کرانا ہی چاہئے۔
بغیر وصیت کے مرحوم والدین کی طرف سے حج
س… اگر زید کے والدین اس دُنیا سے رحلت فرماگئے ہوں تو زید بغیر اپنے والدین کی وصیت کے ان کے لئے حج و عمرہ ادا کرسکتا ہے یا نہیں؟ اگر کرسکتا ہے تو وہ حج کے تینوں اقسام میں سے کون سا حج ادا کرے گا؟
ج… اگر والدین کے ذمہ حج فرض تھا اور انہوں نے حجِ بدل کرانے کی وصیت نہیں کی تو اگر زید ان کی طرف سے حج کرادے یا خود کرے تو اُمید ہے کہ ان کا فرض ادا ہوجائے گا۔ تینوں اقسام میں سے جونسا حج بھی کرلے صحیح ہے۔
س… مذکورہ ”عازم“ حج سے پہلے عمرہ بھی ادا کرسکتا ہے یا صرف حج ہی ادا کرے گا؟
ج… بغیر وصیت کے جو حج کیا جارہا ہے اس سے پہلے عمرہ بھی کرسکتا ہے۔
س… اگر والدین پر حج فرض نہیں تھا، یعنی صاحبِ استطاعت نہیں تھے، بیٹا صاحبِ استطاعت ہے تو والدین کے لئے حج و عمرہ کرسکتا ہے یا نہیں؟ اگر کرسکتا ہے تو حج فرض ہوگا یا نفلی؟
ج… حج کرسکتا ہے، لیکن یہ نفلی حج ہوگا۔
والدہ کا حجِ بدل
س… میری والدہ محترمہ کا انتقال گزشتہ سال ہوگیا، کیا میں ان کی طرف سے حجِ بدل کرسکتا ہوں؟ جبکہ میں نے اس سے قبل حج نہیں کیا ہے۔ کیا مجھے پہلے اپنا حج اور پھر والدہ کی طرف سے حج کرنا پڑے گا یا پہلے صرف والدہ کی طرف سے حج کرسکتا ہوں؟
ج… بہتر یہ ہے کہ حجِ بدل ایسا شخص کرے جس نے اپنا حج کیا ہو، جس نے اپنا حج نہ کیا ہو اس کا حجِ بدل پر جانا مکروہ ہے۔
معذور باپ کی طرف سے جدہ میں مقیم بیٹا کس طرح حجِ بدل کرے؟
س… دس سال قبل میرے بیٹے متعینہ جدہ نے مجھے اپنے ساتھ کراچی سے لے جاکر عمرہ کرادیا تھا، ہنوز حج کی سعادت سے محروم ہوں، بیٹے نے بارہ چودہ حج کئے ہیں، اگر وہ ایک حج مجھے بخش دے تو کیا میری طرف سے وہ حج ہوجائے گا؟ میری عمر ۸۷ سال ہے، دُوسرا بیٹا بھی دو تین حج کرچکا ہے، جدہ میں ملازم ہے، کراچی رُخصت پر آنے کا ارادہ ہے، واپسی پر کراچی سے جدہ پہنچ کر ایامِ حج میں وہ میری طرف سے حجِ بدل کرسکتا ہے؟ چند ماہ پیشتر آپ ایک صاحب کے سوال کے جواب میں تحریر کرچکے ہیں کہ حجِ بدل کے لئے بہتر ہے کہ وہ اپنا حج کرچکا ہو اور پھر اسی مقام یعنی کراچی سے ہی سفر کرکے جدہ پہنچے اور حجِ بدل کرے۔ میں چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہا ہوں۔

ج… اگر آپ کے ذمہ حج فرض ہے تو حجِ بدل کے لئے کسی کو کراچی سے بھیجنا ضروری ہے، خواہ آپ کا بیٹا جائے یا کوئی اور۔ اور اگر حج آپ پر فرض نہیں تو آپ کا بیٹا جدہ سے بھی آپ کی طرف سے حجِ بدل کرسکتا ہے، اور وہ اپنا ایک حج آپ کو بخش دے تب بھی آپ کو اس کا ثواب مل جائے گا۔ لیکن اگر آپ پر حج فرض ہے تو پھر ادا شدہ حج کے ثواب بخشنے سے وہ فرض پورا نہیں ہوگا۔ اسی طرح وہ بیٹا جو کراچی سے جدہ جارہا ہے اگر وہ آپ کے خرچے سے یہاں سے اِحرام باندھ کر، آپ کی طرف سے حج کی نیت کرکے حج کے مہینوں میں جائے اور حج ادا کرلے تو آپ کا حجِ بدل عذر کی وجہ سے ادا ہوجائے گا۔
دادا کی طرف سے حجِ بدل
س… میرے دادا کا انتقال ہوچکا ہے اور انہوں نے حج کے فارم بھردئیے تھے، اور ان کا نمبر بھی آگیا تھا، لیکن انہوں نے مرنے سے پہلے اپنی بیوی یعنی میری دادی کو کہا تھا کہ اگر میں مرجاوٴں تو تم حج پر چلی جانا، اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا میری دادی عدّت کے دوران جاسکتی ہے؟

ج… آپ کی دادی صاحبہ کو عدّت کے دوران حج پر جانا جائز نہیں، عدّت کے بعد اگر محرَم کے ساتھ جاسکتی ہو تو جائے، اور اگر کوئی محرَم ساتھ جانے والا نہیں تو حجِ بدل کی وصیت کردے۔ یہ مسئلہ اس صورت میں ہے جبکہ آپ کی دادی صاحبہ پر حج فرض ہو، اور اگر آپ کے داداجان نے مرنے سے پہلے حجِ بدل کی وصیت کی تھی تو آپ کے داداجان کی طرف سے حجِ بدل کروانا لازم ہے، خواہ خود جائیں یا کسی اور کو بھیجیں۔
بیوی کی طرف سے حجِ بدل
س… میری امی کو حج کو بڑا ارمان تھا، (اللہ انہیں جنت نصیب کرے)، اب اس سال میرا ارادہ حج کرنے کا ہے ان شاء اللہ، تو کیا میں یہ نیت کرلوں کہ اس کا ثواب میرے ساتھ ساتھ میری امی کو بھی پہنچے؟ اس کے لئے کیا نیت کروں؟ نیز میرے ساتھ ابو جائیں گے جنھوں نے پہلے ہی سے حج کیا ہوا ہے تو کیا وہ حجِ بدل کی نیت (امی کے لئے) کرسکتے ہیں؟
ج… آپ اپنی طرف سے حج کریں اور ان کی طرف سے عمرہ کردیں، آپ کے والد صاحب ان کی طرف سے حجِ بدل کردیں تو ان کی طرف سے حج ہوجائے گا۔
سسر کی جگہ حجِ بدل
س… کیا داماد اپنے سسر کی جگہ حجِ بدل کرسکتا ہے؟ جبکہ سسر بیماری کی وجہ سے یہ کام نہیں کرسکتا، ویسے صاحبِ حیثیت ہے اور اس کا لڑکا بھی صاحبِ حیثیت ہے۔
ج… خسر کے حکم سے داماد حجِ بدل کرسکتا ہے۔
ایسی عورت کا حجِ بدل جس پر حج فرض نہیں تھا
س… میری پھوپھی مرحومہ (جنھوں نے مجھے ماں بن کر پالا تھا اور ان کا کوئی حق میں ادا نہ کرسکا، کیونکہ جب اس قابل ہوا تو وہ اللہ کو پیاری ہوگئیں) کے مالی حالات اور دیگر حالات کی بنا پر ان پر حج فرض نہیں تھا، کیا میں ان کے ایصالِ ثواب کے لئے ان کی طرف سے کسی خاتون کو ہی حجِ بدل کرواسکتا ہوں؟ کیا یہ حج کوئی مرد بھی کرسکتا ہے؟
ج… آپ مرحومہ کی طرف سے حجِ بدل کراسکتے ہیں، مگر چونکہ آپ کی پھوپھی پر حج فرض نہیں تھا، نہ ان کی طرف سے وصیت تھی، اس لئے ان کی طرف سے آپ جو حج کرائیں گے وہ نفل ہوگا۔
          ۲:… کسی خاتون کی طرف سے حجِ بدل کرانا ہو تو ضروری نہیں کہ کوئی خاتون ہی حجِ بدل کرے۔ عورت کی طرف سے مرد بھی حجِ بدل کرسکتا ہے اور مرد کی طرف سے عورت بھی کرسکتی ہے۔
اپنا حج نہ کرنے والے کا حجِ بدل پر جانا
س… میرے والد صاحب کا انتقال ہوچکا ہے، اور ہم اپنے والد کا حجِ بدل کرانا چاہتے ہیں، ہم جس آدمی کو حجِ بدل کرانا چاہ رہے ہیں اس کی مالی حیثیت اتنی نہیں کہ وہ اپنا حج ادا کرسکے، کیا ہم اس شخص سے حجِ بدل کراسکتے ہیں جس نے اپنا حج نہیں کیا؟ یا حجِ بدل کے لئے پہلے اپنا حج کرنا لازم ہے؟ یا کوئی اور صورت ہو حجِ بدل کرانے کی؟ اس کا تفصیلی جواب دیں۔
ج… جس شخص نے اپنا حج نہ کیا ہو اس کا حجِ بدل پر جانا مکروہِ تنزیہی یعنی خلافِ اَوْلیٰ ہے، تاہم اگر چلا جائے تو حجِ بدل ادا ہوجائے گا۔

س… دو بھائی ہیں جن کے والد کا انتقال ہوگیا ہے، دونوں بھائی الگ الگ اپنے گھر میں فیملی کے ساتھ رہتے ہیں، جن میں ایک بھائی امیر ہے اور دُوسرا بھائی بہت غریب ہے۔ چھوٹا بھائی جو کہ امیر ہے اپنی والدہ (ماں) کے ساتھ حج کرچکا ہے، اب وہ اپنے مرحوم والد کے نام کا حجِ بدل کروانا چاہتا ہے، بڑا بھائی چونکہ غریب ہے اور اس نے ایک بار بھی حج نہیں کیا ہے، چھوٹا بھائی اپنے پیسے (رقم) سے اپنے بڑے بھائی کو مرحوم والد کے نام سے حجِ بدل پر بھیجنا چاہتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ بڑا بھائی جس نے خود ابھی تک حج نہیں کیا ہے، اس کے باوجود وہ دُوسرے کے نام پر حجِ بدل کرسکتا ہے؟
ج… جس نے اپنا حج نہ کیا ہو، اس کا حجِ بدل پر بھیجنا مکروہِ تنزیہی یعنی خلافِ اَوْلیٰ ہے۔

س… دُوسروں کے پیسے (رقم) سے حجِ بدل کیا جاسکتا ہے؟
ج… وہ حجِ بدل جو بغیر وصیتِ میّت کے ہو جس کو عوام ”حجِ بدل“ کہتے ہیں جیسے کہ سوال میں مذکور ہے، دُوسروں کے پیسے سے بھی کیا جاسکتا ہے۔
س… بڑا بھائی جو کہ حجِ بدل کرکے واپس آئے، وہ ”حاجی“ کہلائے گا؟
ج… جی ہاں! اپنے حج کے بغیر ”حاجی“ کہلائے گا۔
حجِ بدل کوئی بھی کرسکتا ہے غریب ہو یا امیر
س… حجِ بدل کا کیا طریقہ ہے؟ کون شخص حجِ بدل کے لئے جاسکتا ہے؟ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ جس نے اپنا حج نہ کیا ہو، اس کو حجِ بدل پر نہیں بھیجنا چاہئے کیونکہ غریب آدمی پر حج فرض ہی نہیں ہوتا تو حجِ بدل کے لئے بھی نہیں جاسکتا، امیر کا بھیجنا بہتر ہے یا غریب کا؟
ج… جس شخص نے اپنا حج نہیں کیا ہے، اس کو حجِ بدل کے لئے بھیجنے سے حجِ بدل ادا ہوجاتا ہے، لیکن ایسے شخص کو حجِ بدل پر بھیجنا مکروہ ہے، لہٰذا ایسے شخص کو بھیجا جائے جو پہلے حج کرچکا ہو، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، غریب یا امیر کی بحث اس مسئلے میں نہیں ہے۔
نابالغ حجِ بدل نہیں کرسکتا
س… میرے لڑکے کی عمر ۱۳ سال ہے، کیا یہ اپنے باپ کا حجِ بدل کرسکتا ہے؟
ج… نابالغ حجِ بدل نہیں کرسکتا۔
حجِ بدل میں قربانی لازم ہے یا نہیں؟
س… حجِ بدل میں قربانی لازم ہے یا نہیں؟
ج… قربانی تمتع اور قران میں واجب ہوتی ہے، حجِ مفرَد میں قربانی لازم نہیں، کسی جنایت (غلطی) کی وجہ سے لازم ہوجائے تو دُوسری بات ہے۔
          حج کی تین قسمیں ہیں: مفرَد، قران، تمتع۔
          حجِ مفرَد:… حجِ مفرَد یہ ہے کہ میقات سے گزرتے وقت صرف حج کا اِحرام باندھا جائے، اس کے ساتھ عمرہ کا اِحرام نہ باندھا جائے، حج سے فارغ ہونے تک یہ اِحرام رہے گا۔
          حجِ قران:… حجِ قران یہ ہے کہ میقات سے عمرہ اور حج دونوں کا اِحرام باندھا جائے، مکہ مکرّمہ پہنچ کر پہلے عمرہ کے ارکان ادا کئے جائیں، اس کے بعد حج کے ارکان ادا کرکے ۱۰/ذوالحجہ کو رَمی اور قربانی سے فارغ ہوکر اِحرام کھولا جائے۔
          حجِ تمتع:… حجِ تمتع یہ ہے کہ حج کے موسم میں میقات سے گزرتے وقت صرف عمرہ کا اِحرام باندھا جائے اور اس کے ارکان ادا کرکے اِحرام کھول دیا جائے۔ پھر ۸/ذوالحجہ کو حج کا اِحرام باندھ کر حج کے ارکان ادا کئے جائیں اور ۱۰/ذوالحجہ کو رَمی اور قربانی کے بعد حج کا اِحرام کھولا جائے۔
حجِ بدل میں کتنی قربانیاں کرنی ضروری ہیں؟
س…۱: حجِ بدل کرنے والا اگر قربانی کرتا ہے تو ایک کرے یا دو؟ یعنی آمر اور مأمور دونوں کی طرف سے۔
س…۲: ہم لوگ نفلی حجِ بدل کرتے ہیں، اس صورت میں قربانی کریں یا نہ کریں؟ اگر کریں تو کس طرح؟
س…۳: جو لوگ پاکستان یا دیگر ملکوں سے آکر حجِ بدل کرتے ہیں، عمرہ کرتے ہیں پھر اِحرام کھول کر دوبارہ حجِ تمتع کرتے ہیں، ان کے بارے میں تفصیل سے تحریر کریں۔
ج… حجِ بدل کرنے والے کو حجِ مفرَد یعنی صرف حج کا اِحرام باندھنا چاہئے، اور حجِ مفرَد میں حج کی وجہ سے قربانی نہیں ہوتی، اس لئے آمر کی طرف سے قربانی کی ضرورت نہیں، مأمور اگر مقیم اور صاحبِ استطاعت ہو تو اپنی طرف سے (عام قربانی) کرے، اور مسافر اور غیر مستطیع پر عام قربانی واجب نہیں۔
ج…۲: اس کا مسئلہ بھی وہی ہے جو اُوپر لکھا گیا ہے۔
ج…۳: جیسا کہ اُوپر لکھا گیا، حجِ بدل کرنے والوں کو حجِ مفرَد یعنی صرف حج کا اِحرام باندھنا چاہئے، اگر وہ تمتع کریں (یعنی میقات سے صرف عمرہ کا اِحرام باندھیں اور عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد پھر ۸/ذوالحجہ کو حج کا اِحرام باندھیں) تو تمتع کی قربانی خود ان کے مال سے لازم ہے، آمر کے مال سے نہیں، اِلَّا یہ کہ آمر نے اس کی اجازت دے دی ہو تو اس کے مال سے قربانی کرسکتے ہیں۔

A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.