تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

بدھ، 25 ستمبر، 2013

طواف۔

طواف

حرم شریف کی تحیة المسجد طواف ہے
س… کیا عمرہ ادا کرنے کے بعد مکہ مکرّمہ سے رُخصتی کے وقت طواف الوداع ضروری ہے؟ اور کیا عمرہ کے لئے جانے والے شخص کو حرم شریف میں تحیة المسجد کے نفل پڑھنا ضروری ہیں؟
ج… طوافِ وداع صرف حج میں واجب ہے، عمرہ میں نہیں، حرم شریف کی تحیة المسجد طواف ہے۔
طواف سے پہلے سعی کرنا
س… حرمین شریفین میں نماز پڑھنے کے لئے عورتوں کا دوائی وغیرہ کا استعمال کرنا ماہواری کو روکنے کے لئے، آیا یہ عمل بغیر کراہت کے دُرست ہے یا نہیں؟
ج… کوئی حرج نہیں۔
س… دُوسرا مسئلہ یہ ہے کہ عورت اپنے ایامِ خاص میں سعی کو مقدم (طواف پر) کرسکتی ہے یا نہیں؟ اگر نہیں کرسکتی تو کس طرح عمرے کو ادا کرے گی؟ آیا وہ تأخیر کرے گی حالتِ طہارت تک یا اِحرام کو اُتار دے گی؟
ج… اس صورت میں سعی طواف سے پہلے کرنا صحیح نہیں، پاک ہونے کے بعد طواف و سعی کرکے اِحرام کھولے، اس وقت تک اِحرام میں رہے۔
اذان شروع ہونے کے بعد طواف شروع کردیا
س… کیا اذان شروع ہونے کے بعد طواف شروع کرنا جائز ہے؟
ج… اگر اذان اور نماز کے درمیان اتنا وقفہ ہو کہ طواف کرسکتا ہے تو اذان کے وقت طواف شروع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
طواف کے دوران ایذارسانی
س… دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ طواف کے دوران تیز دوڑتے ہیں اور سامنے آنے والوں کو دھکا دے کر آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، کیا یہ دُرست ہے؟
ج… طواف کے دوران لوگوں کو دھکے دینا بہت بُرا ہے۔
حجرِ اَسود کے اِستلام کا طریقہ
س… کچھ حاجی صاحبان طواف کا ایک چکر پورا ہونے پر حجرِ اَسود کا اِستلام کرتے ہوئے سات مرتبہ ہاتھ اُٹھاکر اگلا چکر شروع کرتے ہیں، جس سے طواف میں رُکاوٹ ہوتی ہے، کیا ان کا یہ عمل دُرست ہے؟
ج… سات مرتبہ ہاتھ اُٹھانا غلط ہے، ایک مرتبہ اِستلام کافی ہے۔

          اِستلام:… طواف شروع کرنے سے پہلے اور طواف کے ہر چکر کے بعد حجرِ اَسود کو چومنا اور اگر حجرِ اَسود کا چومنا دُشوار ہو تو اس کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرکے اس کو چوم لینا۔

حجرِ اَسود اور رُکنِ یمانی کا بوسہ لینا
س… مسئلہ یہ ہے کہ اکثر طواف کے دوران دیکھا گیا ہے کہ مرد اور عورتیں رُکنِ یمانی اور حجرِ اَسود کا بوسہ بہت اہتمام سے ادا کرتے ہیں، اور بعض مرتبہ اس عمل کو ادا کرتے وقت کثرتِ ہجوم اور رش کی بنا پر وہ حالت ہوتی ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا، یعنی کھلم کھلا مرد اور عورتوں کا اختلاط پایا جاتا ہے، اس کے باوجود اس عمل کو ترک نہیں کیا جاتا، پوچھنا یہ ہے کہ یہ عمل سنت ہے یا واجب؟ جس پر اتنا اہتمام ہوتا ہے، اگر ادا کرنا مشکل ہو (یعنی حجرِ اَسود وغیرہ کا بوسہ) تو اس کا بدل کیا ہے؟ براہِ مہربانی تفصیل سے جواب دیں۔
ج… حجرِ اَسود کا اِستلام سنت ہے، بشرطیکہ بوسہ لینے سے اپنے آپ کو یا کسی اور کو ایذا نہ ہو، اگر اس میں دھکم پیل کی نوبت آئے اور کسی مسلمان کو ایذا پہنچے تو یہ فعل حرام ہے اور طواف میں فعلِ حرام کا ارتکاب کرنا اور اپنی اور دُوسروں کی جان کو خطرے میں ڈالنا بہت ہی بے عقلی کی بات ہے۔ اگر آدمی آسانی سے حجرِ اَسود تک پہنچ سکے تو اس کو چوم لے ورنہ دُور سے اپنے ہاتھوں کو حجرِ اَسود کی طرف بڑھاکر یہ تصوّر کرے کہ گویا میں نے ہاتھ حجرِ اَسود پر رکھ دئیے ہیں اور پھر ہاتھوں کو چوم لے، اس کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی، ان شاء اللہ۔
          اور رُکنِ یمانی کو بوسہ نہیں دیا جاتا، نہ اس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے، بلکہ اگر چلتے چلتے اس کو داہنا ہاتھ لگانے کی گنجائش ہو تو ہاتھ لگادے (ہاتھ کو بھی نہ چومے)، ورنہ بغیر اشارہ کئے گزر جائے۔
حجرِ اَسود کی توہین
س… جناب! ایک مسئلہ آپ سے پوچھنا ہے، وہ یہ کہ ایک سرمایہ دار خاتون حج کرنے کے لئے گئی اور واپس آکر انہوں نے بتایا کہ دورانِ حج سنگِ اَسود کو بوسہ دینے کے لئے جب میں گئی تو وہاں پر لوگوں کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھ کر مجھے گھن آئی، میں نے بوسہ نہیں دیا۔ اس سلسلے میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں تحریر فرمائیں کہ شریعت میں ایسی عورت کے لئے کیا حکم ہے؟ آیا وہ دائرہٴ اسلام میں ہے یا اس سے خارج ہے؟
ج… اگر اس عورت نے حجرِ اَسود کی توہین و بے عزّتی کے ارتکاب کی نیت سے یہ گفتگو کی ہو اور اس کا مقصد حجرِ اَسود ہی کی توہین ہو اور اس بوسہ دینے کے عمل سے نفرت ہو تو یہ کلمہٴ کفر ہے، اس پر تجدیدِ ایمان واجب ہے اور اس کا نکاح شوہر سے ٹوٹ گیا۔ اور اگر اس کا ارادہ یہ ہو کہ چونکہ اس پر لوگوں کا لعاب و تھوک پڑتا ہے جو قابلِ نفرت ہے، یا اس کا مقصد تکبر کی بنا پر لوگوں کی اہانت ہے تو کفر کا حکم تو نہیں ہوگا لیکن بدترین قسم کے فسق (گناہ) ہونے میں کلام نہیں ہے، اس عورت پر توبہ واجب ہے۔ اور اگر اس خاتون کو اس بات سے گھن آئی کہ سب مرد، عورتیں اکٹھے بوسے دے رہے ہیں اور اس کو حیا مانع آئی کہ وہ مردوں کے مجمع میں گھس کر بوسہ دے تو اس کا یہ فعل بلاشبہ صحیح ہے، اور کسی مسلمان کے قول و عمل کو حتی الوسع اچھے معنی پر ہی محمول کرنا چاہئے۔
طواف کے ہر چکر میں نئی دُعا پڑھنا ضروری نہیں
س… طواف میں سات چکر ہوتے ہیں، ہر چکر میں نئی دُعا پڑھنی ضروری ہے یا کوئی سی دُعا پڑھی جاسکتی ہے؟
ج… ہر چکر میں نئی دُعا پڑھنا کوئی ضروری نہیں، بلکہ جس دُعا یا ذکر میں خشوع زیادہ ہو اس کو پڑھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رُکنِ یمانی اور حجرِ اَسود کے درمیان ”رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً“ والی دُعا منقول ہے۔ طواف کے سات چکروں کی جو دُعائیں کتابوں میں لکھی ہیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں، بعض بزرگوں سے منقول ہیں۔ عام لوگ نہ تو ان کا صحیح تلفظ کرسکتے ہیں، نہ ان کے معنی و مفہوم سے واقف ہیں، اور پھر طواف کے دوران چِلَّا چِلَّا کر پڑھتے ہیں
جس سے دُوسروں کو بھی تشویش ہوتی ہے، اور بعض قرآن مجید کی تلاوت بلند آواز سے کرتے ہیں، ایسا کرنا نامناسب ہے۔ تیسرا کلمہ، چوتھا کلمہ، دُرود شریف یا کوئی دُعا جس میں دِل لگے، زیرِ لب پڑھتے رہنا چاہئے۔
طواف کے چودہ چکر لگانا
س… ہم عمرہ کے لئے گئے اور طواف کے سات شوط یعنی سات چکر کی جگہ چودہ چکر لگادئیے، اس کے بعد سعی وغیرہ کی، کیا یہ عمل دُرست ہوا؟
ج… طواف تو سات ہی شوط کا ہوتا ہے، گویا آپ نے مسلسل دو طواف کرلئے، ایسا کرنا نامناسب تھا، مگر اس پر کوئی کفارہ یا جرمانہ نہیں، البتہ آپ کے ذمہ دو طوافوں کے دو دوگانے لازم ہوگئے تھے، یعنی چار رکعتیں، اگر آپ نے نہ پڑھی ہوں تو اَب پڑھ لیں۔
بیت اللہ کی دیوار کو چومنا مکروہ اور خلافِ ادب ہے
س… بیت اللہ کی دیوار کو بوسہ دے سکتا ہے؟ اگر بوسہ لیا ہے تو گناہ گار ہوا یا نہیں؟
ج… صرف حجرِ اَسود کا بوسہ لیا جاتا ہے، کسی اور جگہ کا چومنا مکروہ ہے، اور ادب کے خلاف ہے۔
طوافِ عمرہ کا ایک چکر حطیم کے اندر سے کیا تو دَم واجب ہے
س… میں اور میرا دوست اس مرتبہ حج کے لئے گئے تھے، ہم نے حجِ قران کا اِحرام باندھا تھا، جب ہم عمرے کا طواف کر رہے تھے تو چونکہ جم غفیر تھا اس لئے ہم تیسرے یا چوتھے شوط میں حطیم کے اندر سے گزر گئے، پہلے ہمیں علم نہیں ہوسکا، جب حطیم کی دُوسری طرف سے نکلے تو معلوم ہوا کہ یہ حطیم تھا۔ اس طرح ہمارا یہ شوط نامکمل ہوا، لیکن ہم نے اس کا اعادہ نہیں کیا۔ بس اس وقت ذہن سے بات نکل گئی۔ اب اس بارے میں مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہیں مل رہا، چونکہ ہم نے اکثر اَشواط ادا کئے لہٰذا فرض ادا ہوگیا، اب اگر عمرے کا ہر شوط واجب ہے تو پھر ترکِ واجب ہوا، لہٰذا دَم آئے گا اور قران والے کے لئے دو دَم ہوں گے، بہرحال یہ تحقیق آپ کی ہے۔ الغرض مجھ پر دَم ہے یا نہیں؟ اور اگر ہے تو اس کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی؟ اُمید ہے اوّلین فرصت میں جواب دے کر تشفی فرمائیں گے، اللہ تعالیٰ آپ کے فیض کو تاحیات جاری و ساری رکھے، آمین!
ج… آپ پر اور آپ کے رفیق پر عمرہ کے طواف کا ایک چکر ادھورا چھوڑنے کی وجہ سے ایک ایک دَم واجب ہے، یہ جو قاعدہ ہے کہ قران والے کے ذمہ دو دَم ہوتے ہیں، وہ یہاں جاری نہیں ہوتا۔ دَم ادا کرنے کی صورت یہ ہے کہ آپ کسی مکہ مکرّمہ جانے والے کے ہاتھ اتنی رقم بھیج دیں جس سے بکرا خریدا جاسکے، وہ صاحب بکرا خرید کر حدودِ حرم میں ذبح کرادیں اور گوشت فقراء اور مساکین میں تقسیم کردیں، غنی اور مال دار لوگ اس گوشت کو نہ کھائیں۔
مقامِ ابراہیم پر نماز واجب الطواف ادا کرنا
س… بعض حضرات یہ جانتے ہوئے کہ مجمع زیادہ ہے مگر مقامِ ابراہیم پر نماز واجب الطواف پڑھنے لگتے ہیں، جس سے ان کو بھی چوٹ لگنے کا اندیشہ رہتا ہے، نیز ضعیف و مستورات کے زخمی ہوجانے کا احتمال ہے، کیا یہ نماز ہجوم سے ہٹ کر نہیں پڑھی جاسکتی؟
ج… ضرور پڑھی جاسکتی ہے، اور اگر مقامِ ابراہیم پر نماز پڑھنے سے اپنے آپ کو یا کسی دُوسرے کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو مقامِ ابراہیم پر نماز نہ پڑھی جائے کہ کسی کو ایذا پہنچانا حرام ہے۔
طواف کی دو رکعت نفل کیا مقامِ ابراہیم پر ادا کرنا ضروری ہے؟
س… طواف کے آخر میں دو رکعت نفل جو ادا کرتے ہیں، کیا وہ مقامِ ابراہیم پر ہی ادا کرنا ضروری ہے یا انہیں اور کہیں مثلاً چھت وغیرہ پر ادا کیا جاسکتا ہے؟
ج… اگر جگہ ہو تو مقامِ ابراہیم پر پڑھنا افضل ہے، یا حطیم میں گنجائش ہو تو وہاں پڑھ لے، ورنہ کسی جگہ بھی پڑھ سکتا ہے، بلکہ مسجدِ حرام سے باہر اپنے مکان پر پڑھے تب بھی جائز ہے، کوئی کراہت نہیں۔
ہر طواف کی دو نفل غیرممنوع اوقات میں ادا کرنا
س… بیت اللہ شریف کے طواف کے بعد دو رکعت نفل (واجب الطواف) ممنوع وقت (صبح فجر سے طلوعِ آفتاب تک اور شام عصر سے مغرب تک) پڑھنے چاہئیں یا نہیں؟ کئی علماء کہتے ہیں کہ ان نفلوں کا ممنوع وقت نہیں ہے، ہر وقت پڑھے جاسکتے ہیں، اور کئی علماء کہتے ہیں کہ ممنوع وقت گزرنے کے بعد پڑھنے چاہئیں۔ اگر ممنوع وقت کے بعد پڑھے جائیں تو اس وقت جتنے بھی طواف کئے جائیں، ان سب کے ایک دفعہ دو نفل پڑھے جائیں یا دو دو نفل ہر طواف کے الگ الگ پڑھے جائیں؟
ج… امام ابوحنیفہ کے نزدیک ممنوع اوقات (یعنی عصر کے بعد سے مغرب تک، فجر کے بعد سے اِشراق تک اور زوال کے وقت) دوگانہٴ طواف ادا کرنا جائز نہیں، اس دوران جتنے طواف کئے ہوں، مکروہ وقت ختم ہونے کے بعد ان کے دوگانے الگ الگ ادا کرلے۔
دورانِ طواف وضو ٹوٹ جائے تو کیا کرے؟
س… طوافِ کعبہ کے دوران یا حج کے ارکان ادا کرتے وقت اگر وضو ٹوٹ جائے تو کیا دوبارہ وضو کرکے ارکان ادا کرنے ہوں گے؟ عرفات میں قیام کے دوران یا سعی کرتے وقت؟ براہ کرم تفصیل سے جواب دیں۔
ج… طواف کے لئے وضو شرط ہے، اگر طواف کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو وضو کرکے دوبارہ طواف کیا جائے، اور اگر چار یا پانچ پھیرے پورے کرچکا ہو تو وضو کرکے باقی پھیرے پورے کرلے، ورنہ نئے سرے سے طواف شروع کرے، البتہ سعی کے دوران وضو شرط نہیں، اگر بغیر وضو کے سعی کرلی تو ادا ہوجائے گی، یہی حکم وقوفِ عرفات کا ہے۔
عمرہ کے طواف کے دوران ایام آنے والی لڑکی کیا کرے؟
س… ایک بچی اپنے والدین کے ہمراہ عمرہ اور زیارتِ مدینہ منوّرہ کے لئے روانہ ہوئی، روانہ ہونے کے وقت بچی بلوغت کو نہیں پہنچی تھی، اس کی عمر تقریباً ۱۲ برس تھی، مکہ مکرّمہ پہنچنے پر عمرہ کا طواف کیا اور پھر سعی کی، اور سعی کے بعد بچی نے اپنی والدہ کو حیض آنے کی اطلاع ناواقفیت کی وجہ سے بڑی گھبراہٹ کے عالم میں کی، میں نے اس سے دریافت کیا کہ یہ کب سے شروع ہوا؟ تو اس نے بتایا کہ طواف کے دوران شروع ہوا۔ گویا اس حالتِ حیض میں اس نے پورا یا طواف کا بیشتر حصہ ادا کیا، اور پھر اسی حالت میں سعی بھی کی۔ ایسی صورت میں اس بچی کے اس فعل پر جو ناواقفیت کے عالم میں ہوا، کوئی چیز واجب ہوگی؟ اگر ہوگی تو کیا چیز ادا کرنی ہوگی؟

ج… اس کو چاہئے تھا کہ عمرہ کا اِحرام نہ کھولتی، بلکہ پاک ہونے کے بعد دوبارہ طواف اور سعی کرتی۔ بہرحال چونکہ اس نے اِحرام نابالغی کی حالت میں باندھا تھا اس لئے اس پر دَمِ جنایت نہیں، مناسک مُلَّا علی قاری میں ہے:

          ”(وان ارتکب) أیّ الصبی شیئًا من المحظورات (لا شیٴ علیہ) أیّ ولو بعد بلوغہ لعدم تکلیفہ قبلہ۔“                                    (ص:۴۹)
          ترجمہ:… ”اور اگر بچے نے ممنوعاتِ اِحرام میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا تو اس کے ذمہ کچھ نہیں، خواہ یہ ارتکاب بلوغ کے بعد ہو، کیونکہ وہ اس سے پہلے مکلف نہیں تھا۔“

معذور شخص طواف اور دوگانہ نفل کا کیا کرے؟
س… معذور شخص کو طواف کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا کیسا ہے؟
ج… جیسے فرض نماز پڑھتا ہے ویسے ہی دوگانہ طواف پڑھے، یعنی کھڑے ہوکر، اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو پھر بیٹھ کر پڑھے، اور طواف خود یا کسی کے سہارے سے کرے یا پھر ڈولی میں جیسے کہ عام معذور لوگ وہاں کرتے ہیں۔
آبِ زم زم پینے کا طریقہ
س… آبِ زم زم کے متعلق حدیث شریف میں حکم ہے کہ کھڑے ہوکر پیا جائے۔ عرض ہے کہ یہ حکم صرف حج و عمرہ ادا کرتے وقت ہے یا کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ پیا جائے تو کھڑے ہوکر اور قبلہ رُخ ہوکر پینا چاہئے؟ یا قبلہ رُخ ہونے کی پابندی نہیں ہے؟ کیونکہ حاجی صاحبان جب اپنے ساتھ آبِ زم زم لے جاتے ہیں تو وہاں بعض لوگ کھڑے ہوکر پیتے ہیں اور بعض لوگ بیٹھ کر پیتے ہیں۔
ج… آبِ زم زم کھڑے ہوکر قبلہ رُخ ہوکر پینا مستحب ہے، حج و عمرہ کی تخصیص نہیں۔

Post Top Ad

loading...