تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

بدھ، 25 ستمبر، 2013

ناجائز ذرائع سے حج کرنا۔



ناجائز ذرائع سے حج کرنا

غصب شدہ رقم سے حج کرنا
س… کسی کی ذاتی چیز پر دُوسرا آدمی قبضہ کرلے، جس کی قیمت پچاس ہزار روپے ہو اور وہ اس کا مالک بن بیٹھے تو کیا وہ حج کرسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ کا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بارے میں کیا فرمان ہے؟
ج… دُوسرے کی چیز پر ناجائز قبضہ کرکے اس کا مالک بن بیٹھنا گناہِ کبیرہ اور سنگین جرم ہے۔ ایسا شخص اگر حج پر جائے گا تو حج سے جو فوائد مطلوب ہیں وہ اس کو حاصل نہیں ہوں گے۔ حج پر جانے سے پہلے آدمی کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ اس کے ذمہ جو کسی کا حق واجب ہو اس سے سبکدوش ہوجائے، کسی کی امانت اس کے پاس ہو تو اس کو ادا کردے، اس کے بغیر اگر حج پر جائے گا تو محض نام کا حج ہوگا۔ حدیث میں ہے کہ: ”ایک شخص دُور سے (بیت اللہ کے) سفر پر جاتا ہے، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہیں، بدن میل کچیل سے اَٹا ہوا ہے، وہ رو رو کر اللہ تعالیٰ کو ”یا رَبّ! یا رَبّ!“ کہہ کر پکارتا ہے، حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، لباس حرام کا، اس کی غذا حرام کی، اس کی دُعا کیسے قبول ہو․․․!“
رشوت لینے والے کا حلال کمائی سے حج
س… میں جس جگہ کام کرتا ہوں اس جگہ اُوپر کی آمدنی بہت ہے، لیکن میں اپنی تنخواہ جو کہ حلال ہے علیحدہ رکھتا ہوں۔ کیا میں اپنی اس آمدنی سے خود اور اپنی بیوی کو حج کرواسکتا ہوں جبکہ میری تنخواہ کے اندر ایک پیسہ بھی حرام نہیں؟
ج… جب آپ کی تنخواہ حلال ہے تو اس سے حج کرنے میں کیا اِشکال ہے؟ ”اُوپر کی آمدنی“ سے مراد اگر حرام کا روپیہ ہے تو اس کے بارے میں آپ کو پوچھنا چاہئے تھا کہ: ”حلال کی کمائی تو میں جمع کرتا ہوں اور حرام کی کمائی کھاتا ہوں، میرا یہ طرزِ عمل کیسا ہے؟“
          حدیث شریف میں ہے کہ: ”جس جسم کی غذا حرام کی ہو، دوزخ کی آگ اس کی زیادہ مستحق ہے۔“
          ایک اور حدیث ہے کہ: ”ایک آدمی دُور دراز سے سفر کرکے (حج پر) آتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے ”یا رَبّ! یا رَبّ!“ کہہ کر گڑگڑا کر دُعا کرتا ہے، حالانکہ اس کا کھانا حرام کا، پینا حرام کا، لباس حرام کا، غذا حرام کی، اس کی دُعا کیسے قبول ہو؟“ الغرض حج پر جانا چاہتے ہیں تو حرام کمائی سے توبہ کریں۔
حرام کمائی سے حج
س… یہ تو متفقہ مسئلہ ہے کہ حج حرام کی کمائی کا قبول نہیں ہوتا، لیکن میں نے ایک مولوی صاحب سے سنا ہے کہ اگر یہ شخص کسی غیرمسلم سے قرض لے کر حج کے واجبات ادا کرے تو اُمید کی جاتی ہے اللہ سے کہ اس کا ح
ج قبول ہوجائے گا۔ پوچھنا یہ ہے کہ غیرمسلم کا مال تو ویسے بھی حرام ہے، یہ کیسے حج ادا ہوگا؟ براہِ مہربانی اس کی وضاحت فرمائیں۔
ج… غیرمسلم تو حلال و حرام کا قائل ہی نہیں، اس لئے حلال و حرام اس کے حق میں یکساں ہے۔ اور مسلمان جب اس سے قرض لے گا تو وہ رقم مسلمان کے لئے حلال ہوگی، اس سے صدقہ کرسکتا ہے، حج کرسکتا ہے، بعد میں جب اس کا قرض حرام پیسے سے ادا کرے گا تو یہ گناہ ہوگا، لیکن حج میں حرام پیسے استعمال نہ ہوں گے۔
تحفہ یا رشوت کی رقم سے حج کرنا
س… مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک مقامی دفتر میں ملازم ہوں، میری آمدنی اتنی نہیں ہے کہ میں اور میری اہلیہ پس انداز کرکے رقم جمع کریں اور حج پر جاسکیں، ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے، بلکہ فرض ہے، ہم حج فریضہ جلد از جلد ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اگر میرے پاس کچھ رقم جمع ہوجائے جو مجھے دفتر میں تھوڑی تھوڑی کرکے بطور تحفہ ملی ہو تو کیا ہم اس میں سے حج پر وہ رقم خرچ کرکے اس فرض کو ادا کرسکتے ہیں؟ یقین جانئے کہ میں نے کبھی حکومت سے کوئی بے ایمانی یا دھوکا دے کر رقم نہیں لی بلکہ زبردستی رقم دی گئی ہے بطور تحفہ۔ کیا ایسی رقم سے حج ادا کرنا جائز ہے؟ برائے مہربانی مجھے اس مسئلے سے آگاہ کریں۔
ج… حج ایک مقدس فریضہ ہے، مگر یہ اسی پر فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتا ہو۔ آپ کو جو رقم تحفے میں ملی ہے اگر آپ ملازم نہ ہوتے، کیا تب بھی یہ رقم آپ کو ملتی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو یہ تحفہ نہیں رشوت ہے اور اس سے حج کرنا جائز نہیں بلکہ جن لوگوں سے لی گئی ان کو لوٹانا ضروری ہے۔
سود کی رقم دُوسری رقم سے ملی ہوئی ہو تو اس سے حج کرنا کیسا ہے؟
س… اَزراہِ کرم شرعی اُصول کے مطابق آپ یہ بتائیں کہ ایک حلال اور جائز رقم کو سود کی رقم کے ساتھ (قصداً) ملادیا جائے تو کیا اس پوری رقم سے حج کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
ج… حج صرف حلال کی رقم سے ہوسکتا ہے۔
سعودی عرب سے زائد رقم دے کر ڈرافٹ منگواکر حج پر جانا
س… حج اسپانسر اسکیم ۱۹۸۷ء کی توسیع یکم مئی تک کردی گئی ہے، لہٰذا حجاجِ کرام سعودی عرب سے ڈرافٹ منگوا رہے ہیں۔ جن حضرات کے عزیز و اقارب وہاں موجود ہیں وہ تو قواعد و ضوابط کے مطابق ڈرافٹ دستیاب کرلیتے ہیں، اس کے علاوہ کئی حجاجِ کرام دُوسروں سے۲۸ہزار پاکستانی روپے کا ڈرافٹ منگواتے ہیں جس کے لئے انہیں ۳۲ہزار یا اس سے زائد رقم دینی پڑتی ہے، یعنی تقریباً ۴ہزار روپے بلیک منی ادا کرنی پڑتی ہے۔ اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ اس طرح زائد رقم دے کر ڈرافٹ منگوانا جائز ہے؟ اس طرح کے ڈرافٹ منگواکر حج کے لئے جائے اور حج ادا کرے تو کیا فرض ادا ہوجائے گا؟ اس میں کوئی نقص تو نہیں؟ عموماً پاکستانی روپے دئیے جاتے ہیں جو کہ ریال کی شکل میں وہاں ملتے ہیں، پھر وہیں بینک میں دئیے جاتے ہیں اور پاکستانی روپے کا ڈرافٹ مل جاتا ہے، وہ یہاں حج کی درخواست کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تو پھر حج کی درخواست منظور ہوتی ہے۔ لہٰذا اس طرح بھی حج ہوجائے گا یا کوئی کراہت یا نقص باقی رہے گا؟
ج… ۳۲ہزار میں ۲۸ہزار کا ڈرافٹ لینا تو سودی کاروبار ہے۔ البتہ اگر ۳۲ہزار کے بدلے میں ریالوں کا ڈرافٹ منگوایا جائے تو وہ چونکہ دُوسری کرنسی ہے، اس کی گنجائش نکل سکتی ہے، اور اگر کوئی ادارہ ڈرافٹ منگواکر دیتا ہو اور زائد رقم حقِ محنت کے طور پر وصول کرتا ہو تو یہ بھی جائز ہے۔
حج کے لئے ڈرافٹ پر زیادہ دینا
س… آج کل حج کے واسطے ڈرافٹ منگواتے ہیں کسی دلال کے ذریعہ، وہ ہوتا ہے تیس ہزار کا لیکن اس منگوانے والے کو پانچ ہزار اُوپر دیتے ہیں، یعنی پینتیس ہزار کا پڑجاتا ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس کو یہ پانچ ہزار کمیشن یا اس کی مزدوری کے طور پر دے سکتے ہیں یا نہیں؟ آیا یہ لین دین حلال ہے یا حرام؟ اسی طرح اگر اس کو بجائے پاکستانی روپے یا ڈالر یا دُوسرے ملک کی رقم دے دیں تو آیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟ کیونکہ اس میں تو جنسیت بدل چکی ہے۔
ج… ڈرافٹ منگوانے کی جو صورت آپ نے لکھی ہے یعنی ۳۵ہزار دے کر ۳۰ہزار روپے لینا یہ تو سمجھ میں نہیں آتی۔ البتہ اگر پانچ ہزار روپے ایجنٹ کو بطور اُجرت دئیے جائیں تو کچھ گنجائش ہوسکتی ہے، روپے کے بدلے ڈالر یا کوئی اور کرنسی لی جائے تو جائز ہے۔
بینک ملازمین سے زبردستی چندہ لے کر حج کا قرعہ نکالنا
س… ہم مسلم کمرشل بینک کے ملازم ہیں۔ ہماری یونین نے ایک حج اسکیم نکالی ہے اور ہر اسٹاف سے ۲۵روپے ماہوار لیتے ہیں، اس پیسے سے قرعہ اندازی کرکے دو اسٹاف کو حج پر جانے کو کہا ہے۔ کیا اس چندے سے وہ بھی ۲۵روپے ماہوار ایک سال تک، اس پیسے سے حج جائز ہے؟ کافی اسٹاف دِل سے یہ چندہ دینا نہیں چاہتا، مگر یونین کے ڈَر اور خوف سے ۲۵روپے ماہوار دے رہا ہے، کیا اس طرح جب دِل سے کوئی کام نہیں کرتا، کسی کے ڈَر اور خوف کے چندے سے حج جائز ہے؟
ج… جو صورت آپ نے لکھی ہے اس طرح حج پر جانا جائز نہیں۔ اوّل تو بینک سے حاصل ہونے والی تنخواہ ہی حلال نہیں، اور پھر زبردستی رقم جمع کرانا اور اس کا قرعہ نکالنا یہ دونوں چیزیں ناجائز ہیں۔
بونڈ کی اِنعام کی رقم سے حج کرنا
س… ٹی وی کے ایک پروگرام میں پروفیسر حسنین کاظمی صاحب میزبان کی حیثیت سے، پروفیسر علی رضا شاہ نقوی صاحب اور مولانا صلاح الدین صاحب جرنلسٹ سے چند مسائل پر گفتگو کر رہے تھے۔ من جملہ چند سوالوں کے ایک سوال یہ تھا کہ آیا پرائز بونڈ پر اِنعام حاصل کردہ رقم سے ”عمرہ یا حج“ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟ اس کا جواب پروفیسر علی رضا شاہ نقوی صاحب نے یہ دیا کہ پرائز بونڈ کی اِنعام حاصل کردہ رقم سے عمرہ اور حج جائز ہے۔ اس کی تشریح انہوں نے اس طرح فرمائی:
          ”اگر دس روپے کا ایک پرائز بونڈ کوئی خریدتا ہے تو گویا اس کے پاس دس روپے کی ایک رقم ہے جس کو جب اور جس وقت وہ چاہے کسی بینک میں جاکر اس پرائز بونڈ کو دے کر مبلغ دس روپے حاصل کرسکتا ہے۔“ مزید یہ تشریح فرمائی کہ: ”مثلاً ایک ہزار اَشخاص دس روپے کا ایک ایک پرائز بونڈ خریدتے ہیں، قرعہ اندازی کے بعد کسی ایک شخص کو مقرّر کردہ اِنعام ملتا ہے، مگر بقیہ ۹۹۹ اَشخاص اپنی اپنی رقم سے محروم نہیں ہوتے بلکہ ان کے پاس یہ رقم محفوظ رہتی ہے، اور اِنعام وہ ادارہ دیتا ہے جس کی سرپرستی میں پرائز بونڈ اسکیم رائج ہے، لہٰذا اس اِنعامی رقم سے عمرہ یا حج کرنا جائز ہے۔“ اس پروگرام کو کافی لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا اور سنا ہوگا، مولانا صاحب! آپ سے گزارش ہے کہ آپ قرآن و حدیث کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس مسئلے پر روشنی ڈالیں کہ آیا پرائز بونڈ کی حاصل کردہ اِنعامی رقم سے ”عمرہ یا حج“ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟
ج… پرائز بونڈ پر جو رقم ملتی ہے وہ جوا ہے اور سود بھی، جوا اس طرح ہے کہ بونڈ خریدنے والوں میں سے کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کو اس بونڈ کے بدلے میں دس روپے ہی ملیں گے یا مثلاً پچاس ہزار۔ اور سود اس طرح ہے کہ پرائز بونڈ خرید کر اس شخص نے متعلقہ ادارے کو دس روپے قرض دئیے اور ادارے نے اس روپے کے بدلے اس کو پچاس ہزار دس روپے واپس کئے، اب یہ زائد رقم جو اِنعام کے نام پر اس کو ملی ہے، خالص ”سود“ ہے، اور خالص سود کی رقم سے عمرہ اور حج کرنا جائز نہیں۔
حج کے لئے جھوٹ بولنا
س… سعودی گورنمنٹ نے پچھلے سال حج سے پہلے ایک قانون نافذ کیا تھا کہ کوئی بھی غیرملکی جو سعودیہ میں ملازمت کر رہا ہے اگر اس نے ایک مرتبہ حج کرلیا تو وہ دوبارہ پانچ سال تک حج ادا نہیں کرسکتا۔ ہماری کمپنی ہر اس شخص کو ایک فارم پُر کرنے کو دیتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ: ”میں نے پچھلے پانچ سال سے حج نہیں کیا ہے، مجھے حج ادا کرنے کی اجازت دی جائے“ نیچے اس شخص کے دستخط ہونے کے ساتھ ساتھ دو گواہوں کے نام اور دستخط بھی ہوتے ہیں۔
          اب اگر میں اپنی والدہ یا بیوی کو اس سال حج کروانا چاہوں تو مجھے بھی ان کے ساتھ محرَم کے طور پر حج کرنا ہوگا، اور اس کے لئے مجھے درج بالا فارم پُر کرکے یعنی جھوٹ لکھ کر اپنے دفتر میں جمع کرانا ہوگا، چونکہ میں نے دو سال پہلے حج کیا تھا۔ آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح جھوٹ لکھ کر حج کرنا جائز ہے؟ اور اس طرح حج ادا ہوجائے گا یا اس طرح حج کرنے والا گناہ گار ہوگا؟
ج… آپ جھوٹ کیوں بولیں؟ آپ یہ لکھ کر دیں کہ میں خود تو حج کرچکا ہوں لیکن اپنی والدہ یا بیوی کو حج کرانا چاہتا ہوں اس کی اجازت دی جائے۔
بلااجازت حج کے لئے عزّت و ملازمت کا خطرہ
س… میرے والدین اس سال حج پر آرہے ہیں ان شاء اللہ۔ سعودی گورنمنٹ نے قانون بنایا ہے کہ اگر یہاں کام کرنے والے ایک دفعہ حج کریں تو پھر دُوسرا حج پانچ سال کے بعد کریں۔ میں نے چار سال پہلے حج کیا ہے لہٰذا ایک سال باقی ہے۔ اب میرے والدین بوڑھے ہیں، کیا میں حج پر جاوٴں تو گناہ نہیں ہوگا؟ میرا خیال ہے کہ میں بغیر اطلاع کے چلا جاوٴں جبکہ میں جہاں کام کرتا ہوں وہ بھی مجھے اجازت نہ دیں گے، اس معاملے میں سعودی قانون کی خلاف ورزی ہوگی مگر دُوسری طرف میرے والدین کی مجبوری ہے۔
ج… آپ کا والدین کے ساتھ حج کرنا بلاشبہ صحیح ہے، مگر قانون کی خلاف ورزی کرنے میں عزّت اور ملازمت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، یہ آپ خود دیکھ لیں، اس کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں دے سکتا۔ البتہ شرعاً اس طرح حج ادا ہوجائے گا اور ثواب بھی ملے گا۔
حج کے لئے چھٹی کا حصول
س… میں حکومتِ قطر میں ملازمت کر رہا ہوں، حج سے متعلق مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں۔ قطر حکومت دورانِ ملازمت ہر ملازم کو حج کے لئے ایک ماہ کی چھٹی مع تنخواہ دیتی ہے، اور پہلا ہی حج فرض ہوتا ہے۔ میں صاحبِ حیثیت ہوں اور حج پر جانا چاہتا ہوں۔ کیا میں حکومتِ قطر کی حج چھٹیوں میں یا اپنی سالانہ چھٹیاں لے کر حج پر جاوٴں؟ کیا ان دونوں چھٹیوں میں فرق سے ثواب میں فرق پڑے گا؟ میرے دوست نے حکومتِ قطر کی چھٹیوں پر حج کیا ہے، اگر ثواب میں فرق ہو تو دوبارہ حج کرنے کے لئے تیار ہوں۔
ج… اگر قانون کی رُو سے چھٹی مل سکتی ہے اور اس کے لئے کسی غلط بیانی سے کام نہیں لینا پڑتا ہے تو حج کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
حکومت کی اجازت کے بغیر حج کو جانا
س… حکومت کی پابندی کے باوجود جو لوگ چوری یعنی غلط راستوں سے حج کرنے جاتے ہیں اور حج بھی نفلی کرتے ہیں، ان کے بارے میں کیا رائے ہے؟
ج… حکومت کے قانون کی خلاف ورزی میں ایک تو عزّت کا خطرہ ہے کہ اگر پکڑے گئے تو بے عزّتی ہوگی۔ دُوسرے بعض اوقات اَحکامِ شرعیہ کی خلاف ورزی بھی لازم آتی ہے، مثلاً بعض اوقات میقات سے بغیر اِحرام کے جانا پڑتا ہے، جس سے دَم لازم آتا ہے۔ اگر قانونی گرفت اور اَحکامِ شرعیہ کی مخالفت کا خطرہ نہ ہو تب تو مضائقہ نہیں ورنہ نفلی حج کے لئے وبال سر لینا ٹھیک نہیں۔
رشوت کے ذریعہ سعودی عرب میں ملازم کا والدین کو حج کرانا
س… ایک شخص ملک سے باہر کمانے کے لئے کوشش کرتا ہے اور کسی (ریکروٹنگ ایجنسی) یا ادارے کو بطور رشوت دس یا بارہ ہزار روپے دے کر سعودی ریال کمانے جاتا ہے، وہ ایک سال یا دو سال کے بعد اسپانسر شپ اسکیم کے تحت اپنے والد یا والدہ کو حج کراتا ہے، اس سلسلے میں یہ بتائیں کہ کیا اس طرح کا حج اسلام کے عین مطابق ہے؟ کیونکہ وہ شخص محنت کرکے تو کماتا ہے مگر جس طریقے سے وہ باہر گیا ہے یعنی رشوت دے کر تو اس کے والدین کا حج قبول ہوگا یا نہیں؟
ج… رشوت دے کر ملازمت حاصل کرنا ناجائز ہے، مگر ملازمت ہوجانے کے بعد اپنی محنت سے اس نے جو روپیہ کمایا وہ حلال ہے، اور اس سے حج کرنا یا اپنے والدین اور دیگر اعزّہ کو حج کرانا جائز ہے۔
خود کو کسی دُوسرے کی بیوی ظاہر کرکے حج کرنا
س… میرا مسئلہ دراصل کچھ یوں ہے کہ میرا نام محمد اکرم ہے، میرا ایک دوست جس کا نام محمد اشرف ہے۔ اب میرے دوست یعنی محمد اشرف کا کچھ تھوڑا سا جھگڑا اپنے کفیل کے ساتھ تھا، لہٰذا اس نے اپنی بیوی کو یہاں حج پر بلانا تھا، سو اس نے میرے نام پر اپنی بیوی کو حج پر بلایا، یعنی اس نے نکاح نامے پر بھی میرا نام لکھوایا اور کاغذی کاروائی میں وہ میری ہی بیوی بن کر یہاں آئی، اب میں ہی اسے لینے ایئرپورٹ پر گیا، ایئرپورٹ سیکورٹی والوں نے میرا اِقامہ دیکھ کر میری بیوی جان کو اس کو باہر آنے دیا (ایئرپورٹ سے)، اب عورت اپنے اصل خاوند کے پاس ہی ہے اور اس نے حج بھی کیا ہے۔ اب آپ یہ بتائیں کہ یہ حج صحیح ہے یا نہیں؟ اور کیا اگر یہ غلط ہے اور گناہ ہے تو میں کس حد تک مجرم ہوں؟
ج… فریضہٴ حج تو اس محترمہ کا ادا ہوگیا، مگر جعل سازی کے گناہ میں تینوں شریک ہیں، وہ دونوں میاں بیوی بھی اور آپ بھی۔

Post Top Ad

loading...