تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعرات، 26 ستمبر، 2013

قربانی کن جانوروں کی جائز ہے؟

          ۱:… بکری، بکرا، مینڈھا، بھیڑ، دُنبہ، گائے، بیل، بھینس، بھینسا، اُونٹ، اُونٹنی کی قربانی دُرست ہے، ان کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی دُرست نہیں۔
          ۲:… گائے، بھینس، اُونٹ میں اگر سات آدمی شریک ہوکر قربانی کریں تو بھی دُرست ہے، مگر ضروری ہے کہ کسی کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو، اور یہ بھی شرط ہے کہ سب کی نیت قربانی یا عقیقہ کی ہو، صرف گوشت کھانے کے لئے حصہ رکھنا مقصود نہ ہو، اگر ایک آدمی کی نیت بھی صحیح نہ ہو تو کسی کی بھی قربانی صحیح نہ ہوگی۔
          ۳:… کسی نے قربانی کے لئے گائے خریدی اور خریدتے وقت یہ نیت تھی کہ دُوسرے لوگوں کو بھی اس میں شریک کرلیں گے، اور بعد میں دُوسروں کا حصہ رکھ لیا تو یہ دُرست ہے۔
          لیکن اگر گائے خریدتے وقت دُوسرے لوگوں کو شریک کرنے کی نیت نہیں تھی بلکہ پوری گائے اپنی طرف سے قربانی کرنے کی نیت تھی، مگر اب دُوسروں کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے، تو یہ دیکھیں گے کہ آیا اس شخص کے ذمہ قربانی واجب ہے یا نہیں؟ اگر واجب ہے تو دُوسروں کو بھی شریک کر تو سکتا ہے مگر بہتر نہیں، اور اگر اس کے ذمہ قربانی واجب نہیں تھی تو دُوسروں کو شریک کرنا دُرست نہیں۔
          ۴:… اگر قربانی کا جانور گم ہوگیا اور اس نے دُوسرا خرید لیا، پھر اتفاق سے پہلا بھی مل گیا، تو اگر اس شخص کے ذمہ قربانی واجب تھی تب تو صرف ایک جانور کی قربانی اس کے ذمہ ہے، اور اگر واجب نہیں تھی تو دونوں جانوروں کی قربانی لازم ہوگئی۔
          ۵:… بکری اگر ایک سال سے کم عمر کی ہو خواہ ایک ہی دن کی کمی ہو تو اس کی قربانی کرنا دُرست نہیں، پورے سال کی ہو تو دُرست ہے۔ اور گائے یا بھینس پورے دو سال کی ہو تو قربانی دُرست ہوگی، اس سے کم عمر کی ہو تو دُرست نہیں۔ اور اُونٹ پورے پانچ سال کا ہو تو قربانی دُرست ہوگی۔
          ۶:… بھیڑ، یا دُنبہ اگر چھ مہینے سے زائد کا ہو اور اتنا فربہ یعنی موٹاتازہ ہو کہ اگر پورے سال والے بھیڑ دُنبوں کے درمیان چھوڑا جائے تو فرق معلوم نہ ہو تو اس کی قربانی کرنا دُرست ہے، اور اگر کچھ فرق معلوم ہوتا ہے تو قربانی دُرست نہیں۔
          ۷:… جو جانور اندھا یا کانا ہو یا اس کی ایک آنکھ کی تہائی روشنی یا اس سے زائد جاتی رہی ہو، یا ایک کان تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹ گیا ہو، تو اس کی قربانی کرنا دُرست نہیں۔
          ۸:… جو جانور اتنا لنگڑا ہو کہ صرف تین پاوٴں سے چلتا ہو، چوتھا پاوٴں زمین پر رکھتا ہی نہیں یا رکھتا ہے مگر اس سے چل نہیں سکتا تو اس کی قربانی دُرست نہیں۔ اور اگر چلنے میں چوتھے پاوٴں کا سہارا تو لیتا ہے مگر لنگڑاکر چلتا ہے تو اس کی قربانی دُرست ہے۔
          ۹:… اگر جانور اتنا دُبلا ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا تک نہ رہا ہو تو اس کی قربانی دُرست نہیں۔ اگر ایسا دُبلا نہ ہو تو قربانی دُرست ہے۔ جانور جتنا موٹا، فربہ ہو اسی قدر قربانی اچھی ہے۔
          ۱۰:… جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں یا زیادہ دانت جھڑ گئے ہوں اس کی قربانی دُرست نہیں۔
          ۱۱:… جس جانور کے پیدائشی کان نہ ہوں اس کی قربانی کرنا دُرست نہیں، اگر کان تو ہوں مگر چھوٹے ہوں اس کی قربانی دُرست ہے۔
          ۱۲:… جس جانور کے پیدائشی طور پر سینگ نہ ہوں اس کی قربانی دُرست ہے، اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گئے، تو صرف اُوپر سے خول اُترا ہے اندر کا گودا باقی ہے تو قربانی دُرست ہے، اگر جڑ ہی سے نکل گئے ہوں تو اس کی قربانی کرنا دُرست نہیں۔
          ۱۳:… خصی جانور کی قربانی جائز، بلکہ افضل ہے۔
          ۱۴:… جس جانور کے خارش ہو تو اگر خارش کا اثر صرف جلد تک محدود ہے تو اس کی قربانی کرنا دُرست ہے، اور اگر خارش کا اثر گوشت تک پہنچ گیا ہو اور جانور اس کی وجہ سے لاغر اور دُبلا ہوگیا ہو تو اس کی قربانی دُرست نہیں۔
          ۱۵:… اگر جانور خریدنے کے بعد اس میں کوئی عیب ایسا پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے اس کی قربانی دُرست نہیں، تو اگر یہ شخص صاحبِ نصاب ہے اور اس پر قربانی واجب ہے تو اس کی جگہ تندرست جانور خرید کر قربانی کرے، اور اگر اس شخص کے ذمہ قربانی واجب نہیں تھی تو وہ اسی جانور کی قربانی کردے۔
          ۱۶:… جانور پہلے تو صحیح سالم تھا مگر ذبح کرتے وقت جو اس کو لٹایا تو اس کی وجہ سے اس میں کچھ عیب پیدا ہوگیا تو اس کا کچھ حرج نہیں، اس کی قربانی دُرست ہے۔

Post Top Ad

loading...