تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعرات، 26 ستمبر، 2013

قربانی کس پر واجب ہے؟

چاندی کے نصاب بھر مالک ہوجانے پر قربانی واجب ہے
س… قربانی کس پر واجب ہوتی ہے؟ مطلع فرمائیں۔
ج… قربانی ہر اس مسلمان عاقل، بالغ، مقیم پر واجب ہوتی ہے، جس کی ملک میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا مال اس کی حاجاتِ اَصلیہ سے زائد موجود ہو، یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات ہوں، یا مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان یا مسکونہ مکان سے زائد کوئی مکان، پلاٹ وغیرہ۔
          قربانی کے معاملے میں اس مال پر سال بھر گزرنا بھی شرط نہیں، بچہ اور مجنون کی ملک میں اگر اتنا مال ہو بھی تو اس پر یا اس کی طرف سے اس کے ولی پر قربانی واجب نہیں۔ اسی طرح جو شخص شرعی قاعدے کے موافق مسافر ہو اس پر بھی قربانی لازم نہیں۔ جس شخص پر قربانی لازم نہ تھی اگر اس نے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خرید لیا تو اس پر قربانی واجب ہوگئی۔
قربانی صاحبِ نصاب پر ہر سال واجب ہے
س… قربانی جو کہ سب سے پہلے اپنے اُوپر واجب ہے اور پھر دُوسروں پر، کیا ایک دفعہ کرنے سے واجب پورا ہوجاتا ہے یا ہر سال اپنے اُوپر کرنی واجب ہوتی ہے؟
ج… قربانی صاحبِ نصاب پر زکوٰة کی طرح ہر سال واجب ہوتی ہے، قربانی کے واجب ہونے کے لئے نصاب پر سال گزرنا بھی ضروری نہیں۔
          ۱:… کسی شخص نے قربانی کی منّت مانی ہو تو اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔
          ۲:… کسی شخص نے مرنے سے پہلے قربانی کی وصیت کی ہو اور اتنا مال چھوڑا ہو کہ اس کے تہائی مال سے قربانی کی جاسکے تو اس کی طرف سے قربانی کرنا واجب ہے۔
          ۳:… جس شخص پر صدقہٴ فطر واجب ہے، اس پر قربانی کے دنوں میں قربانی کرنا بھی واجب ہے، پس جس شخص کے پاس رہائشی مکان، کھانے پینے کا سامان، استعمال کے کپڑوں اور روز مرّہ استعمال کی دُوسری چیزوں کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا نقد روپیہ، مالِ تجارت یا دیگر سامان ہو، اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔

          Y:… مثلاً: ایک شخص کے پاس دو مکان ہیں، ایک مکان اس کی رہائش کا ہے اور دُوسرا خالی ہے تو اس پر قربانی واجب ہے، جبکہ اس خالی مکان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو۔

          Y:… یا مثلاً: ایک مکان میں وہ خود رہتا ہو اور دُوسرا مکان کرایہ پر اُٹھایا ہے تو اس پر بھی قربانی واجب ہے، البتہ اگر اس کا ذریعہ معاش یہی مکان کا کرایہ ہے تو یہ بھی ضروریاتِ زندگی میں شمار ہوگا اور اس پر قربانی کرنا واجب نہیں ہوگی۔

          Y:… یا مثلاً: کسی کے پاس دو گاڑیاں ہیں، ایک عام استعمال کی ہے اور دُوسری زائد تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔

          Y:… یا مثلاً: کسی کے پاس دو پلاٹ ہیں، ایک اس کے سکونتی مکان کے لئے ہے اور دُوسرا زائد، تو اگر اس کے دُوسرے پلاٹ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔

          Y:… عورت کا مہرِ معجل اگر اتنی مالیت کا ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہے، یا صرف والدین کی طرف سے دیا گیا زیور اور استعمال سے زائد کپڑے نصاب کی مالیت کو پہنچتے ہوں تو اس پر بھی قربانی کرنا واجب ہے۔

          Y:… ایک شخص ملازم ہے، اس کی ماہانہ تنخواہ سے اس کے اہل و عیال کی گزربسر ہوسکتی ہے، پس انداز نہیں ہوسکتی، اس پر قربانی واجب نہیں جبکہ اس کے پاس کوئی اور مالیت نہ ہو۔

          Y:… ایک شخص کے پاس زرعی اراضی ہے، جس کی پیداوار سے اس کی گزر اوقات ہوتی ہے، وہ زمین اس کی ضروریات میں سے سمجھی جائے گی۔

          Y:… ایک شخص کے پاس ہل جوتنے کے لئے بیل اور دودھیاری گائے بھینس کے علاوہ اور مویشی اتنے ہیں کہ ان کی مالیت نصاب کو پہنچتی ہے تو اس پر قربانی کرنا واجب ہے۔

          ۴:… ایک شخص صاحبِ نصاب نہیں، نہ قربانی اس پر واجب ہے، لیکن اس نے شوق سے قربانی کا جانور خرید لیا تو قربانی واجب ہے۔

          ۵:… مسافر پر قربانی واجب نہیں۔

          ۶:… صحیح قول کے مطابق بچے اور مجنون پر قربانی واجب نہیں، خواہ وہ مال دار ہوں

Post Top Ad

loading...