تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

بدھ، 18 ستمبر، 2013

قربانی کا گوشت۔

قربانی کے گوشت کی تقسیم
س… قربانی کے گوشت کی تقسیم کس طرح کرنی چاہئے؟
ج… جس جانور میں کئی حصہ دار ہوں تو گوشت وزن کرکے تقسیم کیا جائے، اندازہ سے تقسیم نہ کریں۔ افضل ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصے کرکے ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے لئے رکھا جائے، ایک حصہ احباب و اعزّہ میں تقسیم کرے، ایک حصہ فقراء و مساکین میں تقسیم کرے۔ اور جس شخص کے عیال زیادہ ہوں وہ تمام گوشت خود بھی رکھ سکتا ہے۔ قربانی کا گوشت فروخت کرنا حرام ہے، ذبح کرنے والے کی اُجرت میں گوشت یا کھال دینا جائز نہیں، اُجرت علیحدہ سے دینی چاہئے۔
قربانی کے بکرے کی رانیں گھر میں رکھنا
س… قربانی کے لئے حکم ہے کہ جانور صحت مند خوبصورت ہو اور ذبح کرنے کے بعد اس کو برابر تین حصوں میں تقسیم کیا جائے، جبکہ اس وقت یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ قربانی کے بعد بکرے کی ران وغیرہ مکمل اپنے لئے رکھ لیتے ہیں اور بعد میں ہوٹلوں میں روسٹ کراکر لے جاتے ہیں، بلکہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بکرے کی دونوں ران مع کمر کے رکھ دی جاتی ہیں۔ اس مسئلے پر حدیث اور شریعت کی رُو سے روشنی ڈالیں تاکہ قربانی کرنے والوں کو صحیح علم ہوجائے۔
ج… افضل یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں، ایک فقراء کے لئے، ایک دوست احباب کے لئے، اور ایک گھر کے لئے۔ لیکن اگر سارا تقسیم کردیا جائے یا گھر میں رکھ لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ قربانی صحیح نیت کے ساتھ کی تھی، صرف گوشت کھانے یا لوگوں میں سرخ رُوئی کے لئے قربانی نہیں کی تھی۔
قربانی کا گوشت شادی میں کھلانا
س… ہمارے محلے میں ایک صاحب نے گائے کی قربانی تیسرے دن کی اور چوتھے دن انہوں نے اپنی لڑکی کی شادی کی اور قربانی کا آدھے سے زیادہ گوشت دعوتِ شادی میں لوگوں کو کھلادیا، کیا ان کی قربانی ہوگئی؟
ج… اگر قربانی صحیح نیت سے کی تھی تو اِن شاء اللہ ضرور قبول ہوگی، اور قربانی کا گوشت گھر کی ضرورت میں استعمال کرنا جائز ہے، اگرچہ افضل یہ ہے کہ ایک تہائی صدقہ کردے، ایک تہائی دوست احباب کو دے، ایک تہائی خود کھائے۔
کیا سارا گوشت خود کھانے والوں کی قربانی ہوجاتی ہے؟
س… بقرعید پر ہمارے گھر قربانی ہوتی ہے تو میرے بھائی اس کے تین حصے کرتے ہیں، ایک گھر میں رکھ لیتے ہیں، دو حصے محلے اور رشتہ داروں میں تقسیم کردیتے ہیں، جبکہ ہمارے محلے میں اکثر لوگ سارا گوشت گھر ہی میں کھالیتے ہیں، محلے اور رشتہ داروں میں ذرا سا تقسیم کردیتے ہیں اور کئی دن تک کھاتے ہیں۔ ضرور بتائیے گا کہ کیا ایسے لوگوں کی قربانی ہوجاتی ہے؟
ج… آپ کے بھائی جس طرح کرتے ہیں وہ بہتر ہے، باقی سارا گوشت اگر گھر پر کھالیا قربانی جب بھی صحیح ہے، بشرطیکہ نیت قربانی کی ہو، صرف گوشت کھانے کی نہ ہو۔
قربانی کے گوشت کا اسٹاک جائز ہے
س… شرعی اَحکام کے مطابق قربانی کے گوشت کی تقسیم غرباء، مسکین، عزیز و اقارب، اَڑوس پڑوس اور جو مستحق ہو ان میں کی جائے، لیکن عام طور پر یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ اکثر گھروں میں بقرعید کی قربانی کے گوشت کا کچھ حصہ تو تقسیم کردیا جاتا ہے اور زیادہ بچا ہوا گوشت فرج، ڈیپ فریزر میں بھر کر رکھ دیا جاتا ہے اور اپنے استعمال کے ساتھ ساتھ نیاز نذر میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ گوشت آئندہ بقرعید تک استعمال میں آتا رہتا ہے جبکہ زیادہ عرصہ فرج اور فریزر میں رہنے سے اس کی ماہیت اور ذائقہ بھی بے حد خراب ہوجاتا ہے، اور اسے دیکھنے اور کھانے میں کراہیت آتی ہے، لہٰذا اس سلسلے میں شرعی طور پر مطلع فرمادیجئے کہ کیا بقرعید کا گوشت آئندہ بقرعید (ایک سال) تک اسٹاک کیا جاسکتا ہے؟
ج… افضل تو یہ ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں، ایک حصہ گھر کے لئے، ایک دوست احباب کے لئے، اور ایک فقراء و مساکین کے لئے، لیکن اگر کوئی شخص سارا گھر میں رکھ لیتا ہے یا ذخیرہ کرلیتا ہے تب بھی جائز ہے، اور جب گوشت کا رکھنا جائز ہوا تو اس کا استعمال کسی بھی جائز مقصد کے لئے صحیح ہے۔
قربانی کا گوشت غیرمسلم کو دینا
س… کیا قربانی کا گوشت غیرمسلم کو دیا جاسکتا ہے؟
ج… دیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ نذر کی قربانی نہ ہو۔
منّت کی قربانی کا گوشت صرف غریب لوگ کھاسکتے ہیں
س… میری والدہ صاحبہ نے میری نوکری کے سلسلے میں منّت مانی تھی کہ اگر میرے بیٹے کو مطلوبہ جگہ نوکری مل گئی تو میں اللہ کے نام پر قربانی کروں گی، بحمداللہ نوکری مل گئی، خدا کا شکر ہے، لیکن کافی عرصہ گزر گیا ابھی تک منّت پوری نہیں کی، اس میں سستی اور دیر ضرور ہوئی ہے لیکن اس میں ہماری نیت میں کوئی فتور نہیں، صرف یہ مطلوب ہے کہ اس کا طریقہٴ کار کیا ہو جو صحیح اور عین اسلامی ہو؟ اس میں اختلافِ رائے یہ ہے کہ جس جانور کی قربانی کی جائے اس کا گوشت رشتہ داروں، گھر کے افراد کے لئے جائز ہے یا یہ پورا کا پورا غریب و مسکین یا کسی دارالعلوم مدرسہ کو دے دینا چاہئے؟
ج… آپ کی والدہ کے ذمہ قربانی کے دنوں میں قربانی واجب ہے، اور اس گوشت کا فقراء پر تقسیم کرنا لازم ہے۔ منّت کی چیز غنی اور مال دار لوگ نہیں کھاسکتے جس طرح کہ زکوٰة اور صدقہٴ فطر مال داروں کے لئے حلال نہیں۔

Post Top Ad

loading...